دنیا والے مانیں یا نہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افعان مہاجرین کے معاملے اورمسئلے پراس ملک اوریہاں کے غیورعوام نے وہ قرض بھی اتارے ہیں جواس ملک اوریہاں کے عوام پرفرض بھی نہیں تھے۔ہزاروں نہیں لاکھوں مہاجرین کوبیک وقت پناہ اورتحفظ دینایہ کوئی عام،چھوٹی اورمعمولی بات نہیں۔افغان مہاجرین،افغانستان کے حکمران وعوام اوردنیاوالے اعتراف کریں یانہ لیکن حق اورسچ یہی ہے کہ افغان مہاجرین کے معاملے میں پاکستان اورپاکستانی عوام نے وہ کیاجوآج تک امریکہ اوربرطانیہ سمیت کوئی بھی امیر،سرمایہ داراورطاقت ورملک بھی نہ کرسکا۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک پانچ دس سال کے لئے ہزاروں مہاجرین کا بوجھ بھی غالباً برداشت نہیں کر سکتے لیکن پاکستان پانچ دس نہیں بلکہ پچھلے چالیس پینتالیس سال سے بیس تیس لاکھ افغان مہاجرین کودل وسینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ سویت یونین کے افغانستان پروارکے بعدافغان مہاجرین کے لئے جس طرح اس ملک کے دروازے کھولے گئے اوریہاں کے عوام نے اپنے مہاجر بھائیوں کوجس طرح گلے سے لگایااس نے تاریخ کی کئی یادیں تازہ کیں۔ چالیس پینتالیس سال تک افغان مہاجراس ملک میں آرام، سکون، عزت اورتحفظ سے رہے۔ یہاں کے حکمرانوں اورعوام سے مہاجرین کے ساتھ بھلائی کے لئے جوہوسکتاتھااللہ گواہ ہے کہ وہ انہوں نے ان کے ساتھ کیا۔ مہاجرین مہاجر کیمپوں میں رہے یاعام آبادیوں میں اس ملک کے بچے بچے نے انہیں ایسا پیار دیا کہ انہیں کبھی یہ ملک اوریہاں کے عوام بیگانے محسوس نہیں ہوئے۔ہم یقین سے کہتے ہیں کہ اس مٹی نے افغان عوام کوجومحبت دی ایسی محبت انہیں ان کی اپنی افغان مٹی نے بھی نہیں دی ہوگی۔یہ اس ملک میں خیبرسے مکران اورواہگہ سے کشمیرتک جہاں بھی رہے آزادی اورخوشحالی کے ساتھ رہے۔ انیس سو اناسی میں افغان وارکے بعدافغانستان سے ہجرت کے یہ چالیس پینتالیس سال ان افغان مہاجرین نے یہاں مہاجرنہیں بلکہ عام شہریوں کی طرح گزارے ہیں۔یہاں کی مٹی نے جتنی عزت اپنوں کودی اس سے بڑھ کراس مٹی پرعزت ان مہاجرین کوملی وہ الگ بات ہے کہ افغانی لبادے میں چھپے کچھ شیطان اس ملک اوریہاں کے باغیرت عوام کے خلاف دشمن کی سازشوں اورچالوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے باشعورعوام نے اس معاملے میں بھی اقلیت کی شیطانی کو اکثریت کے گناہ کادرجہ کبھی نہیں دیا۔مٹھی بھر عناصرکی وطن عزیزکے خلاف ہرزہ سرائی،قومی پرچم کی بے حرمتی یا اس ملک کے اندرچوری،ڈاکہ زنی، گالم گلوچ اور بدامنی کی کارروائیوں اورکوششوں کو یہاں کے عوام نے قوم نہیں گروہ کاشاخسانہ سمجھ کر افغان قوم سے نفرت کوپروان نہیں چڑھایا۔کسی افغانی یامہاجرکی جانب سے اس ملک،یہاں کے عوام یاکسی شہری کے خلاف کسی نامناسب اورظالمانہ اقدام اورکردارکویہ سمجھ کرنظراندازکیاگیاکہ اچھے برے لوگ ہرملک،قوم اورمعاشرے میں ہوتے ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں سب فرشتے نہیں اسی طرح افغان اورمہاجروں میں بھی اچھے برے لوگ موجود ہیں۔ مہاجروں میں ایسے ایسے خودار، باعزت اور وفادارلوگ بھی ہیں کہ جن کے جانے پراب یہاں کے لوگ برسوں تک روئیں گے اورآنسوبہائیں گے۔ہمیں یادہے بارہ تیرہ سال پہلے ہمارے پڑوس میں آبادایک مہاجرگھرانہ جب واپس افغانستان روانہ ہونے لگاتواس گھرانے کی واپسی پراڑوس پڑوس کے لوگ بالخصوص چھوٹے چھوٹے بچے اس طرح دھاڑیں مارکررورہے تھے کہ جیسے کوئی اپنے جداہورہے ہوں۔اس گھرانے کے بڑے کیا۔؟ چھوٹے چھوٹے بچے بھی اتنے شریف، باادب اور سلجھے ہوئے تھے کہ سالہا سال قیام کے دوران انہوں نے کبھی پڑوس اورمحلے میں کسی کوشکایت کاکوئی موقع نہیں دیا۔اب بھی ان مہاجروں میں بہت سے خاندان،گھرانے اورلوگ ایسے ہوں گے جن کے واپس افغانستان جانے پریہاں کے بہت سے لوگ دکھی اورافسردہ ہوں گے۔انسان سے انسان کی محبت یہی اصل انسانیت ہے۔جولوگ دوسروں کے دکھ، درد، غمی اور خوشی کااحساس نہ کریں وہ انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں ہوتے۔ہمیں پہلے بھی افغان مہاجربھائیوں کے دکھ،درداورتکلیف کادل سے احساس تھااورآج بھی ہے۔ہجرت کادردسخت ہوتاہے اللہ کسی دشمن کوبھی اپنے وطن اورگھر سے دورنہ کرے۔ افغان مہاجرین پر کئی امتحانات آئے۔ 1980 کے بعدیہ کئی طرح کے آزمائشوں سے گزرے،سویت یونین اورنیٹوکے وارسہنے کے ساتھ انہیں وطن سے ہجرت، بھوک، غربت اورافلاس کے ایک نہیں کئی کڑوے گھونٹ بھی ایک ساتھ پینا پڑے۔ماناکہ ہجرت کے بعد مہاجرین اندھیروں سے نکل کرپھرسے روشنیوں میں آئے اوریہاں ان کانظام اورزندگی کاپہیہ بہتر سے بھی بہترچلنے لگالیکن اس ملک کی بھی آخرکچھ نہیں بہت مجبوریاں ہیں۔اس ملک کے ناتواں کندھوں نے چالیس سال تک مہاجرین کاجوبوجھ اٹھایاوہ بھی ایک غنیمت اورمعاشی طورپراس کمزورملک کی ہمت ہے۔لاکھوں مہاجرین کوسنبھالنایہ کوئی آسان کام نہیں۔ یہ توافغان مہاجرین کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں پناہ کے لئے ایساملک ملاکہ جوچالیس پینتالیس سال تک ان کے لئے مکمل سائبان بلکہ دوسرا گھر بنا رہا۔ پاکستان کی اس شانداراورتاریخی میزبانی اورمہمان نوازی پرافغان عوام پاکستان کاجتنابھی شکریہ اداکریں وہ کم ہے۔ افغان عوام باقی سارے قرض شائدکہ اتار دے لیکن یہاں کی مٹی کاپیار،محبت اور خلوص والایہ قرض وہ کبھی اتارنہیں سکیں گے۔ بہرحال افغان مہاجرین نے ایک نہ ایک دن واپس جاناہی ہے۔آج گئے یاکل،آخرجاناہی ہو گا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعداب وہاںحالات کافی بہتر ہو گئے ہیں۔ امید ہے کہ مہاجرین کوواپس جا کر وہاں آبادکاری میں زیادہ مشکلات اورپریشانی کا سامنانہیں کرناپڑے گا۔اس لئے مہاجرین کوحکومتی فیصلے اوراعلان پرآمین کہتے ہوئے اپنی رضاکارانہ واپسی کو یقینی بنانا چاہئے۔ جو کام کل زبردستی اور ڈنڈے کے زور پر کرناہے وہ آج اگر پیار، محبت، خوشی اوررضامندی سے کیا جائے تواس میں عزت کے ساتھ دونوں برادر ممالک اوران کے اقوام کی بھلائی بھی ہے۔
افعان مہاجرین…خداحافظ
09:51 AM, 6 Apr, 2025