اسلام آباد : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت خطے میں کشیدگی بڑھا کر جنگ کا ماحول بنانا چاہتا ہے، لیکن پاکستان کبھی پہل نہیں کرے گا۔ اگر بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں "علاقائی مکالمہ 2025" کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ جس تھانے میں مقدمہ درج ہوا، وہاں پہنچنے میں ہی 45 منٹ لگتے ہیں، لیکن ایف آئی آر 10 منٹ بعد ہی درج ہو گئی، جو سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت اندرونی سیاسی دباؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، اگر پانی روکا گیا تو یہ کھلی جارحیت ہو گی، اور پاکستان اپنے حصے کے پانی کا دفاع ہر صورت کرے گا۔ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ 29 اور 30 اپریل کی شب بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن پاک فضائیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زمین کبھی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور عالمی برادری کو چاہیے کہ خطے کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے، خاص طور پر مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہ کرے۔