اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف یورپ میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری

12:40 AM, 5 Oct, 2025

لندن : یورپ کے مختلف اہم شہروں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری کارروائیوں کے خلاف ہزاروں افراد نے سڑکوں پر آ کر مظاہرے کیے۔ لندن، روم، بارسلونا، میڈرڈ، لزبن اور ڈبلن جیسے شہروں میں بڑے جلسے اور ریلیاں منعقد کی گئیں جن میں فلسطینیوں کے حق میں بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا۔

قطر کے میڈیا ادارے الجزیرہ کے مطابق اسپین کے شہر بارسلونا اور میڈرڈ میں یہ احتجاجات کئی ہفتے قبل طے کیے گئے تھے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ فلسطینی پرچم تھامے اور بینرز اٹھائے مظاہرے میں شریک ہوئے۔ بارسلونا کی مرکزی شاہراہ پاسئیگ دے گراسیا پر لاکھوں افراد نے شرکت کی، جنہوں نے ہاتھوں میں ایسے نعرے اٹھائے جیسے "نسل کشی بند کرو"، "غزہ ہمارا درد ہے" اور "فلوٹیلا کو جانے دو"۔

یہ احتجاجات اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے لیے امدادی کھیپ لے جانے والی "گلوبل استقامت فلوٹیلا" کو روک کر 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرنے کے واقعے کے بعد زور پکڑ گئے ہیں، جن میں 40 سے زیادہ ہسپانوی شہری شامل ہیں، جن میں بارسلونا کے سابق میئر بھی شامل ہیں۔

اٹلی میں 3 اکتوبر کو ہونے والی ہڑتال میں ملک بھر سے 20 لاکھ سے زائد افراد نے غزہ کی حمایت میں آواز بلند کی، جبکہ روم میں مختلف فلسطینی تنظیموں، طلبہ اور مقامی یونینز کے تعاون سے ایک بڑی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔

لندن میں بھی فلسطینی حمایت میں احتجاج جاری ہے، جہاں پولیس نے مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر ہوئے حملے کی وجہ سے مظاہروں کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی مگر منتظمین نے اسے مسترد کر دیا۔ ٹرافلگر اسکوائر میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس نے 175 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں بھی ہزاروں افراد نے اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے فلوٹیلا کو روک کر 16 آئرش شہریوں کو گرفتار کیا۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی کھیلوں میں اسرائیلی ٹیموں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حماس نے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے کچھ نکات قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔ اس لڑائی میں اب تک 66 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ شدید تباہی کا شکار ہے۔

یہ احتجاجات یورپی عوام کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق میں بڑھتے ہوئے جذبات اور عالمی برادری سے فوری انصاف اور امن کے قیام کے لیے سخت مطالبات کا اظہار ہیں۔
 
 

مزیدخبریں