میں معذرت خواہ ہوں

09:53 AM, 6 Apr, 2025

میں معذرت خواہ ہوں لیکن یہ کہنا چاہتی ہوں کہ 
اگر آپ معذور ہیں یا کسی اور طرح کی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہیں اور پھر بھی شادی کر لیتے ہیں تو براہ مہربانی پھر ایک سے زیادہ بچے پیدا نہ کریں ، رزاق بلاشبہ اللہ کی پاک ذات ہے لیکن بچے کو صرف ماں کا دودھ نہیں چاہیے ، ہر گزرتے لمحے اس کی ضروریات بڑھتی ہیں اور ماں کو بھی اچھی خوراک کی ضرورت ہے۔ لیکن وطن عزیز میں سب سے زیادہ دلچسپ مشغلہ بچے پیدا کرنا ہے۔ لوگ نہ اپنے وسائل دیکھتے ہیں اور نہ ہی ریاست کے بس انہیں ہر سال کیلنڈر نیا چاہیے۔ آج سے چالیس سال پہلے تک شاید چار پانچ بجے ایک نارمل متوسط طبقے کا ایشو نہیں تھے لیکن آج اسی طبقے کے بننے والے والدین ایک سے دو بچے ہی پیدا کر رہے ہیں تاکہ انہیں ایک اچھی زندگی دے سکیں اور یہ سارے والدین بھی نارمل ہیں لیکن جہاں پر بیماری ، بے روزگاری اور غربت یہ تینوں عناصر ہیں وہاں شادی اور پھر بچہ نہیں بلکہ ڈھیر سارے بچوں کی پیدائش ملک کے وسائل کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر بھی ظلم ہے۔
غیر معیاری لیکن مہنگی خوراک، آلودہ پانی اور آب و ہوا ، غیر محفوظ طرز زندگی ، مہنگائی ، فرسٹریشن ، غیر انسانی جرائم اور بہت کچھ صرف بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے طرز زندگی کی وجہ سے کرہ ارض آج غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ پاکستان میں مسائل کی وجہ جہان حکمرانوں کی کرپشن اور اشرافیہ کا لالچ ہے کہ سب کچھ ان کے تصرف میں آ جائے تو وہیں محروم طبقات کی جانب سے اپنے وسائل کو پس پشت ڈال کر آبادی میں بے پناہ اضافہ بھی شامل ہے۔ بچے پیدا کرنا کوئی جرم نہیں ہے بس اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی عادت اپنانا ہو گی تاکہ اپنی محدود آمدنی میں بھی آسانی سے گزر بسر کی جا سکے۔اس سال رمضان میں راشن تقسیم کرتے ہوئے یہی باتیں ذہن کے دریچوں میں گردش کرتی رہیں کیونکہ کافی اس طرح کے کچھ لوگوں سے واسطہ پڑا۔جیسے ایک صاحب جن کے پہلی بیوی سے گیارہ بچے تھے اور اس کے باوجود اس نے ایک اور شادی کی اور اس سے بھی اسکے تین بچے ہیں اور وہ گاڑی پر کوڑا اٹھاتا ہے۔ کہنے لگا کہ میری دوسری بیوی کے لیے بھی راشن دیں ، اس پر واضح کیا کہ شادیاں بھی تم کرو اور پھر بچوں کا ڈھیر لگاؤ اور خرچہ سماج اٹھائے کہ محروم طبقے کا بندہ ہے ، ہمارا جرم یہ تھا کہ پہلی بیوی کو راشن دیا تھا کیونکہ یہ خرچہ پانی نہیں دیتا۔
پاکستان واقعی آبادی کے ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو 2050 تک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں پچاس فیصد حصہ ڈالیں گے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی 24 اکتوبر 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک پاکستان کی شہری آبادی کا تناسب بڑھ کر چالیس فیصد ہو جائے گا اور دس کروڑ کے لگ بھگ لوگ شہروں میں آباد ہوں گے۔ وفاقی ادارہ شماریات نے پاکستان کی ساتویں لیکن پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی تفصیلی رپورٹ اگست 2023میں جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ نوے ہزار ہے جس میں 51.5 فیصد مرد اور 48.5 فیصد خواتین ہیں۔اس طرح پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جہاں دیہی آبادی 61 فیصد اور شہری آبادی 39 فیصد ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح اڑھائی فیصد سالانہ ہے اور قومی وسائل میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ملکی آبادی میں ہر سال پچپن لاکھ سے زائد نفوس آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔
آبادی کے حوالے سے ان کلیدی اعدادوشمار کے مطابق ملکی آبادی 2.1% سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے، جو اسے دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادیوں میں سے ایک بنا رہی ہے۔پاکستان میں کل شرح پیدائش (TFR) فی عورت 3.6 بچے ہیں، جو 2.1 کی تبدیلی کی شرح سے زیادہ ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ پاکستان کے وسائل بشمول پانی، خوراک، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ آبادی کا بحران پاکستان میں غربت اور عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے، آبادی کا ایک بڑا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمی تغیرات اور انحطاط میں بھی حصہ ڈال رہی ہے۔ تاہم یہاں اگر تھوڑا سا غیر جانب داری کا مظاہرہ کیا جائے تو بہت سے پاکستانی، خاص طور پر دیہی علاقوں میں مقیم پاکستانیوں کی کثیر تعداد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات اور تعلیم تک رسائی سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے شرح پیدائش بلند ہے اور کم عمری میں شادی کو بھی صحیح سمجھتی ہے جبکہ کم عمری میں شادی کے ریاستی قوانین کی پاسداری زیادہ تر شہروں کی حد تک ہی کامیاب ہے۔
آبادی میں مزید اضافے کی روک تھام سے متعلق حکومتی اقدامات پر نظر ڈالیں تو پاکستانی حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات اور تعلیم فراہم کرنے کے لیے پاپولیشن ویلفیئر پروگرام شروع کیا ، لیکن اس کے خاطر خواہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ حکومت نے آبادی کے بحران سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی آبادی کی پالیسی بھی تیار کی لیکن عمل درآمد ندارد جبکہ اقوام متحدہ آبادی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تکنیکی اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے اسکے ساتھ ورلڈ بینک بھی پاکستان کو خاندانی منصوبہ بندی کی روک تھام کی خدمات کو بہتر بنانے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بھی سپورٹ فراہم کرتا ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی میں وسائل اور آبادی کے درمیان تناسب اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی آبادی کو اپنے دستیاب ملکی وسائل کے مطابق کنٹرول کر لیا ہے جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں آبادی میں ہوشربا اضافہ ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس سنگین مسئلے نے غربت ، افلاس ، جہالت ، بیماریوں اور پسماندگی کو فروغ دیا ہے۔ پاکستان کا آبادی کا بحران ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے قومی سطح پر ہر مکتبہ فکر کے ساتھ مشترکہ کثیر جہتی نقطہ نظر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر علمائے کرام اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزیدخبریں