نبی پاک حضرت محمدﷺ کے بارے میں اللہ کریم نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید فرقانِ حمید میں فرما رکھا ہے ”(اے محمد ) اور تمہاری خاطر ہم نے تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا۔“ اس کے ساتھ یہ ارشادِ باری تعالیٰ بھی ہے (مفہوم) ”اللہ اور (اللہ کی نورانی مخلوق) ملائکہ اللہ کے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اللہ کے نبی پر درود بھیجتے رہا کرو۔“ بلا شبہ نبی کے حضور ہدیہ درود و سلام بھیجنا، آپ کی حیاتِ مقدسہ اور سیرتِ طیبہ کے بارے میں لکھنا لکھانا اور بیان کرنا اور آپ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کہنا انتہائی سعادت اور ثواب کی بات ہے تو اس کے ساتھ یہ ایک ایسا اعزاز اور بلند مقام و مرتبہ بھی ہے جو بڑے نصیبوں اور مقدر سے ہی مل سکتا ہے اور جسے مل گیا، سو مل گیا۔ معروف شاعر، نثرنگار، محقق، کالم نگار اور دو درجن کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف جناب جبار مرزا بلا شبہ اس بلند مرتبے اور اعزاز کے حامل گردانے جا سکتے ہیں کہ حال ہی میں حضور کی حیاتِ مقدسہ اور سیرتِ طیبہ کے بارے میں ”نبی آخر الزمان محمدﷺ“ کے عنوان سے اُن کی کتاب سامنے آئی ہے۔ انتہائی قابلِ قدر، دیدہ زیب، خوبصورت اور اعلیٰ طباعت سے مزین جناب جبار مرزا کی یہ تصنیف کئی ہفتوں سے میرے نام آئی ہوئی تھی۔ اس کے کچھ موضوعات یا ابواب میں نے پہلے سے پڑھ رکھے تھے اور خیال تھا کہ باقی موضوعات یا ابواب کو پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں کچھ خیال آرائی کروں گا۔ اس میں کچھ وقت گزر گیا اور ربیع الاول کا بابرکت اور مقدس مہینہ بھی شروع ہو گیا تو خیال کچھ ایسے بنا کہ نبی پاک کی سیرتِ طیبہ اور حیاتِ مقدسہ کے کچھ بابرکت گوشوں کا ذکر کرنا یا اپنی تحریر کا موضوع بنانا بہت بڑی سعادت ہے تو کیوں نہ ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی کے موقع پر یہ سعادت حاصل کر لی جائے۔
”نبی آخر الزماں محمدﷺ“ کے عنوان سے جناب جبار مرزا کی سیرتِ طیبہ کی یہ تصنیف بلا شبہ اپنے موضوعات اور نفسِ مضمون کے لحاظ سے ایک منفرد تصنیف سمجھی جا سکتی ہے۔ اس کا ذکر معروف شاعر، صاحبِ طرز نثر نگار و کالم نگار اور سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئر مین جناب عرفان صدیقی نے کتاب میں چھپے اپنے مفصل تاثراتی مضمون میں بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”جبار مرزا کی زیرِ نظر کتاب ”محمد ﷺ“ کا مسودہ دیکھا ہے، پڑھا ہے، مجھے اس کی یہ کاوش بڑی منفرد سی لگی ہے، ”محمدﷺ“ سیرت کی روایتی کتابوں سے بہت مختلف ہے، اس میں حیاتِ طیبہ کے واقعات کی کسی
زمانی ترتیب کو بھی مدِ نظر نہیں رکھا گیا لیکن یوں لگتا ہے جیسے عرق کشید کر دیا گیا ہو کہ کوئی اہم گوشہ نظر انداز نہیں ہوا۔ جبار مرزا روایتی محقق نہیں لیکن اس چھوٹی سی کتاب میں اُس نے انتہائی دیدہ ریزی اور کمال ریاضت سے تحقیق کا حق ادا کرتے ہوئے کئی پہلوﺅں پر نئے زاویوں سے نظر ڈالی ہے۔ اس کتاب میں اہم معلومات کا اچھا خاصا خزانہ ہے جسے میں مرقع سیرت ِ نبویﷺ کا نام بھی دے سکتا ہوں۔ یہ مرقع ہمارے نوجوانوں کے لئے نہایت معلومات افزا ہے جو دقیق اور عمیق مطالعے کی عادت چھوڑ چکے ہیں۔ مجھے لگتا ہے، روزِ محشر جب دربارِ رسالتﷺ میں حاضری کا مرحلہ درپیش ہو گا تو جبار مرزا اپنے نامہ اعمال کو اس کتاب کے نیچے چھپائے دونوں ہاتھوں پر کسی تحفے کی طرح سجائے، جب بارگاہِ ناز میں حاضر ہو گا تو آپﷺ کے لبِ شیریں پہ پھیلتی دلنشیں مسکراہٹ اُس کے لیے شفاعتوں کے دروازے کھول دے گی۔ کاش اُس وقت میں بھی کہیں اُس کے آس پاس ہوں اور وہ میری انگلی تھام لے۔“
