برصغیر کی تقسیم سے قبل اور مغلیہ دور کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو خطے میں سیلاب نہیں ملتے۔ کیا اس زمانے میں بارشیں نہیں ہوتی تھیں، دریا نہیں ابلتے تھے، یقینا کچھ ہوتا تھا پانی کو سنبھالا جاتا تھا، پانی مختلف ذخیروں میں محفوظ کیا جاتا تھا، خشک سالی کے زمانے میں اسے استعمال کیا جاتا تھا۔
سائنس کے اسیر اور خالق کائنات کی طرف کم رجحان رکھنے والے اب کلائمیٹ چینج کی تھیوری گھڑ لائے ہیں۔ عقل کے اندھوں کے لئے جاننا ضروری ہے کہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ جانور حشرات الارض نباتات بڑھ رہے ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کی خوراک کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ سب کیلئے پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ پس یہ کلائمیٹ چینج بھی اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے۔ سیلاب کو خدا کا عذاب کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے بچ نکلنے کی کوششیں کرنے والے یاد رکھیں اللہ تعالیٰ صرف پاکستان میں بسنے والوں کا رب نہیں ۔ وہ کائنات کا رب ہے، وہ پتھر کے کیڑے کو رزق دیتا ہے۔ وہ اپنی ہر پیدا کردہ چیز کی بھوک و پیاس کا انتظام کرتا ہے، ہم اس کی کسی نعمت کو سنبھال نہیں سکتے تو یہ ہماری نالائقی ہے۔ کلائمیٹ چینج مافیا یہ بھی بتاتے کہ موسموں میں تغیر و تبدل ہوا تو کیا عقل انسانی منجمد ہے۔ عقل انسانی نے ارتقائی منازل طے کی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے ترقی کی ہے تو پھر اس عقل اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اگر چاند پر قدم رکھا جا چکا اور بلٹ ٹرین سے بھی فائدہ اٹھایا جا چکا تو سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے کے طریقے کیوں نہیں اختیار کئے جا سکتے۔ سیلابی پانی کی رفتار تو ہوائی جہاز اور بلٹ ٹرین کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔
فرمان رب العزت ہے، ہم نے آسمان سے زمین کی ضرورت کے مطابق پانی اتارا ہم جب چاہیں زمین اس پانی کو جذب کر لیتی ہے اور پانی بخارات بن کر پھر آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔بارشوں کے ذریعے برسنے والا پانی ہماری ضروریات کے عین مطابق ہے۔ اسے سنبھالنا اب ہمارا کام ہے، اسے خدا کا عذاب قرار دے کر سادہ لوح عوام کو بہکانا مناسب نہیں۔
عذاب دیکھنا ہے تو پھر طوفان نوح پر ایک نظر ڈالیں۔ آسمان سے پانی برسنا شروع ہوتا ہے۔ دریا ابلنے لگتے ہیں، پانی چڑھنے لگتا ہے تو پہاڑ پر چڑھ کر بچنے کی کوششیں کرنے والا حضرت نوح ؑکا بیٹا بھی ڈوب جاتا ہے۔ کم تولنے والے جھوٹ بولنے والے غریبوں کا مال ہڑپ کرنے والے ، انصاف کے ترازو کے پلڑے برابر رکھنے کی بجائے انہیں اپنی طرف جھکانے والے سب ڈوب جاتے ہیں۔ کوئی قانون ساز کوئی اقتدار کا ایوان کوئی اونچے منصب پر بیٹھنے والا کوئی خدا کو ناراض کرنے والا سلامت نہیں رہتا صرف وہ اس طوفان سے محفوظ رہتے ہیں جو اللہ کے نبی حضرت نوح ؑکی تیار کردہ کشتی میں ان کے بلانے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر دو چار برس بعد آنے والا سیلاب کھیتوں کھلیانوں، غرباء کی بستیوں، ان کے ڈھور ڈنگروں کو بہا لے جاتا ہے۔ یہ بت کدوں، عشرت کدوں احکامات خداوندی کے نافرمانوں، جھوٹوں اور غاصبوں کے ایوانوں میں نہیں پہنچتا۔ عجیب سیلاب ہے، شاید بہت سمجھدار سیلاب ہے۔ اسے سیلاب ہی کہئے، اسے عذاب نہ کہئے، جب عذاب آئے گا تو طوفان نوح کا نقشہ پیش کرے گا۔ ہم سے سینئر نسل سے تعلق رکھنے والے بتاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد پہلا سیلاب 1952ء میں آیا، سیلابی پانی نے پنجاب کے مختلف شہروں کا رخ کیا۔ لاہور شہر میں راوی کا پانی ملحقہ بستیوں میں آیا تو کرشن نگر، راج گڑھ، سنت نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دو منزلہ گھر اس پانی میں ڈوب گئے۔ سیلاب کا پانی اترا تو امدادی کام شروع ہوئے، نقصانات کا اندازہ لگا کر زرتلافی کی تقسیم کے نام پر بیوروکریسی کی پہلی دیہاڑی لگی تھی، بس اس کے بعد یہ سکہ رائج الوقت ہو گیا۔ قیام پاکستان کے بعد قریباً درجن بھر سیلاب آئے، ہر ایک کی کہانی ایک ہی ہے، بارشیں ہو چکی ہیں۔ دریا کے کنارے پانی کا بہائو برداشت نہیں کر سکے، بند ٹوٹ گئے ہیںاور آخری خبر اب بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے۔ آج ملک میں پہلا سیلاب آیا ہوتا تو دل کو یہ کہہ کر تسلی دیتے کہ سیلاب سے نمٹنے کا تجربہ نہیں ہے مگر کہانی الٹ ہے۔ ہم سیانے نہیں سوا سیانے ہیں مگر صرف اپنے مطلب اور اپنی منفعت کے معاملے میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کا سادہ سا حل تھا جو گزشتہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی نہ کیا جا سکا۔ پہلے سیلاب کے بعد جب بھارت نے اضافی پانی چھوڑا تو پانی کی گزرگاہ کا تعین ہو گیا تھا۔ ماہرین سر جوڑ کر بیٹھتے اور اس گزرگاہ کو ضرورت کے مطابق یوں تعمیر کرتے کہ وہ آنے والے پانی کے ریلوں کا بوجھ اٹھا لے، اس کے دائیں بائیں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے انتظامات کئے جاتے، جب یہ پانی سے بھر جاتے تو اضافی پانی کو سمندر کی طرف جانے والے گیٹ کھول دیئے جاتے۔ یوں پانی اپنے ٹریک سے نہ ہٹتا اور پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتا۔ وقت اور ضرورت کے مطابق ہم اس گزرگاہ میں ترمیم اور اضافہ کر سکتے تھے، جس طرح ہم ڈیم کی اونچائی میں یا اس کی گنجائش میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اس گزرگاہ کی تعمیر میں ہمیں کسی غیر ملکی امداد کی ضرورت نہ تھی، صرف افرادی قوت جو پاکستان میں ہمیشہ سے موجود ہے اور تعمیراتی مشینری جو کھدائی میں استعمال ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ کے کنارے اونچے اور پختہ کرنے کے لئے بھی کسی غیرملکی ماہر اور ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔
سیلاب سے محفوظ رہنے کا فقط ایک ہی طریقہ ہے کہ اس گزرگاہ کی تعمیر آج ہی شروع کر دی جاتی،یہیں سے پانی تھر کے خشک اور بنجر علاقوں کو دیا جاسکتا ہے۔ چولستان کو سیراب کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کے علاوہ حیوانات اور نباتات بھی اس سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ ہر صوبہ اپنے حصے کی تعمیر کرے، کسی پر بوجھ نہ بنے۔ ایک بڑی مثال افغانستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وہاں اس درجے کے سیلاب تو نہیں ہوتے لیکن بارشیں تو ہوتی ہیں۔ افغان حکومت ایک ایسی نہر تعمیر کرنے کے قریب ہے جو آج سے تین برس قبل بنانا شروع کی گئی تھی۔ یہ نہر افغانستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک آس پاس کے قریب اور دوردراز علاقوں کو سیراب کرے گی، جس کے نتیجے میں افغانستان خوراک کے معاملے میں پاکستان اور دیگر ممالک کا محتاج نہیں رہے گا۔ زراعت کے ساتھ ساتھ وہ لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ کوئی بھی ڈھنگ کا کام کسی بھی وقت شروع کیا جا سکتا ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر معاملے میں بھارت کو الزام دینا بند کریں، اپنے اعمال پر نظر ڈالیں۔ہم نے اب تک کیا کیا ہے۔ اگر ہم اس علاقے میں ہوتے جہاں آج بھارت ہے تو پانی کو روک کر خود ڈوب جاتے یا اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اسے اسی طرح چھوڑ دیتے جس طرح بھارت پانی چھوڑ دیتا ہے۔ اپنی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، ورنہ عذاب تو کسی اور شکل میں بھی آسکتا ہے۔
سیلاب عذاب ہرگز نہیں
09:10 AM, 5 Sep, 2025