خودکشی کسی ایک لمحے کا فیصلہ نہیں ہوتی۔ یہ برسوں کی خاموشی میں دم توڑتے انسان کی آخری ہچکی ہوتی ہے۔ وہ لمحہ جو کسی رات کی سیاہی میں، کسی دوپہر کی ادھوری نیند میں یا گھر بھرے ہونے کے باوجود چھا جانے والی خاموشی میں آپ کو جکڑ لیتا ہے۔ جب زندگی کی تمام آوازیں بے معنی ہو جاتی ہیں، جب آنکھیں کھلی ہوں مگر روشنی نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔ جب دل تو دھڑک رہا ہو مگر جینے کی کوئی وجہ نہ ملے، تب انسان اپنے ہی ہاتھوں سے زندگی کا دامن چھوڑ دیتا ہے اور اپنی روح کو جسم کی قید سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہ فیصلہ وہ نہیں جو لوگ سمجھتے ہیں۔ جو ہر وقت مسکراتا نظر آتا ہے، جو دوسروں کو ہنسانے کے لیے اپنی اداسی چھپاتا ہے، وہ بھی اندر سے ٹوٹ چکا ہو سکتا ہے۔ جب کوئی خودکشی کرتا ہے تو دراصل وہ جینے کی تمام وجوہات ہار چکا ہوتا ہے۔ اس کی دنیا خالی ہو چکی ہوتی ہے اور وہ صرف چاہتا ہے کہ کوئی اسے سن لے مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔
ہماری تہذیب نے دکھ کو بہت دیر سے شناخت کیا ہے۔ ہم نے رونے کو مردانگی کی کمزوری ٹھہرایا، صبر کو عورت کی لازمی خصوصیت بنا دیا اور بچوں کو خاموش رہنے کی تربیت دے دی۔ ایسے میں خاموشی زہر بن کر پھیل جاتی ہے ،وہ زہر جو اندر سے وجود کو خالی کر دیتا ہے۔ خودکشی صرف ذاتی المیہ نہیں کہ یہ سماجی آئینہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کہاں ناکام رہے ہیں۔ ایک ماں جس نے بیٹے کی زخمیدہ آواز نہ سنی، وہ باپ جو باپ ہونے کے زعم میں اولاد سے دور نکل گیا، وہ دوست جو مذاق اڑاتا رہا، وہ استاد جو سمجھ نہ پایا، وہ ساتھی جو سننے کو تیار نہیں تھا یہ سب کسی نہ کسی طرح اس آخری لمحے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔پاکستان میں خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال نو ہزار سے زیادہ لوگ اپنی زندگی خود ختم کر لیتے ہیں، ان میں زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں۔سترہ سال سے تیس کی عمر تک کے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، ہر جگہ یہ درد پھیلا ہوا ہے۔ وجوہات؟ ذہنی دباؤ، مالی پریشانیاں، گھریلو جھگڑے، ناکام محبت، بے روزگاری اور سب سے بڑھ کر جذباتی تنہائی۔ ہمارے ہاں چونکہ خودکشی کو جرم سمجھا جاتا ہے، اس لیے متاثرہ خاندان خوف کے مارے خاموش رہ جاتے ہیں۔ یہ خاموشی ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خودکشی گناہ ہے۔ ہاں، ہے۔ مگر کیا صرف یہ کہہ دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے؟ کیا "صبر کرو، اللہ سب ٹھیک کرے گا" کہہ کر ہم اس درد کو کم کر سکتے ہیں؟ جب اندر کی دنیا ٹوٹ رہی ہو، جب ہر سانس بوجھ لگنے لگے، جب الفاظ چاقو بن کر دل کو چیرنے لگیں، تو وعظ، دعائیں یا گناہ کا خوف کام نہیں آتا۔
جیسے کہ اوپر لکھا کہ جب خودکشی کو جرم سمجھا جائے تو خاندان خوف میں چپ رہتے ہیں اور علاج یا بات کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ خاموشی نے ایک سماج کو اندر سے کھانا شروع کر دیا ہے۔ہم اسلام، اخلاق اور ایمان کی زبان میں اس مسئلے کو سنبھالنے کی حالت میں نہیں ہیں جب تک ہم درد کو صرف نصیحت تک محدود رکھیں۔ "صبر کرو" کہنا کبھی کبھار تسلی دیتا ہے مگر جب دل ٹوٹ چکا ہو تو وعظ خالی کہانی لگتا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ ایمان یا گناہ کا ڈر انسان کے اندر کے زخموں کو بھرنے کے لیے کافی نہیں۔ جینے کے سبب تو انسان کے دل سے آتے ہیں۔ تعلق، مفہوم، کسی کے لیے مزاجِ حاضر ہونا۔ یہ وہ چھوٹی چیزیں ہیں جو کسی کو زندہ رکھنے کا کام کرتی ہیں۔ایک ہاتھ جو تھام لے، ایک نظر جو دیکھ لے، ایک لفظ جو کہہ دے کہ میں حاضر ہوں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے درد کو سمجھیں، ان کی خاموشی کو سنیں، انہیں جینے کی کوئی وجہ دیں نہ کہ مزید دباؤ ڈال کر خاموش کر دیں۔ خودکشی کرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخری دم تک لڑتے رہے ہوتے ہیں۔وہ جو سوشل میڈیا پر خوش نظر آتے تھے، وہ جو دوسروں کو ہنسانے کے لیے اپنا غم چھپاتے تھے، وہ جن کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ اندر سے وہ ٹوٹ چکے ہیں۔ خودکشی ہمیشہ ایک پل کا فیصلہ نہیں بلکہ وہ پل ہوتا ہے جب سب دلائل ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر اس پل پر کوئی ہاتھ تھام لے، کوئی آواز سن لے، تو شاید ایک زندگی بچ جائے، مگر اکثر وہ ہاتھ یا وہ آواز موجود نہیں ہوتی۔
جینا آسان نہیں، خاص طور پر ان کے لیے جو روزانہ اپنے اندر کی جنگ لڑتے ہیں، جو دکھوں کو ہنسی میں چھپا کر زندہ رہتے ہیں۔ ان کے لیے زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ کسی کی زندگی کو تھوڑا آسان یا تھوڑا اور مشکل بنا دے۔ ایک لفظ، ایک نظر، ایک ہاتھ کسی کی دنیا بدل سکتا ہے۔زندگی میں ناکامیاں، دکھ، رشتوں کا بگڑنا، مالی پریشانیاں،یہ سب زندگی کا اختتام نہیں، صرف ایک باب ہیں اور ہر باب دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ ہمیں خود سے محبت نہ سہی مگر ان لوگوں کے لیے تو جینا چاہیے جو ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ زندگی صرف ایک ناکام محبت یا ایک دھوکے کا نام نہیں۔ یہ ان لاکھوں چھوٹی خوشیوں، دعاؤں اور امیدوں سے جڑی ہوتی ہے جو ہمارے اردگرد موجود ہیں، چاہے ہمیں نظر آئیں یا نہ آئیں۔اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں اور کبھی خود کو ختم کرنے کا سوچا ہے تو رک جائیے۔ بس ایک لمحے کے لیے ٹھہر جائیے۔ کسی سے بات کیجئے، چلائیے ، رویئے ، لکھیے مگر ختم مت ہوں۔ زندگی شاید اس وقت تاریک لگ رہی ہو مگر روشنی کسی موڑ پر ضرور ہے۔ آپ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی،اگر آپ کے آس پاس کوئی ایسا ہے جو خاموش ہو گیا ہے، جو زندگی سے کٹ سا گیا ہے، تو اسے "تم تو ٹھیک لگ رہے ہو" کہنے کے بجائے بس اتنا کہیے کہ "میں ہوں، تم اکیلے نہیں ہو"۔ خودکشی صرف ایک زندگی نہیں لیتی بلکہ یہ ایک پورے خاندان کو تباہ کر دیتی ہے۔ ہمیں مرنے والوں پر آنسو بہانے کی بجائے زندہ لوگوں کو بچانے پر توجہ دینا ہوگی۔ گھروں، سکولوں، دفاتر میں ہمیں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنی ہوگی۔ خاموشی توڑنی ہو گی۔ زندگی آسان نہیں مگر ختم کرنے کے قابل بھی نہیں۔ اگر آپ کسی کے اندر وہ ایک پل بدل سکتے ہیں تو بدلیں کیونکہ بس ایک سنی ہوئی بات، ایک دیکھی ہوئی نظر، ایک تھاما ہوا ہاتھ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔
تنہائی کا منظر نامہ اور خودکشی
09:27 AM, 5 Oct, 2025