شخصیت پرستی معاشروں کے معاشرے تباہ ،انسانوں کو ذہنی غلام اورسوچ سمجھ سے عاری کردیتی ہے ۔ہمارے ہاں سیاست شخصیت پرستی سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوجاتی ہے ۔ سیاسی پارٹیاں کہنے کو جمہوری لیکن شخصی آمریت سے لبریز۔ جب تک قائد کی سانس میں سانس ہے سربراہی اور حکم اسی کا چلے گا۔ویسے تو سب جماعتوں میں ہی ایک ہی شخصیت کو مدارالمہام کا درجہ حاصل لیکن پی ٹی آئی اگلے بلکہ آخری مرحلے پر ۔خان صاحب کی شخصیت سازی باقاعدہ ایک بزنس پراجیکٹ کی طرح کی گئی۔اخلاقی اعتبار سے چونکہ خان صاحب انتہائی نازک اور کمزورقدموں پر تھے اس لیے اس پہلو کو ہینڈسم اور ’’ کرش‘‘ جیسی اصطلاحات کے کارپٹ کے نیچے چھپادیا گیا۔پھر ان کی مشہوری کے لیے ان کا کرپٹ نہ ہونا چنا گیا۔ہر طوطے کو یہ بات رٹادی گئی کہ خان کرپٹ نہیں ہے ۔وہ ایماندارہے ہاں اس کی ٹیم کرپٹ ہوسکتی ہے۔اس کے آس پاس لوگ ایسے ہوسکتے ہیں لیکن خان کرپٹ نہیں ہے۔یہاں تک خان صاحب کی کرپشن کی بات ہے تو یہ سب جانتے ہیں کہ خان صاحب خود اپنے ہاتھوں سے کرپشن نہیں کرتے۔انہوں نے یہ کام ’’آؤٹ سورس‘‘ کرکے کیا ۔وہ کرپٹ نہیں تھے لیکن انہوں نے ورلڈ کپ کھیلنے کے بعد کبھی پیسے کمانے کے لیے بھی خود کچھ نہیں کیا۔ ان کے گھر کے کچن چلانے کے لیے بھی ہمہ وقت کوئی نہ کوئی اے ٹی ایم موجود رہتی تھی۔علیم خان سے جہانگیرترین تک سب ہی خان صاحب کی روزی روٹی اور سفرکا سامان کرچکے۔
خان صاحب وزیراعظم بنے تو وہ اپنے ساتھ ان لوگوں کو لائے جنہوں نے ان پر سرمایہ کاری کی تھی ۔لوگوں میں یہ بات پھیلنے لگی کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں ۔مفادات کا ٹکراؤ ننگا ناچ کررہا ہے توپھر یہی طریقہ واردات کہ بے چارہ خان اکیلا کیا کرے وہ تو کرپٹ نہیں ہے نا ۔جب سوال اٹھتا کہ یہ لوگ بھی تو خان صاحب کے ہی لائے اور لگائے ہوئے ہیں تو جواب ملتا کہ اب خان بے چارہ فرشتے کہاں سے لائے ۔یہی لوگ ہیں وہ خود کرپٹ نہیں ہیں ۔اوپر سچا اور ایماندارہو تو نیچے کرپشن نہیں کرنے دیتا۔لیکن یہ تھیوری بری طرح پٹ گئی کہ ان کے اپنے دورمیں ملک میں چینی کا سکینڈل آیا اورپچاس روپے کلو بکنے والی چینی کی قیمت ایک سو بیس روپے تک پہنچا دی گئی ۔ اس ایماندار شخص کی اپنی حکومت نے انکوائری کمیشن بنایا اوربتایا کہ اوپر صرف کہنے کی حد تک یا مشہوری کی حد تک ایماندار کا ہونا زیادہ کرپشن کا باعث بنتا ہے کیونکہ کرپشن کرنے والے جانتے ہیں کہ اوپر والا صرف کہنے کی حدتک ہی کرپشن مخالف اور یماندارہے۔خان صاحب کی ایمانداری کی چھتری کے نیچے ہی ایک زرعی ملک میں آٹے کا اتنا خوفناک سکینڈل آیا کہ وزیرخوراک فخرامام نے اسمبلی فلور پرکہا کہ گندم پیدا تو ٹھیک ٹھاک ہوئی لیکن پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔اس ملک میں گندم کہیں غائب ہوگئی اور ہم یوکرین سے اناج منگوانے پر مجبورہوئے لیکن ایماندارشخص نے اس ’’ایمانداری‘‘ پر کسی وزیرمشیر کو نشان عبرت بنانا ہی مناسب خیال نہ کیا؟اس ایماندار کی اپنی حکومت میں ندیم بابرکو مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود پٹرولیم کا مشیر بنایا تو اس ملک میں پٹرول کی وہ قلت پیدا ہوئی کہ صرف قلت دور کرنے کے لیے بلیک میل ہوکر ایک ہی دن میں طے شدہ تاریخ اور وقت سے بھی پہلے قیمت میں پچیس روپے کا اضافہ کرنا پڑا۔
