77 سال سے زائد ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے معاہدہ کے تحت (ن) لیگ کو بالآخر سندھ میں گورنر شپ مل گئی جو حکومت سازی کی ضرورت کے تحت ایم کیو ایم کو دی گئی تھی۔ گورنر سندھ کے لئے (ن) لیگی قیادت کی نظر جناب نہال ہاشمی پر پڑی ہے جن کی پارٹی اور قیادت سے وفاداری مشاہداللہ مرحوم کی طرح ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے بہت سے لیڈر اور کارکن اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
اہم سوال پیدا ہوتا ہے سندھ میں گورنر شپ ملنے سے جماعتی سطح پر (ن) لیگ کیا حاصل کر سکے گی گورنر تو ایک آئینی عہدہ ہے۔ (ن) لیگ کو سندھ میں انتظامی اختیارات رکھنے والی حکومتیں بھی مل چکی ہیں لیکن تادم تحریر (ن) لیگ سندھ میں مضبوط تنظیمی ڈھانچہ نہیں بنا سکی۔ میری دیانت دارانہ رائے ہے اس کی تمام تر ذمہ دار پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہے جس نے کسی بھی وجہ سے سندھ میں پارٹی کو نظرانداز کرنے کا وطیرہ اختیار کر رکھا ہے اس کے باوجود مقامی لیڈر اور کارکن ”پیوستہ شجر سے امید بہار رکھ“ کی کیفیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اندازہ کیا جائے گزشتہ انتخابات کے موقع پر اعلیٰ قیادت تو کیا کسی تیسرے درجہ کے قابل ذکر لیڈر نے سندھ کا دورہ نہیں کیا اس کے باوجود کارکنوں نے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے پورے عزم و ہمت سے الیکشن لڑا اگرچہ سندھ اسمبلی میں ایک نشست بھی حاصل نہ ہو سکی لیکن کسی ایک امیدوار کی ضمانت ضبط نہیں ہوئی۔ قیادت توجہ دیتی تو آج (ن) لیگ سندھ کی پارلیمانی پارٹیوں میں شامل ہوتی اس پر میں نے روزنامہ ”جرا¿ت“ میں ”شکست فاتحانہ“ کے عنوان سے تفصیلات دی تھیں۔ 5ستمبر 2024ءکو ”(ن) لیگ سندھ مضطرب کیوں“ کے زیرعنوان ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان، سجاول، بدین، حیدر آباد، ٹنڈو آدم وغیرہ کے کارکنوں کے اس اضطراب کی نشاندہی کی تھی جب پیپلزپارٹی کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبے کے نام پر (ن) لیگ کی پنجاب میں حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی
ان کارکنوں کا موقف تھا سندھ میں اس کا جواب کیوں نہیں دیا جارہا۔ اسی طرح جب پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب سلیم حیدر نے وائس چانسلروں کی تقرریوں اور دیگر معاملات میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کیں تب (ن) لیگ سندھ کے کارکنوں کے ردعمل کی نشاندہی 27ستمبر 2024ءکے زیر عنوان کالم ”اور نہ لاﺅ سندھ میں اپنا گورنر“ کی تھی۔ ان کا مو¿قف تھا پیپلزپارٹی نے پنجاب میں گورنر شپ حاصل کر لی جسے وہ (ن) لیگی حکومت کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ سندھ میں (ن) لیگ کا گورنر ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔
بہرحال اب سندھ میں (ن) لیگ کا گورنر آگیا ہے اس طرح سندھ اور پنجاب میں ایک توازن پیدا ہو گیا ہے سندھ میں (ن) لیگ گورنروں جسٹس سعیدالزماں اور محمد زبیر کے برعکس نہال ہاشمی ایک منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں۔ کارکنوں کی ان پر نظر ہے وہ محض اپنی آئینی ذمہ داریوں تک ہی خود کو محدود رکھیں گے یا صوبائی صدر جناب بشیر میمن کے ساتھ مل کر سندھ میں (ن) لیگ کو منظم و فعال بنانے پر بھی توجہ دیں گے۔ 30اپریل 2021ءکے کالم کا عنوان تھا۔ ”مریم کراچی کیوں نہیں گئیں“ اس کا پس منظر مریم نوازشریف کا یہ اعلان تھا ”جب تک گروپ بندی ختم نہیں ہوتی میں کراچی نہیں جاﺅں گی“۔ تب توجہ دلائی تھی گروپ بندی محض اعلان سے ختم نہیں ہو گی اس کی واحد صورت یونین کونسل کی سطح پر فی الحال نہ سہی اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر پارٹی کے انتخابات ہیں۔ ظاہر ہے اس میں وقت لگے گا البتہ فوری طور پر یہ ہو سکتا ہے اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر کارکنوں کی جانب سے گورنر نہال ہاشمی کو استقبالئے دیئے جائیں جن میں مہمان خصوصی صوبائی صدر جناب بشیر میمن ہوں اس طرح پورے سندھ میں پارٹی کی فعالیت اجاگر ہو گی۔ د وسرے پیپلزپارٹی کی جانب سے اسے گورنر کی سیاسی سرگرمیوں کا نام بھی نہیں دیا جا سکے گا۔ یہ تحریر کراچی سمیت (ن) لیگ سندھ کے کارکنوں کی سوچ اور خواہش کی عکاس ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا نہال ہاشمی ایک منجھے ہوئے سیاسی لیڈر ہیں وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں پارٹی نے انہیں کیا دیا ہے اور وہ جواب میں پارٹی کو کیا دے سکتے ہیں۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر وغیرہ جیسے بڑے شہروں میں گورنر کو دیئے گئے استقبالیہ میں اعلیٰ قیادت بھی شریک ہوتے تو اس سے کارکنوں کی زبردست حوصلہ افزائی ہو گی۔
(ن) لیگ سے معاہدہ کے تحت پیپلزپارٹی نے اول روز سے اس معاہدہ کے تحت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گورنروں کے عہدے حاصل کرنے تھے جبکہ وفاق میں حکومت سازی کی ضرورت کے تحت سندھ میں گورنر شپ ایم کیو ایم کو دی گئی تھی۔ ایم کیو ایم کا گورنر پیپلزپارٹی کو اس لئے گوراہ تھا کہ اس سے سندھ میں (ن) لیگ کے گورنر کا راستہ رکا ہوا تھا، تاہم اس کے باوجود گورنر کامران ٹیسوری کراچی میں خود کو پیپلزپارٹی کے سیاسی مقاصد تک محدود نہیں رکھ سکتا تھا اپنی جماعت کے سیاسی مفادات کو کیسے پس پشت ڈال دیتا جو ظاہر پیپلزپارٹی کے لئے قابل برداشت نہیں تھا۔ گورنرن ہاﺅس کراچی کے مسائل پر بڑی کانفرنس پیپلزپارٹی کے لئے خطرہ کی گھنٹی بنی جو کامران ٹیسوری کی سبکدوشی کا باعث بنی تاہم پیپلزپارٹی کے لئے یہ کامل سکون کا باعث اس لئے نہیں ہے کیونکہ گورنر کی تبدیلی کو کراچی کے حالات بہتر بنانے سے مشروط کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت یہ شرط کس حد تک پوری کر سکے گی یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا جو زیادہ دور نہیں ہو گا۔
گورنر نہال ہاشمی، کارکنوں کی توقعات
07:50 AM, 6 May, 2026