افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکہ کے دو رُخ

09:18 AM, 5 Nov, 2025

ہماری فوج کی تربیت کا معیار بلاشبہ کسی بھی اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ فوج کے ہم پلہ قرا ر دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے سویلین اداروں میں جو بدنظمی، بدعملی و بداعمالی پائی جاتی ہے، اس کا براہ راست تعلق سویلین اداروں میں رائج تربیتی معیار سے ہے۔ یہاں تربیتی اداروں کی تزئین و آرائش اور انتظام و انصرام پر کروڑوں اربوں خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اصل مدعا تربیت پر کچھ خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ اداروں کی ابتری و پست کارکردگی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے ہاں سول اداروں میں سی ایس پی یعنی سول سروسز آف پاکستان اعلیٰ ترین سمجھا جاتا ہے جو پورے ملک سے بہترین جوانوں کو چن کر تربیت دیتا ہے اور سول اداروں کو چلانے کی تربیت پا کر یہ نوجوان افسر لگتے ہیں۔ ہمارے سول اداروں کی صورتحال دیکھ کر ہم اس ادارے کے تربیت یافتگان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
دوسری طرف ہماری مسلح افواج ہیں، ان کی کارکردگی دیکھ کر ہم ان کی تربیت گاہوں کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان کے ساتھ جو معرکہ آرائی ہوئی اس میں ہماری فوج نے جس طرح ری ایکٹ کیا، دشمن کو دھول چٹائی، اس کی مثالیں دنیا کی سپریم طاقت امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیتے ہوئے تھکتا نہیں ہے۔ ہمارا مکار دشمن ہندوستان اور اس کا مکار ترین لیڈر مودی پاکستان پر حملے کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے۔ پوری قوم یہ بات جانتی ہے لیکن ہمارے ہاں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں پایا جاتا ہے، اس کی وجہ ہماری مسلح افواج ہے۔ قوم کو اپنی فوج کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہماری مسلح افواج دشمن کو ایک بار پھر دھول چٹانے کے لئے مکمل طور پر تیار بیٹھی ہیں۔
ویسے ہمارے دشمن افغانستان میں بھی ہمارے خلاف مورچہ بند ہیں۔ تحریک طالبان چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان، دونوں پاکستان کے خلاف مورچہ زن ہیں۔ انہیں پاکستان کے ازلی دشمن کی کھلی اور پوشیدہ امداد حاصل ہے۔ اب تو ان کے درمیان یعنی بھارت اور افغانستان کے درمیان دفاعی معاہدہ بھی ہو چکا ہے جس کے تحت بھارت افغان حکمرانوں کو کھلے عام مدد فراہم کر سکتا ہے اور اس کا مقصد وہی پاکستان دشمنی ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس سے پہلے بھی جب امریکی اتحادی فوجیں افغانستان میں براجمان تھیں تو ہندوستان، امریکی کٹھ پتلی حکمرانوں کی مدد سے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دیتا رہا ہے۔ پاکستان نے اس وقت بھی دہشت گردی کے خلاف کھل کھلا کر مورچہ بندی کی تھی مقابلہ کیا تھا۔ ان پر ضرب کاری لگائی تھی اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ 2014ء میں جب آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے انسانیت سوز حرکت کی تو پھر پاکستان قوم نے مکمل یکسوئی اور جرأت کے ساتھ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا فیصلہ کیا اور فوج کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ امریکی فورسز کے 2021ء میں افغانستان سے انخلا کے بعد دہشت گردی کی یہ جنگ نہ صرف شدت اختیار کر گئی ہے بلکہ اس کی جہتوں میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔ پاکستان میں بسنے والے افغان اور افغانستان کی طالبان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ دونوں طالبان گروہ بھارت کے ساتھ مل کر، بھارتی مدد کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کوفروغ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے اپنی افغان پالیسی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تبدیلی کی ہے۔ اولاً افغان مہاجرین کی مہمانداری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہیں یہاں سے چلے جانے کا کہہ دیا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین اس پالیسی کے تحت پاکستان سے نکالے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر افغانوں کی آزادانہ آمد و رفت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اب یہ نقل و حمل ویزہ سسٹم کے تحت ہو گی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر بھی قانون کی عمل داری کا شکنجہ فٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے گزشتہ روز سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے 2025ء میں حاصل کردہ نتائج کا تفصیلاً ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2025ء میں پاک فوج نے معلومات کی بنیاد پر 62ہزار 113آپریشن کئے۔ گویا روزانہ کی بنیاد پر 208آپریشن کئے گئے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے 4373 واقعات ہوئے جس میں 1667 دہشت گرد ہلاک کئے گئے۔ 1073 شہید ہوئے۔ شہدا میں فوج کے584، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد 133اور 356سویلین شامل ہیں۔ فوج مکمل یکسوئی کے ساتھ ملک دشمنوں کے ساتھ نمٹ رہی ہے اور اس کی کارکردگی قوم کے سامنے ہے۔ ڈی جی نے بتایا کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ سیاست، سیاستدانوں کا کام ہے ۔ کے پی میں گورنر راج ہو گا یا نہیں، اس کا فیصلہ سول حکومت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کے امر کے نام پر بیعت کر رکھی ہے، اس لئے دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان، فی الاصل تحریک طالبان افغانستان کی برانچ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے صحافیوں کے ساتھ تقریباً 3 گھنٹے تک ملاقات کی۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے معاملات کی وضاحت کی، ان کی گفتگو سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ فوج اپنے پیشہ ورانہ کام میں یکسوئی و مہارت کے ساتھ مصروف ہے اور کارکردگی دکھا رہی ہے۔ دوم فوج کو فکری طور پر بھی یکسوئی حاصل ہے کہ اس نے کیا نہیں کرنا ہے۔ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا، پاکستان کی جغرافیائی حدود کی سلامتی کو یقینی بنانا، ہماری افواج کے فرائض منصبی میں شامل ہے اور ہماری فوج اپنے اس فرض کی ادائیگی میں کامل یکسوئی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ دوسری طرف اسے فکری و نظری طور پر بھی یکسوئی حاصل ہے کہ اس نے سیاست میں حصہ نہیں لینا۔ سیاست، سیاستدانوں کا کام ہے۔ اس حوالے سے وہ کامل فکری یکسوئی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے سویلین ادارے بھی اپنے فرائض منصبی اس طرح ادا کر رہے ہیں جیسا کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ کیا ہمارے ادارے عامۃ الناس کی بھلائی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ کیا سیاستدان اپنا کام ویسے کر رہے ہیں جیسا انہیں کرنا چاہئے اور جیسا قوم ان سے توقع کرتی ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے، اس لئے پاک فوج زندہ باد۔

مزیدخبریں