شہباز شریف مردِ بحران!

09:06 AM, 6 Apr, 2026

ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ کے بھیانک نتائج نکلنا شروع ہو چکے ہیں ۔ دنیا براہ راست کسی نہ کسی صورت اب اس جنگ سے متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی آگ براہ راست ہم تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر کی زیادہ تر تیل اور گیس کی ضروریات خلیجی ممالک سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ عالمی منڈی میں عدم استحکام، سٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاو¿، آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایندھن کی فراہمی متاثر اور اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی سونامی نے جہاں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہیں پاکستان بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکومت پاکستان کی کی اعلیٰ حکمت عملی سے ملک میں حالات کنٹرول میں ہیں لوگوں کو ایندھن میسر ضرور ہے تاہم زمینی حقائق یہی ہیں کہ آئے روز پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عام عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ حکومت ایک حد تک تو قیمتوں کو کنٹرول کر سکتی ہے تاہم یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ تیل و گیس کی ملکی پیداوار ضروریات سے بہت کم ہے اور ہمیں ایندھن باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ قیمتوں کو مصنوعی طور پر زیادہ دیر تک کنٹرول نہیں رکھا جا سکتا ۔ اس حوالے سے عوام کو بھی حالات و واقعات کے تناظر میں اپنی روزمرہ زندگی کو بدلنا ہو گا، کفایت شعاری اپنانا ہو گی اور حکومتی اقدامات اور ہدایات کی روشنی میں آگے بڑھنا ہو گا۔ یقینا ہم معاشی طور پر بہت مضبوط نہیں ہیں۔ 2016 میں چلتے، آگے بڑھتے، ترقی کرتے پاکستان کی پیٹھ میں اس وقت لاڈلا ریاست پاکستان عمران خان نے ایسا خنجر گھونپا تھا جس کا زخم مندمل ہونے میں ناجانے کتنا وقت لگے اور کتنی نسلوں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اگر پاکستان نواز شریف کی سوچ اور ویژن پر چلتا رہتا تو شاید آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔ بہرحال اب حالات کا سامنا کرنا ہے اور خوش قسمتی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی شکل میں ایک انتہائی منجھے ہوئے سیاست دان، منظم اور ویژنری وزیراعظم موجود ہیں جو اپنی ان تھک محنت ، لگن اور کام کرنے کی صلاحیتوں کی بدولت دنیا بھر میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کا اقرار ان کے بد ترین سیاسی مخالفین بھی کرتے ہیں۔ یہ وہی مرد حر تھا جس نے فیض حمید اور عمران خان کی سازشوں اور ملک دشمنی کو زیر کرتے ہوئے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا تھا اور شبانہ روز محنت سے پاکستان کو ایک بات پھر نواز شریف کی ہدایات کی روشنی میں اسی راہ پر گامزن کیا جس کی منزل کامیابی، خود مختاری اور خود انحصاری ہے۔ یقینا شہباز شریف صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اس شخص نے اپنی سیاست قربان کر دی، حالات کا جبر سہا، یہاں تک کہ اپنوں کی مخالفت بھی دیکھی مگر سر جھکا کر وہ پاکستان کیلئے سب برداشت کرتے رہے۔ بھارت سے جنگ جیتی، غزہ میں امن کیلئے نمایاں کردار ادا کیا، ایران امریکہ جنگ میں سفارتی محاذ پر پاکستان کا نام روشن کیا اور اپنی حکمت عملی سے اس جنگ اور اس کی آگ سے عوام کو براہ راست متاثر ہونے سے بچایا۔ یہی ہے رخت سفر میر کارواں کیلیے۔ حالاتِ حاضرہ کا تقاضا یہی ہے کہ عوام حکومت وقت کے ساتھ یکجہتی اور قومی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرے اور اپنے روزمرہ معاملات کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے میانہ روی اختیار کرے۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، حکومت وقت نے اپنے اخراجات اور غیر ضروری معاملات، تقاریب ختم کر دی ہیں۔ وزیر اعظم تو پہلے ہی پاکستان کے خزانے سے ایک روپیہ نہیں لیتے ان کے دفاتر کی ضروریات یہاں تک کہ کیمپ آفس بھی اپنی ذاتی جیب سے چلتے ہیں، وفاقی وزرا نے بھی چھ ماہ تک تنخواہیں نہ لینے کا اعلان کیا یے جو یقینا احسن قدم ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے جتنا بھی ہو سکے ریلیف عام آدمی تک پہنچانے کا بندو بست کیا ہے۔ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق وزیراعظم کا بڑا عوامی ریلیف پیکیج جاری کیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں فوری 80 روپے فی لیٹر کمی 458 سے کم کر کے 378 روپے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو تین ماہ تک 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان، جس کے طریقہ کار کا تعین متعلقہ صوبائی حکومتیں جبکہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کرے گی۔ اسی طرح وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر ٹرانسپورٹ سیکٹر، گڈز ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ بس، ٹرک، ویگن، ڈلیوری وین کیلئے ماہانہ سبسڈی وفاقی حکومت ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے براہِ راست فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ زرعی شعبے اور اشیائے خورو نوش کی ترسیل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزل پر بوجھ کم رکھا گیا ہے، چھوٹے کسانوں کے لیے فی ایکڑ مالی معاونت متعلقہ صوبائی حکومتیں فراہم کریں گی۔ پاکستان ریلوے کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور پنجاب اور اسلام آباد میں ایک ماہ تک مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔ حکومت پنجاب ایک بار پھر بازی لے گئی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ نے پنجاب بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر فری کر دی گئی ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک عوام کو سب سے بڑا ریلیف دے دیا گیا ہے۔ یقینا یہ حکومت پنجاب کا احسن قدم ہے باقی صوبوں کو بھی اس حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبے بھی اگر بوجھ برداشت کریں گے اور تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کیلئے قربانی دیں گے تو یقینا ہم کامیابی کے ساتھ اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس کے نظام میں بھی ہنگامی طور پر جز وقتی اصلاحات نافذ کی جائیں اشرافیہ پر ٹیکس لگا کر اسے خالصتاً غریبوں کی بہتری اور سبسڈی کیلیے استعمال کیا جائے۔ اشرافیہ کو بھی اس ملک کیلیے ایک قدم آگے آ کر حق ادا کرنا چاہیے کیونکہ ان کو یہ حیثیت پاکستان نے ہی دی ہے۔ ہمیشہ اشرفیہ کو ٹیکس نیٹ میں چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں انویسٹمنٹ کریں اور کاروبار کو آگے بڑھائیں تاہم وقت کی صورت ہے کہ اشرافیہ پاکستان کی محبت کا قرض اتارے۔

مزیدخبریں