تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی تنظیم حماس جنگ بندی کے معاہدے کو قبول نہ کرے تو اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور زیادہ سخت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وفد جلد مصر کے دارالحکومت قاہرہ جائے گا تاکہ جنگ بندی کے بارے میں تفصیلات طے کی جا سکیں اور ایک واضح شیڈول بنایا جا سکے۔
نیتن یاہو نے زور دیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا لازمی ہے، چاہے یہ کام سفارتی طریقے سے ہو یا فوجی طاقت سے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھی اس منصوبے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو بڑی حد تک قبول کر لیا ہے، لیکن کچھ نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے کردار کو مسترد کیا ہے۔
مصری ذرائع کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات اتوار اور پیر کو ہوں گے، جن میں یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں بات چیت ہوگی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی حماس کو وارننگ دی ہے کہ اگر وہ تیزی نہیں دکھائے گی تو تمام شرائط ختم کر دی جائیں گی اور وہ غزہ میں دوبارہ کسی خطرے کو برداشت نہیں کریں گے۔غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، پچھلے 24 گھنٹوں میں مزید 66 فلسطینی شہید اور 265 زخمی ہو چکے ہیں، جو خطے کی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