کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے جماعت اسلامی کی چار سالہ جدوجہد کے بعد پاکستان کے عوام کو بجلی کے نرخوں میں کمی دیکھنے میں آئی اس پر پاکستان کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں کہ بجلی کے نرخ انہی چار سال میں بہت زیادہ شدت سے بڑھے اور جس گھر میں بجلی کا بل جاتا اس گھر سے رونے آہ و پکار اور حکومت کے خلاف بددعاؤں کی آوازیں آتیں لیکن وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی جدوجہد اور جماعت اسلامی کے دھرنوں، مظاہروں، مذاکرات اور دن بہ دن حکومت کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے بارے میں یاد دہانی رنگ لے آئی اور وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی نہ ہوتی اگر چیف آف آرمی سٹاف ہمارا ساتھ نہ دیتے۔ یہ بہت ہی قلیل مدت میں حکومت نے جو بجلی بنانے والے کارخانے تھے ان سے بات چیت کر کے عوام کی جان چھڑائی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بجلی بنانے کے کارخانے زیادہ تر حکمرانوں کے اپنے تھے وہ اپنے مقرر کردہ اور اپنی خواہش کے مطابق حکومت سے بجلی پیدا کرنے کی رقم بدمعاشی ٹیکس وصول کر رہے تھے اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کہا جا رہا تھا کہ بجلی کی کارخانے والوں سے ہماری گفتگو جاری ہے اور وہ ہر صورت اپنے معاہدوں کے مطابق پیسے حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں دینا چاہتے۔ خدا خدا کر کے یہ نورا کشتی اب دم توڑ چکی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف آپس میں گٹمٹ کرتے ہیں عوام کو طفل تسلیاں دیتے رہتے کہ بس ہم بجلی کی قیمتوں میں کمی کر رہے ہیں ابھی کر رہے ہیں اور چھ ماہ اس میں بھی لگا دئیے حالانکہ جو پاکستان کے ماہر معاشیات ہیں ان کے دعوے کے مطابق پاکستان میں بجلی کا ٹیرف 22 روپے فی یونٹ سے کسی صورت بھی زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کے ارسطو اور اڑان پاکستان کے سربراہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی چودھری احسن اقبال جن کی والدہ جماعت اسلامی کی مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں، بڑی ڈھٹائی سے حکومت کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کو حکیمی نسخہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، رانا تنویر اور شیزہ فاطمہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بجلی کی قیمتیں کم نہیں ہو سکتی تھیں لیکن وزیراعظم نے بجلی بنانے والے کارخانوں کے مالکان جو ایک پیسہ بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے ان کے منہ سے نوالہ چھینا ہے۔ اس موقع پر میں حکمرانوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ان بجلی کے کارخانوں نے عوام کا خون چوسا ہے، جنہوں نے بجلی بنانے کے کارخانے لگائے اور عوام کی خون پسینے کی کمائی لوٹی وہ سارے کردار پاکستان میں موجود ہیں ان کو عوام کے سامنے لایا جائے اور ان سے لوٹی ہوئی رقم واپس لی جائے نہیں تو اگر حکمرانوں نے عوام کی دولت لوٹنے والوں کے بارے میں بھی یہی بیان جاری کیا کہ ان سے ایک ایک پائی وصول کی جائے گی اور نہ کی تو عوام نہ اسے سوائے دھوکہ دہی کے کیا سمجھیں۔ جب پاکستان میں بجلی 22 روپے یونٹ تھی تو یہی حکمران سر پر بازو رکھ کے چلاتے تھے وہ بجلی مہنگی کر دی گئی ہے 55 روپے چینی کے ریٹ تھے تو حکمران مہنگائی کے نعرے لگاتے ہوئے اخبارات کی زینت بنتے تھے لیکن اب پٹرول 256 روپے لیٹر اور ڈالر 280 ہے۔ چینی اور مرغی بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی۔ اسی طرح سبزیوں کے ریٹ آسمان کو چھو رہے ہیں لیکن وزیراعظم اور ان کی ٹیم اور خصوصی طور پر پنجاب کے وزرا کو موجودہ پھلوں سبزیوں اور دیگر اشیا کی قیمتیں بہت کم محسوس ہوتی ہیں کیونکہ جب سے وہ حکومت میں آئے ہیں تو ان کو از خود کوئی چیز خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ان کی کچن، میک اپ اور دیگر اشیاء کی ادائیگیاں ان کی وزارتوں کے ذمے ہیں اور وہی ادا کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں مفت ملنے والی چیزیں عوام کو مہنگی ملیں یا عوام خود کشی کر لیں کوئی غرض نہیں ہے۔ میں یہاں موجودہ حکمرانوں سے اور دیگر اداروں سے ملتمس ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری سنبھالیں خود جس طرح مرضی مفت چیزیں حاصل کریں لیکن عوام کو اگر ریلیف دے دیا جائے اور وہ تمام کمیٹیاں جو اشیائے خور و نوش کی قیمتیں کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں وہ رشوت تو وصول کرتی ہیں لیکن قیمتوں میں کمی میں کبھی کردار ادا نہیں کرتیں۔ تمام سرکاری محکمے اپنی اپنی جیب گرم کرنے کے لیے بازاروں، گلیوں اور مارکیٹوں میں جاتے ہیں اور بابو بن کر رشوت وصول کر کے تمام اشیا خور و نوش و ضروریہ فروخت کرنے والوں کو من مانے دام وصول کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے، خدارا اس طرف توجہ دیں۔ ایک تو عوام ویسے ہی حکمرانوں کے اقدامات کی طرف وجہ سے سانس لینے سے گھبرا رہے ہیں اور آٹا، چینی اور گھی کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ عوام کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے دن رات مزدوری کرنے کے باوجود بھی کچھ میسر نہیں جبکہ حکمران اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر غریبوں کی مدد کے دلفریب نعرے لگا رہے ہیں۔ خدا کا خوف کریں ایک دن ہم سب نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور وہاں پر حساب لیا جائے گا۔
بجلی کے بلوں میں کمی جماعت اسلامی کے دھرنے
09:52 AM, 6 Apr, 2025