ہر قدرتی آفت کے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں سنجیدہ اور ذہین اقوام اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر قدرتی آفات کے نقصانات کم کرتے ہوئے فوائد حاصل کرتی ہیں تاکہ نہ صرف معاشی ترقی ہو بلکہ شہری بھی مشکلات کا شکار نہ ہوں مگر پاکستان میں قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے کے لیے طویل یا قلیل منصوبہ بندی کا ہمیشہ سے فقدان رہا ہے اسی لیے زلزلے اور سیلابوں سے ملکی معاشی مشکلات بڑھتی اور شہری مشکلات کے بھنور میں پھنستے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب کی قیامت خیزی جاری ہے جہاں جہاں سے سیلابی ریلے گزر ے ہیں وہاں پر انسانی آبادی کے انخلا کے باوجود زراعت اور پالتو جانوروں کا اِتنا نقصان ہو چکا ہے جس کے اثرات شاید کئی برس تک رہیں، ابھی تک چناب، راوی، ستلج اور دریائے توی بپھر ہوئے ہیں جس سے مزید نقصان کا خدشہ ہے۔ پہلے کے پی کے، گلگت بلتستان، کشمیر میں بارشوں نے تباہی مچائی اب پنجاب کے میدانی علاقوں میں سیلاب سے زندگی اجیرن ہے 1988 کے بعد سے چناب، راوی، ستلج، بیاس اور دریائے توی میں ایسے ریلے نہیں دیکھے گئے۔ اِس میں ظاہر ہے موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا عمل دخل ہے اب سیلابی ریلے جنوبی پنجاب اور سندھ کی طرف رواں ہیں اور تباہی کا سوچ کر ہی ہول آتے ہیں، سندھ اور جہلم دریاﺅں پر بنے تربیلا اور منگلا ڈیموں نے سیلابی تباہ کاریاں کسی حد تک کم کیں۔ سوچیں اگر یہ دو بڑے ڈیم بھی نہ ہوتے تو تباہی میں شاید کئی گنا اضافہ ہو جاتا سچ یہ ہے کہ قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے کے لیے ہمارے پاس وسائل ہیں مگر منصوبہ بندی نہیں اگر ملک میں مزید ڈیم بنانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا جائے تو سیلابی تباہ کاریاں کم کرنے کے ساتھ معاشی و زرعی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ حالیہ سیلاب دراصل بھارت کی آبی جارحیت ہے جس نے سیلاب جیسی صورتحال سے دوچار کر کے ہم سے مئی کی عبرتناک فوجی شکست کا بدلہ لیا ہے تسلیم کہ بھارت پہلے پانی ڈیموں میں روکتا اور پھر اچانک چھوڑ دیتا ہے جس سے دریاﺅں اور ندی نالوں میں باربار طغیانی آ رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ہمارے پاس وسائل موجود ہےں تو آبی جارحیت روکنے کا دیرپا بندوبست کیوں نہیں کرتے؟ بھارت تو ہے ہی ہمارا دشمن، لہٰذا وہ تو ہمیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچنانے کی کوشش کرے گا لیکن ہمارے دفاعی ماہرین کی طرح آبی ماہرین کیوں نہیں سوچتے؟ وہ کیوں اصل فرائض سے غافل ہیں کالاباغ ڈیم جیسا منصوبہ مکمل کر کے اربوں ڈالر کا میٹھا پانی سمندر میں ضائع کرنے کی بجائے پینے اور زراعت کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے پی کے نے اِس حوالے سے اپنی رضامندی دے دی اب اگر حکومت تھوڑی سی ہمت کرے اپنی اتحادی پیپلز پارٹی کے متعصب رہنماﺅں کو قائل کر لے تو یہ منصوبہ مکمل کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی بھی کہہ چکے کہ ہمارے تحفظات دور اور منصوبے کی افادیت پر قائل کر لیا جائے تو حمایت کر سکتے ہیں لہٰذا حکومت اور آبی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ مزید غفلت چھوڑ کر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے سیاسی و رائے عامہ ہموار کریں تاکہ سیلاب کو زحمت سے نعمت بنایا جا سکے۔ پاکستان میں جنگلات کی بے دردی سے کٹائی ہو رہی ہے اور ماہرین کے بار بار انتباہ کے باوجود حکومت اِس حوالے سے کوئی نتیجہ خیز فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اسی بنا پر درختوں کی بے دریغ کٹائی کے عمل میں تعطل نہیں آ سکا جس کی وجہ سے کے پی کے، گلگت بلتستان اور کشمیر کے وہ علاقے یا پہاڑ جو کبھی ہر بھرے اور سرسبز ہوا کرتے تھے اب قدرتی حسن سے محروم ہوتے جا رہے ہیں حالانکہ یہ جنگلات قدرتی آفات میں ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ یہ ڈھال ہٹنے سے کلاو¿ڈ برسٹ ہوئے لینڈ سلائیڈنگ بڑھی اور سیلابی تباہ کاریوں میں خوفناک اضافہ ہوا۔ ستم ظریفی تو یہ کہ سیکڑوں انسانی جانی اور اربوں مالیت کے نقصان کے باوجود کشمیر، کے پی کے اور گلگت بلتستان ابھی تک بھی کوئی پالیسی نہیں بنا سکے صرف وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے درخت فروخت کرنے اورکاٹنے پر پابندی لگائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مریم نواز کی طرح دیگر وزرائے اعلیٰ ایسا فیصلہ کرنے سے کیوں قاصر ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ اُن کا مفاد درختوں کے کٹاﺅ میں ہے؟ وطنِ عزیز میں ضرورت کے مطابق ایسا بندوبست نہیں جس سے سیلاب کی صورت میں دستیاب میٹھے پانی کو ذخیرہ کر سکیں اسی لیے ہر سال قیمتی پانی سمندر میں پھینکنا پڑتا ہے حالانکہ ملک کا زیرِ زمین پانی جس قدر خوفناک حد تک نیچے جا چکا ہے، کا تقاضا ہے کہ پانی کی گزرگاہوں کے قرب و جوار میں بڑے پیمانے پر ایسے پانی چوس کنویں بنائے جائیں جن سے زیرِ زمین پانی کی سطح بلند اور سیلاب کی تباہ کاریوں کم کر نے میں مدد ملے۔ ملک میں پانی کے نئے ذخائر ڈیم کی صورت میں بنانا اشد ضروری ہے مگر بات یہ ہے کہ سنجیدہ اور ذہین اقوام قدرتی آفات کے نقصانات کم کرتے ہوئے فوائد کشید کرتی ہیں۔ اب پتہ نہیں ہمارے حکمرانوں کی کیا مجبوریاں ہیں؟ کہ وہ اِس حوالے سے مسلسل فرائض سے غفلت کے مرتکب ہیں۔ پاکستان میں زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کافی نفع بخش ہے لوگ جلد سے جلد امیر ہونے کے لیے اِس شعبے میں آتے ہیں کیونکہ بڑھتی آبادی کے حساب سے رہائشی سہولتیں ناکافی ہو چکیں مگر اِس چکر میں آبی گزرگاہوں میں بھی رہائشی منصوبے بنا دئیے گئے جو نہ صرف پانی روکنے کا موجب ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر املاک کے نقصان کی اہم وجہ ہیں، ایسی تعمیرات کو فی الفور روکنا ضروری ہے۔ سیلابی پانی سے منہدم گھر بے ترتیب تعمیرات کی
تصدیق ہیں اب تو ملیریا، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور موسمی بخار جیسی بیماریوں کا خطرہ بھی سر پر ہے اگر آبی گزرگاہیں بحال رکھی جاتیں تو ایسی نوبت ہرگز نہ آتی۔ ابھی لوگوں کو سیلابی کیفیت کا سامنا ہے اسی لیے آنے والے سخت حالات کا ندازہ نہیں چاول، مکئی، سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی تباہی سے خوراک کا بحران آنا ہے اِس مہنگائی اور بھوک و افلاس کے طوفان کو کیسے روکنا ہے؟ یہ سوچنا حکومت کا فرض ہے کہ بے کار مصروفیات چھوڑ کر ایسی منصوبہ بندی کرے جس سے متوقع بحران کی شدت کم ہو اِسکے لیے بہتر ہے کہ ایران اور افغانستان سے غذائی اجناس اور سبزیاں درآمد کرنے پر غیر ضروری محصولات میں نرمی کی جائے تاکہ عام شہری زیادہ متاثر نہ ہو۔ یاد رہے کہ امسال پاکستان کو توقع کے مطابق سیلاب کے متاثرین کے لیے عالمی امداد بھی نہیں ملی اِس پر سوچنے اور خود انحصاری پر کام کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب سیلابی پانی کو زحمت بننے سے روکنے کے ساتھ نعمت بنایا جائے سیلاب سے زمینوں کی زرخیزی بڑھتی ہے اِس سے فائدہ کیسے اُٹھانا ہے؟ اِس پہلو سے بھی زرعی ماہرین منصوبہ بندی کریں تاکہ جلد از جلد خوراک کا بحران ختم کرنے میں مدد ملے۔
زحمت سے نعمت تک
09:16 AM, 6 Sep, 2025