غزہ سٹی کے تین ہمسائے ہیں۔ مصر، سمندر اور اسرائیل۔ اِن تین ہمسایوں میں سے ایک اسرائیل غزہ کے مسلمانوں کا جانی دشمن ہے۔ ہمسائیگی اختیار کرنے سے لے کر اب تک اسرائیل کی غزہ کے مسلمانوں کو برباد کرنے کی کوششیں پہلے سے بڑھ کر ہی ہوتی ہیں جن کی مثال تاریخ میں تلاش نہیں کی جا سکتی۔ ساری دنیا کے لوگوں کے ضمیر کی آواز کے آگے بھی صرف ایک اسرائیل کی آواز بھاری رہتی ہے۔ گوےا غزہ کے مسلمانوں کا صرف اےک دشمن ہی انہےں دن رات لہولہان کیے جا رہا ہے۔ اب دوسری طرف دیکھیں تو پاکستان کے چار ہمسائے ہیں جن میں بھارت، ایران، افغانستان اور چین شامل ہیں۔ اِن چار میں سے ایک یعنی بھارت پاکستان کا براہِ راست دشمن ہے جبکہ افغانستان کے ساتھ بھی شکوک و شبہات اور تلخیوں والا ہی تعلق ہے۔ چار مےں سے صرف چےن اےک اےسا ہمساےہ ہے جس کی طرف سے پاکستان کو بے فکری ہے یا اب کسی قدر ایران سے بھی اطمینان کے کچھ اشارے ہیں۔ اب پھر عرب کے مسلمان ملکوں کی طرف چلتے ہیں۔ عراق، شام، لیبیا، مصر اور لبنان اےسے مسلمان ممالک ہےں جہاں اندرونی خلفشار اور سےاسی محاذ آرائےاں خونخوار خانہ جنگی مےں بدل چکی ہےں۔ عمومی طور پر خانہ جنگی کسی سپانسرڈ منظم بےرونی سازش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ گویایہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ مذکورہ عرب ممالک مےں لاتعداد سازشوں پر بے بہا سرماےہ کاری کی گئی ہے۔ آئےے پھر پاکستان لوٹتے ہےں۔ اگست 1947ءسے لے کر 2025ءتک پاکستان کے اندر بھی بہت سے چھوٹے بڑے سیاسی طوفان آئے لےکن اُن کی صورتحال عرب ممالک مےں ہونے والی خانہ جنگی کی طرح نہیں تھی۔ گوےا پاکستان کے اندر پےدا ہونے والے سےاسی خلفشاروں کو کسی نہ کسی طرےقے سے سنبھال لیا گیا۔ بعض اوقات اس کسی نہ کسی طریقے کا نام مارشل لاءبھی رکھ دےا جاتا تھا۔ تاہم حتمی نتےجہ سِول تشدد کے خطرات کا ٹل جانا ہی ہوتا تھا۔ اوپر دےئے گئے دلائل سے دو سوالات بناتے ہیں۔ (1) غزہ کا صرف ایک ملک دشمن ہے جس نے غزہ کی بوٹیاں کر دی ہیں۔ پاکستان کے دو ہمسائے پاکستان سے ناخوش ہےں لےکن اُن دونوں کا پاکستان کے خلاف زےادہ بس نہےں چلتا۔ کےوں؟ (2) دنیا کے سب ملکوں کی طرح عراق، شام، لبیا، مصر اور لبنان میں بھی اپوزیشن اور اختلافِ رائے تھا مگر اِن تےل سے مالامال مسلمان ملکوں کو کمزور کرنے اور توڑ پھوڑ دےنے کے لیے اِن کی اپوزےشن اور اختلاف رائے میں بےرونی سازشےں شامل ہو گئےں۔ اب ےہ سب ممالک انسان تو اےک طرف، چرند پرند کے لیے بھی امن کی جگہ نہیں رہے۔ پاکستان مےں بھی اتنی ہی شدےد اپوزےشن اور اختلاف رائے آتی جاتی رہی لیکن بیرونی سازشیں اب تک اپنی کوئی مستقل جگہ نہ بنا سکیں۔ کےوں؟ ان دونوں سوالات کا بہت ہی آسان جواب موجود ہے۔ مسئلہ صرف تسلےم کرنے کا ہے۔ ےعنی ہم اس بات کو مان لےں کہ پاک فوج کا مضبوط ہونا، بہترےن پےشہ ورانہ صلاحےتوں کا حامل ہونا اور دوراندےش ہونا دو مخالف ہمساےوں کے باوجود پاکستان کو غزہ بننے سے بچائے ہوئے ہے۔ اگر عراق، شام، لیبیا، مصر اور لبنان کے پاس بادشاہوں کی حماےتی غےر پےشہ ورانہ فوج کی بجائے پاک فوج کی طرح جمہوری اور با صلاحےت فوج ہوتی تو ےہ ممالک بھی بےرونی سازشےوں کو اپنے ملکوں مےں لاشوں کے ڈھےر نہ لگانے دےتے۔ اگر غزہ کے پاس پاک فوج جےسی منظم فوج ہوتی تو اسرائےل کے مےزائل غزہ کے بچوں اور عورتوں کو نہ چےرتے۔ اس تجزےے کے بعد بات ختم نہیں ہوتی بلکہ بہت ہی حساس تجزےہ سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر ےہ بات ہماری سمجھ مےں آتی ہے کہ دو مخالف ہمسایوں کے باوجود پاک فوج کی وجہ سے پاکستان غزہ نہےں بنا اور پاک فوج کی وجہ سے ہی یہاں اب تک خانہ جنگی نہےں ہوئی تو کیا بیرونی سازشےوں کو ےہ بات سمجھ نہےں آتی ہو گی؟ کےا وہ اپنے ناپاک منصوبوں کے راستے میں حائل رکاوٹ کو ہٹانے یا بدنام کرنے کی فکر میں نہیں ہوں گے؟ کیا اس حساس تجزےے کا ےہ تقاضا نہےں ہے کہ ہم سب اپنے، اپنی نسلوں اور اپنے ملک کے بچاﺅ کے لیے اپنے دفاعی اداروں کو ڈسٹرب نہ کرےں تاکہ پاکستان غزہ بننے سے بچا رہے؟۔
پاکستان پاک فوج کی وجہ سے غزہ نہیں بنا
09:14 AM, 6 Sep, 2025