خبر کے مطابق لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں ایک بار پھر پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں ائیرکوالٹی انڈکس 176 ریکارڈ کیا گیا۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کا ائیرکوالٹی انڈکس 173 اور دہلی کا 163 ریکارڈ کیا گیا، اس طرح جکارتہ آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے جبکہ دہلی تیسرے نمبر پر رہا۔ ویسے دنیا فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ صنعتی ترقی کے باعث رکازی ایندھن کے استعمال میں اضافے نے فضا میں کاربن کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ بیس پچیس سال قبل چین پر فضائی آلودگی پھیلانے کے حوالے سے تنقید کی جاتی تھی۔ امریکہ نے عالمی فضائی آلودگی کے لیے چین کو مجرم قرار دینا شروع کیا تھا۔ اس دور میں بیجنگ دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں نمایاں پوزیشن پر تھا۔ چین نے اس مسئلے پر قابو پایا۔ ویسے چین آج بھی ایندھن کی کھپت کے اعتبار سے صف اول میں کھڑا نظر آتا ہے لیکن فضائی آلودگی کے حوالے سے اس کا نام کسی لسٹ میں نظر نہیں آتا ہے۔ چین نے اس ایشو پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔ بیجنگ دنیا کے صاف و شفاف شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔ چین کی صنعتی ترقی اپنی طے شدہ رفتار کے ساتھ جاری ہے۔ ایندھن کا استعمال بھی حسب ضرورت جاری ہے۔ آلودگی کا عفریت قابو میں لایا جا چکا ہے۔ زندہ قوموں کا یہی وتیرہ ہوتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ لاہور کی آبادی ایک کروڑ 52 لاکھ کے قریب ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں اس کا 42 واں نمبر ہے۔ پاکستان میں کراچی کے بعد یہ سب سے بڑا آبادی والا شہر ہے۔ ایک مربع میل میں 16000 یا ایک مربع کلومیٹر میں 6300 شہری بستے ہیں۔ شہر 9 انتظامی ٹاو¿نز اور ایک عسکری انتظامی پر مشتمل ہے۔ لاہور کو مشرق کا پیرس بھی کہا جاتا ہے۔ اسے باغوں کے شہر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ شہر انجینئرنگ کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کار مینوفیکچرنگ، ہیوی مشینری، سٹیل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کیمیکلز اور کمپیوٹرز کی صنعتوں کے ساتھ قومی پیداوار میں 13.2 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ یہاں کی اوسط معاشی نمو کی شرح 6 فیصد ہے جو خاصی معقول اور قابل رشک بھی ہے۔ لاہور پاکستان کا ثقافتی دل ہی نہیں بلکہ قومی سیاست کا مرکز بھی ہے۔ کوئی سیاسی تحریک، کوئی فکری انقلاب، کوئی حکومتی تبدیلی کی کاوش، لاہور کی شرکت کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی ہے۔ لاہور گزشتہ 45 سال سے حکمرانوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف اور اب مریم نواز شریف، پاکستان و پنجاب میں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔ مسلم لیگ اور شریف خاندان پاکستان پر حکمران ہے، اس کا تعلق بھی لاہور سے ہے۔ اسی شہر لاہور میں شریف خاندان نے تعمیر و ترقی کے کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں، یہاں شہریوں کے لیے بہترین انفراسٹرکچر اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تسلسل کے ساتھ اربوں کھربوں روپے خرچ کیے گئے بلکہ ہنوز یہ عمل جاری ہے۔ ن لیگ نے یہاں ریکارڈ تعمیراتی کام کیے ہیں۔ ن لیگی حکمرانوں کی کارکردگی مثالی رہی ہے، دیگر صوبوں کی حکومتوں کی کارکردگی کے مقابلے میں پنجاب ن لیگی حکومت کی کارکردگی لاریب مثالی رہی ہے۔ اس کے باوجود لاہوریوں کے لیے خالص دودھ کا ایک لٹر ہو یا صاف شفاف پانی کا ایک لٹر بھی دستیاب نہیں ہے۔ فضائی آلودگی میں تو چلیں مان لیتے ہیں کہ مکمل کنٹرول میں لانا ہمارے لیے شاید ابھی ممکن نہیں ہو گا لیکن صاف پانی اور خالص دودھ کی دستیابی کو یقینی بنانا کیا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان قدرتی اور انسانی وسائل سے مالامال ہے۔ یہ کوئی زبانی یا کتابی بات نہیں ہے بلکہ یہ زمینی حقائق ہیں۔ پاکستان کی مجموعی آبادی 2023ءکی مردم شماری کے مطابق 24 کروڑ سے تھوڑی زائد ہے۔ 62 فیصد آبادی دیہاتوں میں جبکہ 38 فیصد شہروں میں رہتی ہے۔ آبادی کی شرح افزائش 2.6 فی صد ہے۔ آبادی میں جوان آبادی 60 فیصد سے زائد ہے جو ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر اس یوتھ کو کارآمد بنا لیا جائے تو پاکستان ایک معاشی دیو کی شکل اختیار کر سکتا ہے پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ ظاہر ہے حکومت ہی یہ سب کچھ کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت، مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت، پاکستان اور صوبہ پنجاب میں طویل ترین حکومت کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اس کا مطلب سیدھا سادھا مفہوم یہی لیا جانا چاہیے کہ یہاں صوبے یا شہر لاہور میں جو کمزوریاں و خامیاں ہیں اس کی صریحاً ذمہ داری انہی حکمرانوں کے سر جاتی ہے۔ تعمیر و ترقی کی بہت سی منازل طے کرنے کے باوجود، پاکستان کا پیرس بن جانے کے باوجود شہر لاہور کی حالت کسی طور بھی قابل رشک نہیں ہے۔ شہری بنیادی سہولیات زندگی یعنی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ ابھی تک پرائمری سطح کی تعلیم کے مسائل بھی حل نہیں ہو سکے ہیں۔ لاکھوں بچے جنہیں سکول میں ہونا چاہیے تھا وہ سکول سے باہر ہیں۔ کروڑوں نوجوان جنہیں معاشی سرگرمیوں میں
فعال کردار ادا کر رہے ہونا چاہیے تھا وہ سڑکیں ناپ رہے ہیں، بیروزگار ہیں۔ شہر لاہور میں صحت و صفائی کے مسائل بھی ہیں، سنجیدہ مسائل ہیں۔ حکمرانوں کو مسائل حل کرنے سے زیادہ اپنی شہرت کی فکر رہتی ہے۔ وہ منصوبوں پر کم پروپیگنڈے پر زیادہ فوکس کرتے ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں کا جمع کردہ پیسہ ذاتی تشہیر پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ رہی سہی کسر قرض دینے والے اداروں کی شرائط ماننے نے پوری کر دی ہے۔ حالات بہت ٹھیک نہیں ہیں، معاملات بہتری کی طرف جاتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ہماری افزائش آبادی کی شرح 2.6 فیصد سالانہ جبکہ معاشی نمو کی شرح 2 فیصد سالانہ کے برابر چل رہی ہے، اس طرح تو معاملات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہمارے نوجوان مکمل طور پر ناامیدی کا شکار ہیں، انہیں اپنے حال پر اعتبار نہیں ہے۔ مستقبل کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ ریاستی اداروں پر عوام کی اکثریت کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ سیاسی قیادت اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔ خدائے ذوالجلال نے ہمیں جو نعمتیں قدرتی و انسانی وسائل کی صورت میں عطا کر رکھی ہیں، ہم ان سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھا پائے ہیں۔ قرضے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ معیشت کمزور سے کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ نظام کی کمزوریاں عیاں ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ نتیجہ نجانے کیا نکلے گا۔
لڑکھڑاتا نظام اور اشرافیہ کی بے حسی
07:45 AM, 6 May, 2026