تقسیم در تقسیم کا طوفان

09:46 AM, 5 May, 2025

یہ بات تو طے ہے کہ ہم کبھی بھی پاکستانی قوم نہیں بن سکے۔ میرے بچپن میں ہماری قوم سندھی، بلوچی، پنجابی اَور پٹھان میں تقسیم تھی۔ پھر اِس میں ایک قوم کا اِضافہ ہوا۔ یہ مہاجر قوم تھی۔ یوں ملک میں پانچ قومیتیں آباد ہوگئیں۔ پھر اَسی کی دہائی میں ہم پر اچانک یہ عقدہ کھلا کہ ہم مسلمان ہیں۔ہر طرف اِسلام اِسلام کے نعرے لگنے لگے۔چنانچہ ہمارے اَندر مذہب  کے نام پر بھی تقسیم شروع ہوگئی۔ سنی، شیعہ کے جھگڑے شروع ہوئے۔  پھر بریلوی اَور دیوبندی کی تفریق ہوئی۔ اہل حدیث اَور اہل سنت کے مسائل جاگے۔ گویا تقسیم در تقسیم ہوگئی۔
اِس کے بعد ایک نئی چیز سامنے آئی۔ وہ یہ تھی کہ یہ جٹ ہے، وہ آرائیں ہے، یہ گجر ہے، وہ سومرو ہے، یہ راجپوت ہے وغیرہ۔ اِس کے بعد تو تقسیم کا ایک ایسا طوفان آیا کہ الامان الحفیظ۔ اَب ہم مکمل طور پر قبیلوں اَور قومیتوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ لوگ اَپنی قومیت کے بل پر ہی پہچانے جانے کو اَپنا طرۂ  امتیاز سمجھتے ہیں۔ اِس سے اْوپر کی سوچ پاکستان کے باسیوں کے اَندر سے ختم ہوگئی ہے۔ چنانچہ آپ کاروں کے پیچھے لکھا ہوا دیکھیں گے گجر، جٹ، چدھڑ، کاکڑ، مغل۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ کیا سوچ ہے جس کے تحت لوگ اپنی کاروں اَور موٹر سائیکلوں کے پیچھے یہ الفاظ لکھواتے ہیں۔  اِس کے بعد یہ سوچ چلی کہ شادی اَپنی برادری اَوراَپنی ذات میں ہی کی جائے۔ چنانچہ راجپوت مر جائے گا لیکن مغل سے شادی نہیں کرے گا کیونکہ اْس کے نزدِیک دْوسری کوئی ذات اْس کے مقابلے کی نہیں ہے۔ یہی حالات دِیگر ذاتوں کا بھی ہے۔ ہر طرف سے ایک تنگی معاشرے میں در آئی ہے۔ ایک زمانہ تھا  کہ پڑھے لکھے لوگ اِن چکروں میں نہیں پڑتے تھے۔ اَب سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہی اِس چیز کے پیچھے چل رہے ہیں۔ لوگ اَپنے نام کے ساتھ اَپنی ذات کا دم چھلا لگانا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ میرے اَپنے کئی دوست اَیسے ہیں جنہوں نے اَپنے ناموں کے ساتھ اَپنی ذات کا دم چھلا لگا لیا ہے۔ پہلے اْن کے نام سیدھے سیدھے ہوتے تھے۔ اچانک اْن پر بھی یہ عقدہ کھلا کہ وہ آرائیں ہیں یا کشمیری ہیں یا راجپوت ہیں۔ چنانچہ اَب لوگ نہایت فخر سے یہ بتاتے ہیں کہ وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم دوبارہ سے زمانہ جاہلیت میں داخل ہوگئے ہیں۔ ہمارے بہت سے حکمرانوں نے اَپنے اِقتدارکو طول دینے کے لیے اِس قسم کی تقسیم کو اْبھارا اَور اْسے اِستعمال کیا۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اَپنی شناخت کے لیے کچھ دکھانے کو نہیں ہے۔ کسی نے کچھ اِیجاد کیا ہو، کوئی سائنسی تحقیق کی ہو، ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہو۔ ایسا تو کسی کے پاس دِکھانے یا بتانے کے لیے نہیں ہے۔ لیکن ہم دْوسروں سے الگ بھی نظر آنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ اِنسانی فطرت ہے کہ وہ اِمتیازی شان سے نظر آئے۔ چنانچہ ہم نے اْس چیز کو اَپنے اِمتیاز کا نشان بنایا جس میں ہمارا کوئی عمل دخل ہی نہیں ہے۔ یہ تو اْس اِتفاق کی وجہ سے ہے کہ ہم کس گھرانے میں پیدا ہوگئے۔
اب آپ کو کہیں بھی کوئی اَیسا شخص نہیں ملے گا جو اَپنی شناخت پاکستانی ہونے کے طور پر پیش کرے۔ ہم میں سے بہت سے وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی کوئی شناخت نہیں ہے۔ اصل شناخت مذہب ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی سرحد سے باہر ہماری صرف ایک ہی شناخت ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں۔ پھر یہ کہ مسلمان کی شناخت کا نعرہ لگانے والوں نے ہی لوگوں کو دیوبندی ، بریلوی، شیعہ اَور اہل حدیث میں تقسیم کیا ہے۔ اِس کے بعد بریلویوں میں بھی رنگ رنگ کی پگڑیاں آگئیں۔ چنانچہ اَب یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کون کس قسم کا بریلوی ہے۔ یہی حالات دْوسرے فرقوں کے ہیں۔ چنانچہ آپ کو ہر طرف طرح طرح کی پگڑیاں، ٹوپیاں اَور لباس نظر آتے ہیں۔ لوگ اِس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم ہری پگڑی پہنتے ہیں یا بھوری۔ اِس قسم کی ٹوپی پہنتے ہیں یا اْس قسم کی۔ چنانچہ مذہب کے نام پر، اِسلام اَور مسلمان کا نام لے کر ہم نے اَپنے لوگوں کو گروہ در گروہ میں تقسیم کردیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ ایک گروہ والا دْوسرے گروہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پسند نہیں کرتا۔ مسجدوں کے باہر لکھا ہوا ہے کہ یہ فلاں مکتب فکر کی مسجد ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بھی ہم نے  مکتب فکر میں قید کر دیا ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جو قومیں ترقی کرگئیں اْن کے کیا رنگ ڈھنگ تھے۔ اْنہوں نے کیا کیا کہ وہ آج دْنیاکے بام عروج پر ہیں۔ سب سے پہلے تو اْنہوں نے اَپنے آپ کو ایک قوم بنایا۔ اب دْنیا میں انگریز، امریکی، جرمن، فرانسیسی ، جاپانی، چینی اقوام پائی جاتی ہیں۔ کمال یہ ہے کہ دْنیا میں سعودی، اماراتی، ملیشین، اِنڈونیشین، ترکی اقوام بھی موجود ہیں۔ لیکن پاکستانی قوم نام کی کوئی چیز دْنیا میں نہیں پائی جاتی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اہل اِقتدار نے اِس کام پر کبھی   توجہ ہی نہیں دی کہ اِس ملک کے رہنے والوں کوایک قوم بنایا جائے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا یہ ملک کبھی بھی ترقی نہیں کرے گا۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ لوگ موقع ملتے ہی پاکستان چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اَور اْن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جہاں بھی رہیں، وہیں کی شہریت حاصل کرلیں۔ پھر وہ کبھی بھی پاکستان میں رہنے کے لیے نہیں آتے۔ وہ چند دِنوں کے لیے اَپنے رِشتے داروں سے ملنے کے لیے آتے ہیں اَور پھر واپس جاکر سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ برطانیہ، کینیڈا، امریکہ کے شہری ہیں۔ 
قوم بنانے کے بعد ترقی یافتہ ملکوں نے اَپنے اَندر سے تقسیم ختم کی۔ علاقائی، لسانی، مذہبی، ذات پات کی تقسیم کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ آپ پہلے امریکی، آسٹریلوی، کینیڈین یا برطانوی ہیں، پھر کچھ اَور ہیں۔ آپ کا مذہب بھی آپ کی شہریت کی شناخت کے آڑے نہیں آتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اْن ممالک میں عیسائی، یہودی، مسلمان، سکھ، ہندو، بدھ مت کے ماننے والے اِکٹھے رہتے ہیں اَور اْن کا مذہب اْن میں اْونچ نیچ نہیں آنے دیتا۔ ہمارا کمال یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود اْونچ نیچ کے پھیر میں آگئے ہیں۔ یہ علاقائی بنیاد پر بھی ہے، لسانی بنیاد پر بھی۔ مذہبی فرقے کو ذہن میں رکھ کر بھی ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ بہتر ہے یا وہ۔ اِسی طرح ذات پات کے معاملات بھی بہت زیادہ گمبھیر ہوچکے ہیں۔ لوگ اَپنی ذات برادری کو سب اِنسانوں سے بہتر جانتے ہیں۔ اْنہیں یقین ہے کہ اگر وہ سید ہیں یا جٹ ہیں یا راجپوت ہیں تو وہ سب سے اْوپر ہیں۔ اْن کی برتری کا اْن کے اَعمال یا افعال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اْنہوں نے زِندگی میں کوئی بڑا کام کیا ہے یا نہیں۔ اْنہیں یہ یقین دِلا دِیا گیا ہے کہ اْن کا خون ہی اعلیٰ نسل کا ہے۔ چنانچہ وہ عام لوگوں سے بہتر ہیں۔ یہ وہی صورتِ حال ہے جو ہندوؤں میں پائی جاتی ہے۔ ہم آزادی حاصل کرنے کے پچھتر سال کے بعد بھی ہندو تہذیب کے جال سے نہیں نکل سکے۔ اْن کے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے اَندر اِتنے مسائل نہیں تھے جو اَب آچکے ہیں۔
ہمارے صاحبانِ اِقتدار کو چاہیے کہ سکول سے بچوں کے اَندر پاکستانیت کا شعور پیدا کریں۔ اْنہیں بتائیں کہ ساری دْنیا کے نزدِیک آپ صرف پاکستانی ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ خود بھی یہ بات مان لیں۔ اگر اَیسا نہ ہوا تو ہم مکمل طور پر ایک ریوڑ بن کر رہ جائیں گے۔ 

مزیدخبریں