بزرگ اُستاد، معروف مصنف اور قابلِ قدر دانشور اور محقق پروفیسر فتح محمد ملک کتاب اور صاحبِ کتاب جناب جبار مرزا کے بارے میں لکھتے ہیں ”سیرت ِ نبویﷺ پر یوں تو ان گنت کتب شائع ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں، ہوتی بھی رہیں گی، لیکن مصنف، شاعر، دانشور اور صحافی جبار مرزا کی یہ کتاب ”محمدﷺ“ زبان، معیار اور متن کے حوالوں سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ جبار مرزا کا قلم عشقِ رسول سے لبریز ہے۔ نئے زاویوں اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔ ایک ایمان افروز کتاب لکھنے پر میں جبار مرزا کو اس کام اور عظیم سعادت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کتاب کے بارے میں ڈاکٹر یوسف عالمگیرین، محترم محمد احمد ترازی، محترمہ فرحین چوہدری اور علامہ عبدالستار عاصم نے بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ علامہ عبدالستار عاصم لکھتے ہیں ”محمدﷺ“ نامی زیرِ نظر کتاب لکھ کر ارفع ادبی قلعہ تعمیر کر دیا ہے، ”محمدﷺ“ نامی اس کتاب میں پہلی بار سیرت کی کتب میں درج ضعیف واقعات کو دلیل کے ساتھ رد کیا گیا ہے، یہ اعزاز جناب جبار مرزا کے حصے میں آیا۔ اُمتِ محمدیہ پر اُن کا یہ احسان زیرِ بحث رہے گا، سیرت نگاری میں یہ ایک ایسا اور کمال محبت و احترام کا کام کیا ہے کہ قارئین کے دل اور روح پر اثر پذیری دکھائے گا۔“
جناب جبار مرزا کی اس انتہائی گراں مایہ اور قابلِ تحسین تصنیف کے بارے میں چوٹی کے اربابِ قلم کے یہ خیالات اور تاثرات بلا شبہ انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ سچی بات ہے ان کے بعد میرے جیسے ایک کم مایہ شخص کا کتاب کے بارے میں کسی طرح کے تاثرات کا اظہار کرنا کوئی زیادہ وقعت نہیں رکھتا لیکن پھر بھی کچھ ہدیہ عقیدت و احترام کا اظہار ضروری ہے۔ میں پہلے کتاب کے ظاہری حسن، اس کی بناوٹ و سجاوٹ اور اس کے گیٹ اَپ کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا۔ واہ کیا بات ہے، وہ پاک ہستی جو محبوبِ کبریا ہے اور جس پر اللہ کریم اور اُس کی نورانی مخلوق ہر وقت درود بھیجتے ہیں، جس پاک اور پُر نور ہستی کے حضور میں کروڑوں بلکہ اربوںکلمہ گو مسلمان ہر گام، ہر لمحے اور ہر نماز میں ہدیہ درود و سلام پیش کرتے ہیں، جو خاتم النبیین ہے، جو سرورِ کونین ہے، جو رحمت اللعالمین ہے، جو سردار الانبیاءہے، جو شفیع المذنبین ہے، جو سراپا رحم وکرم اور جود و سخا ہے، اُس کا ذکر ہو، اُس کے بارے میں کوئی تصنیف ہو تو بلا شبہ صوری اور معنوی ہر لحاظ سے بے مثال ہونی چاہیے۔ مصنف محترم جبار مرزا اور ناشر علامہ عبدالستار عاصم اور قلم فاو¿نڈیشن نے اس کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ سبز زمین پر سنہری حروف میں کتاب کا نام ”نبی آخر الزماں محمدﷺ“ اور نیچے مصنف کا نام کتنا خوبصورت اور جازبِ نظر لگتا ہے اس کا اندازہ دیکھنے سے ہی ہو سکتا ہے۔ سرورق کے اندر دو صفحات پر درود شریف کے کلمات بڑی خوبصورت خطاطی کا نمونہ ہیں تو اندر علامہ اقبال کی مشہور رباعی ”تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ۔۔۔۔ از نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر “ اس انداز میں لکھی ہوئی ہے کہ نگینے کی طرح جڑی نظر آتی ہے۔
کتاب کے کچھ موضوعات اور ابواب کا ذکر کریں تو شروع کے دس عنوانات کو چھوڑ کر باقی بیس عنوانات کے تحت سیرتِ طیبہ اور حیاتِ مقدسہ کے مختلف گوشوں پر پوری تحقیق، جستجو، مطالعے اور عرق ریزی کے بعد روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان میں ”میثاقِ مدینہ سے میثاقِ پاکستان تک“، ”مدینہ دنیا کی پہلی اسلامی ریاست“، ”فتح مکہ نبی آخرالزماںﷺ کی جنگی حکمتِ عملی“، ”ریاستِ مدینہ کا دفتری نظام“، ”حضرت عبدالمطلب“، ”کعبة اللہ، ابرہہ اور یمن“، ”حضرت محمدﷺ“ اور ”دنیا کی پہلی نعت، مرثیہ، حضرت آمنہ ؓ کا وصال“ جیسے موضوعات بلا شبہ انتہائی اہم سمجھے جا سکتے ہیں۔ میں انتہائی عاجزی سے کہنا چاہوں گا کہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر معلمِ اسلامیات ہونے کے ساتھ سیرت النبی کی کتب کا مطالعہ کرنا ہمیشہ سے میرے لیے انتہائی دلچسپی اور محبت و عقیدت کا باعث رہا ہے۔ جناب جبار مرزا کی اس تصنیف کے کئی موضوعات کو پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا ہے کہ بلا شبہ میری معلومات میں قابلِ قدر اضافہ ہوا ہے۔
نبی آخرالزماں محمد ﷺ....!
09:17 AM, 6 Sep, 2025