صدرِ مملکت آصف زرداری کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات، دونوں رہنماؤں کا تاریخی ، برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کاعزم

02:35 PM, 5 Nov, 2025

دوحہ: امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے پاکستان اور اس کی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قطر تیار ہے۔ یہ بات انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے دوحہ میں ملاقات کے دوران کہی۔

ملاقات میں امیر قطر نے پاکستانی کمیونٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان کے کردار کی تعریف کی اور خواہش ظاہر کی کہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو۔ اس موقع پر، صدر زرداری نے قطر کی ترقی اور امیر قطر کی قیادت کو سراہا اور حکومت پاکستان کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ امیر قطر نے پاکستان سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو بروقت اور خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے چین، مغرب اور خلیجی ممالک سے تعلقات ہیں، جو اس کی منفرد حیثیت کو اجاگر کرتا ہے۔

صدر زرداری نے اس ملاقات کے دوران دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ میں قطر کے ساتھ مزید تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے قطر کے دوحہ مذاکرات کی میزبانی اور افغانستان سے متعلق اس کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔

امیر قطر نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے حکام اس تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے فوری رابطے کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل کو حل کرکے خطے میں پائیدار امن کی جانب بڑھیں گے۔

اس ملاقات میں امیر قطر نے پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے آئندہ سال کے اوائل میں پاکستان کے دورے کا اعلان کیا۔ ملاقات میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی موجود تھے۔

صدر زرداری نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے دوران قطر کے قومی سلامتی کے تحفظ کے اقدامات کو سراہا اور قطر کی قیادت کے مثبت کردار کو تعریف کی۔

قطر کے وزیر اعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حالیہ پاک-بھارت تنازع میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں جاری اقدامات خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

مزیدخبریں