سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ حکومت کا دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنا ناممکن ہے، جب تک وہ سرنڈر نہ کریں، قبائلی جرگہ ایک منطقی قدم ہے تاکہ کسی بھی کارروائی سے پہلے عوام کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریاست اور مقامی لوگ، دونوں دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کے مخالف ہیں، دہشت گردوں کے خلاف مسلح کارروائی کرنے کا اختیار ریاست کے پاس ہے۔ جرگے نے مسلح گروہوں کے سہولتکار کو سزا دینے کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔ باجوڑ میں اقوام سالار زئی کا کہنا ہے کہ سالار زئی میں کسی نے بھی مسلح گروہوں کی سہولت کاری کی تو اْس کا گھر مسمار کر کے اسے علاقہ بدر کیا جائے گا۔ جرگے کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کے سہولت کار پر 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہو گا اور اْس کا خاندان پوری قوم کا دشمن ہو گا۔ اعلامیہ کے مطابق رات کے وقت پورے سالار زئی میں بلا ضرورت نقل و حرکت پر پابندی ہو گی۔ اگر حکومت یا کوئی حکومتی ادارہ سالار زئی میں کوئی کارروائی کرنا چاہے ہو تو دن کے وقت کریں رات کے وقت اس کی اجازت نہیں ہو گی، اگر سالار زئی کے کسی بھی علاقے میں کوئی مسئلہ پیش آیا تو پوری سالار زئی قوم وہاں جا کر اس کا مقابلہ کرے گی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سالار زئی کے تمام علاقوں میں پہرے مقرر کیے جائیں گے، سپریم کورٹ کے ججوں کے سربراہی میں 2002 سے لیکر 2025 تک تمام آپریشنز کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے، سالار زئی میں اب تک جتنے بھی لوگ گرفتار ہوئے ہیں وہ سامنے لائے جائیں۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج نے مقامی کمانڈرز کو باجوڑ چھوڑنے سے روک دیا۔ فتنہ الخوارج کے نور ولی نے اعلامیے میں کہا کہ مقامی کمانڈرز کو باجوڑ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ فتنہ الخوارج اعلامیے میں باجوڑ آپریشن کو باجوڑ عوام پر ظلم قرار دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے 18 اگست کو باجوڑ عوام سے کہا تھا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو علاقے میں نہ آنے دیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ اور خیبر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق باجوڑ میں شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والا جرگہ ناکام ہو گیا، قبائلی عمائدین کے جرگے نے فتنہ الخوارج سے علاقہ چھوڑنے سمیت 3 مطالبات کیے تھے مگر فتنہ الخوارج نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ باجوڑ کی تحصیل ماموند کے دوعلاقوں میں تقریباً 300 دہشت گرد موجود ہیں، تحصیل ماموند کی آبادی 3 لاکھ سے زیادہ ہے، 40 ہزار سے زیادہ افراد اپنے علاقے چھوڑ چکے ہیں۔ سرکاری ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ خیبر میں بھی 350 سے زیادہ دہشت گرد موجود ہیں، خیبر اور باجوڑ میں موجود دہشت گردوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ افغانی ہیں۔ کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے کہا ہے کہ متاثرین کے لیے رہائش کا انتظام کر لیا گیا ہے، خار میں 107 سرکاری عمارتوں میں لوگوں کو ٹھہرانے کے نتظامات کر لیے ہیں، خار کے سپورٹس کمپلیکس میں خیمہ بستی بھی قائم کی جائے گی۔ کمشنر مالا کنڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں نے مشروط طور پر شہری علاقوں کو خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم وہ مکمل طور پر ضلع چھوڑنے پر راضی نہیں ہوئے۔ باجوڑ امن جرگہ اور مقامی دہشت گرد رہنماؤں کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت اختتام پذیر ہوئی، جس کا مقصد انہیں خطہ چھوڑنے پر آمادہ کرنا تھا۔ 50 رکنی امن جرگہ اور دہشت گرد رہنماؤں کے درمیان بات چیت لوئی ماموند تحصیل میں ہوئی۔ اجلاس میں دہشت گردوں نے جرگہ کے 2 نکاتی مطالبے پر اپنی قیادت سے مشاورت کے لیے ایک دن کی مہلت طلب کی تھی، انہیں کہا گیا تھا کہ (یا تو افغانستان واپس چلے جائیں یا اگر لڑنا چاہتے ہیں تو پہاڑوں کا رخ کریں) ان کی موجودگی مقامی لوگوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس اہم اجلاس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی، جس کا مقصد دہشت گردوں کو پُرامن طریقے سے علاقہ چھوڑنے پر راضی کرنا تھا۔ دہشتگردوں کے رہنماؤں نے جرگہ اراکین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ علاقے میں پُرامن رہیں گے۔ انسداد دہشت گردی آپریشن کے پیش نظر لوئی ماموند تحصیل کے 16 علاقوں سے ممکنہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے متعدد فلاحی تنظیموں نے امدادی کیمپ قائم کر دئیے ہیں۔ یہ امدادی کیمپ زیادہ تر مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے لوئی ماموند اور خار تحصیل کے محفوظ علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن، جے یو آئی (ف) اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی ان تنظیموں میں شامل ہیں، جنہوں نے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی سہولت کے لیے کیمپ قائم کیے ہیں۔ باجوڑ امن جرگہ اور دہشت گردوں کے درمیان ان کی افغانستان پُرامن واپسی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن سکیورٹی حکام نے ملک دشمن عناصر کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جرگے کے ارکان اور کالعدم ٹی ٹی پی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور ہوا۔ باجوڑ قبائلی ضلع میں شہری آبادی کے درمیان مقیم دہشت گرد تخریب کاری اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور سکیورٹی حکام نے قبائلی بزرگوں سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی دہشت گردوں (جن میں زیادہ تر افغان شامل ہیں) کو علاقے سے نکالیں یا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کرا دیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سکیورٹی حکام نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہر قیمت پر آپریشن جاری رکھا جائے گا، تاہم جان و مال کے نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
باجوڑ میں دہشت گردوں کے سہولت کار
09:11 AM, 5 Sep, 2025