کسی شخصیت کو رنگ کرنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس شخصیت کے بھدے خدوخال چھپائے جائیں کیونکہ شخصیت کے اپنے رنگ اصل اور حقیقی نہ ہوں تو رنگ سازی کرنا پڑتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے کسی دیوار کے ’’ٹوئے ٹِبے‘‘ چھپانے کے لیے ’’پٹین‘‘ بھرکر اوپر رنگ کیا جاتا ہے تاکہ دیوار خوبصورت لگے۔دنیا میں یہاں بھی پاپولسٹ سیاست کی گئی یا کی جارہی ہے وہاں شخصیات کو ایسے ہی ایک پراجیکٹ کے طورپر ہی دکھایا گیا۔ شخصیت پرستی کی سیاست میں سیاسی شخصیت اس ریاست کے نظام ،اداروں اور ہرقانون سے اوپر کھڑی کردی جاتی ہے ۔پھر نعرے بازی ہوتی ہے کہ ’’عمران نہیں توپاکستان نہیں‘‘سیاست کی یہ طرز پاپولسٹ سیاست کہلاتی ہے۔
پاپولر سیاست شخصیات کا فائدہ تو کرجاتی ہے لیکن کسی ملک یا ریاست کا بھلا کبھی نہیں کرتی ۔اگر کچھ پاپولر اقدامات دیکھنے ہوں تو آج کل کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھ لیجئے ۔ہم یہاں جناب عمران خان صاحب کی پاپولر سیاست بھگت رہے ہیں ۔پاپولر سیاست میں میں فیصلہ سازی کی بنیاد حقیقت پسندی سے زیادہ عوامی ردعمل پر ہوتی ہے کہ فیصلہ وہ کیا جاتا ہے جس کو لوگ پسند کریں نہ کہ وہ جس کی ملک کو ضرورت ہو ۔ جناب عمران خان نے جو فیصلہ عدم اعتماد سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کا معاہدہ توڑکر پٹرول سستا کیا تھا وہ پاپولر فیصلہ تھا جس کا نقصان ملک ڈیفالٹ کے کنارے پر پہنچاکر کیا گیا دوسری طرف جناب شہبازشریف نے آکر معیشت کو واپس پٹڑی پر لانے کے لیے ایک ہی دن میں پٹرول مہنگا کرکے کیا وہ ایسا فیصلہ تھا جو انتہائی غیر مقبول تھا لیکن اس کی ملک کو ضرورت تھی ۔عمران خان صاحب کے مقبول فیصلے کی بدولت واہ واہ ہوئی جبکہ شہبازشریف کے غیر مقبول فیصلے کی بدولت ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا۔
پاپولسٹ سیاست کا ایک نقصان لیڈر کو خود بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ جو پارٹ اپنے فالوورز کو پڑھاتا ہے وہ پھر اس پر اتنے پکے ہوجاتے ہیں کہ بعض اوقات لیڈر بھی زچ ہوجاتا ہے جیسا کہ اب جناب عمران خان صاحب جیل سے باہر آنا چاہتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح اپنی فیس سیونگ کے ساتھ کوئی ڈیل بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن باہر موجود ان کے کارکن یہ ماننے کو ہی تیار نہیں کہ عمران خان صاحب کوئی ڈیل کرسکتے ہیں بس یہ ایک نقطہ ایسا ہے کہ عمران خان صاحب کا جیل میں قیام طویل سے طویل ہوتا جارہا ہے۔
ابھی کا ہی دیکھ لیں کہ اس ایک نقطے کو لے کر ہی پی ٹی آئی ’’جوتم بیزار ‘‘ہوئی پڑی ہے۔اعظم سواتی عمران خان سے ملے تو باہر آکر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ہے ہم خان کوباہر نکالنے کا بندوبست کررہے ہیں یہ بات سن کر شیخ وقاص نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات جھوٹ ہے۔ سلمان اکرم راجا بولے کہ ان کی اجازت کے بغیر ملاقات ہوکیسے گئی تو علیمہ خانم نے کہا کہ ان کی ملاقات کے علاوہ سب کو اجازت دی جارہی ہے۔ گنڈاپور نے کہا کہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا اچھا ہوتا ہے ۔ یہ تو ان کے لیڈران ہیں دوسری طرف کارکن ہیں جو اپنی دستیاب قیادت کا جلوس نکالنے میں مصروف ہیں ۔وجہ صرف اتنی سی ہے کہ پی ٹی آئی ایک شخصیت کی پارٹی ہے اور وہ شخصیت جیل میں ہے تو باہر صرف لڑائی جھگڑے اور اختلافات ہیں۔اگر یہی پارٹی ایک منظم سسٹم کے تحت ایک ادارہ بنائی جاتی توکسی ایک شخص کے جانے کے بعد بھی چلتی رہتی۔
شخصیت پرستی اور پاپولرسیاست
09:49 AM, 6 Apr, 2025