واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے زیرِ زمین جوہری مقام پک ایکس ماؤنٹین پر جلد شدید حملے کا عندیہ دے دیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض حلقے موجودہ صورتحال کو جنگ قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک یہ ایک فوجی تنازع ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو امریکا کے لیے محدود نوعیت کا معاملہ قرار دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ماضی میں وینزویلا سمیت مختلف محاذوں پر کارروائیاں کر چکا ہے۔ ایران کے پک ایکس ماؤنٹین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکا اسے بہت جلد شدید حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ کارروائی کی تاریخ یا وقت نہیں بتایا۔
پک ایکس ماؤنٹین نطنز کے قریب واقع ایران کی انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پہاڑ کے اندر گہرائی میں موجود ٹنلز کے باعث یہ مقام عام جوہری تنصیبات کے مقابلے میں زیادہ مشکل فوجی ہدف سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تنصیب کی گہرائی ممکنہ حملے کی نوعیت اور اس کے اثرات کے حوالے سے اہم چیلنجز پیدا کرتی ہے۔
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی جوہری تنصیبات پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ نطنز کی جوہری تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنوں اور معلومات تک رسائی بھی محدود کر دی ہے۔