بلوچستان میں ملک دشمن عناصر کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے باوجود اس صوبے نے ترقی اور امن کی جانب اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ اس دوران ترقی کے کئی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں جبکہ متعدد منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ بلوچستان کی خوشحالی کے لیے جہاں حکومت بلوچستان بھرپور کاوشیں کر رہی ہے، وہیں جنوبی بلوچستان میں ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کا کردار نہایت اہم اور نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ جنوبی بلوچستان اپنے سنگلاخ پہاڑوں، وسیع و عریض صحرائوں اور دشوار گزار راستوں کے باعث نہ صرف ایک منفرد جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے بلکہ قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کی موجودگی کے باعث مختلف چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ دشمن کی نظریں ہمیشہ جنوبی بلوچستان پر مرکوز رہتی ہیں، ایسے میں اس خطے کی حفاظت اور یہاں کے عوام کا تحفظ ایک مسلسل ذمہ داری اور ہمہ وقت جاری رہنے والا مشن بن جاتا ہے۔
ایف سی بلوچستان (سائوتھ) نے زندگی کے ہر شعبے میں قابل ستائش خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان خدمات میں سرحدوں کی حفاظت، امن و امان کا قیام، تعلیم کی ترویج، صاف پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات کی بہتری اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیاں شامل ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں کی سرگرمیوں کا مختصر ذکر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایف سی (ساﺅتھ) اپنی ذمہ داریوں کو کس قدر احسن انداز میں نبھا رہی ہے۔ تربت میں حالیہ موسلا دھار بارشوں نے جب نظام زندگی کو مفلوج کر دیا تو ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کے جوان بلا تاخیر میدان عمل میں اتر آئے۔ دشوار گزار راستوں اور خطرناک حالات کے باوجود ریسکیو آپریشنز، امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ خاندانوں تک فوری مدد کی فراہمی نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ فورس محض ایک سکیورٹی ادارہ نہیں بلکہ خد مت انسانیت کا عملی مظہر ہے، جو ہر مشکل گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ ایف سی بلوچستان (سائوتھ) بلوچ نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور تفریح پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے اس فرمان ”عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں، نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں“ کے مطابق نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی ویژن کے تحت دشت سکا¶ٹس نے یونیورسٹی آف تربت کے طلبا کے لیے میرانی ڈیم کا معلوماتی و تربیتی دورہ منعقد کیا، جس میں نوجوانوں کو آبی وسائل کی اہمیت، ڈیم کے نظام اور علاقائی ترقی میں اس کے کردار سے روشناس کرایا گیا۔ طلبا نے نہ صرف ڈیم کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کیا بلکہ یہ بھی سیکھا کہ پانی جیسے قیمتی وسائل کی مو¿ثر منصوبہ بندی کس طرح ایک پورے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کی جانب سے ”ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا، دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا“ کے عملی مظاہرے کے طور پر مختلف علاقوں میں جرگوں اور کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا۔ جن میں ضلعی انتظامیہ، علاقائی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ان اکٹھ میں علاقائی سکیورٹی، مقامی مسائل، تعلیم، صحت اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ جرگے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی مضبوط علامت بن کر سامنے آئے۔ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کیے گئے۔ بلیدہ میں پرواز فا¶نڈیشن کے تعاون سے میڈیکل اینڈ ڈینٹل سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا، جو مقامی آبادی کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ اس سنٹر میں او پی ڈی، ڈینٹل یونٹ، لیبارٹری اور دیگر بنیادی طبی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ پیچیدہ امراض کے مریضوں کو تشخیص کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تربت منتقل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف صحت کے شعبے میں ایک اہم خلا کو پُر کیا بلکہ عوام کے لیے علاج تک رسائی کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ ”ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے“ کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئے مکران سکا¶ٹس نے تربت شہر میں اپنی مدد آپ کے تحت ایک گرنے کے قریب خطرناک برقی کھمبے کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کی، جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔ یہ اقدام اپنی نوعیت میں نہایت اہم تھا، جس نے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا اور ایف سی کی عوامی خدمات کو مزید نمایاں کیا۔ حکومت پاکستان کے ”منشیات سے پاک پاکستان“ ویژن کے تحت انسداد منشیات کے محاذ پر بھی ایف سی بلوچستان (سا¶تھ) کی مو¿ثر کارروائیاں جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں آواران ملیشیا نے انٹیلی جنس بنیادوں پر بلگتر کے علاقے میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک زمیاد گاڑی کو ناکہ بندی کے دوران روکا۔ تفصیلی تلاشی کے دوران 138 کلوگرام آئس، 29 کلوگرام ہیروئن اور 11 کلوگرام افیون برآمد کی گئی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 17 کروڑ 43 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ برآمد شدہ منشیات کو تحویل میں لے کر گاڑی میں موجود ایک مرد، ایک خاتون اور تین بچوں کو، جو خود کو فیملی ظاہر کر رہے تھے، موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں گرفتار ملزمان اور ضبط شدہ منشیات کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کے حوالے کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ جنوبی بلوچستان کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم کے تحت زیرو ٹالرنس پالیسی کے مطابق ایف سی بلوچستان (سا¶تھ) منظم منشیات کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مسلسل اور مو¿ثر اقدامات کر رہی ہے۔ ایف سی بلوچستان (سا¶تھ) کا یہ جذبہ اور عزم عوام کے دلوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ”تحفظ اور جذبہ ایثار“ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے، جو ہر قدم پر بلوچ عوام کی خدمت اور مدد میں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی بلوچستان میں ایف سی ہر مشکل گھڑی میں عوام کا سہارا بن کر اپنی پہچان قائم کیے ہوئے ہے اور علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار کر رہی ہے۔ خراج عقیدت کے ان اشعار کے ساتھ اجازت:
جنوبی بلوچستان کی سرحدوں کے نگہبان
ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کے دلیر جوان
دشمنوں کے سامنے سینہ سپر کھڑے ہیں
ان کے حوصلے سنگلاخ چٹانوں سے بڑے ہیں
ان کے دم سے جنوبی بلوچستان میں قائم ہے امن
یہ غیور، بہادر عوام کی عزتوں کے ضامن ہیں
تحفظ اور جذبہ ایثار، ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کا شعار
09:06 AM, 6 Apr, 2026