پاکستان کئی عشروں سے دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے داخلی سطح پر ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستانی حکومت عالمی سطح پر علی الاعلان یہ کہہ چکی ہے کہ اس کے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی ایجنسی را کا ہاتھ ہے اور وہ ایک خاص منصوبے کے تحت امن و امان کی صورتحال خراب کر رہی ہے۔ پہلگام واقعہ کے بعد جس طرح کے بیانات بھارتی حکومتی افراد دے رہے ہیں یہ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ دشمنی کی آگ میں جلتا ہوا بھارت پاکستان کے خلاف کھل کر میدان میں آ گیا ہے اور وہ اپنی اس نفرت اور تعصب کی آگ میں وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے چاہے اس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ جائے۔ پاکستان کی شروع سے ہی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھارت سے بھی اچھی ہمسائیگی کی پالیسی پر کاربند ہے، دہشت گرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اور یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اس لعنت کا ملکر مقابلہ کریں۔ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لیے پاکستان کو ہر صورت عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے بے تاب ہوا جا رہا ہے خواہ اس کے لئے اسے کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔ بھارت میں انتہا پسند تنظیمیں بڑی تعداد میں موجود ہیں جو وہاں ہندو راج قائم کرنے اور مسلمانوں کو غلام بنانے یا ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ جب سے نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے نہ صرف بھارت کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات میںا ضافہ ہو گیا ہے بلکہ بھارت کے اندر بھی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہو گئی ہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت کے اب تک کیے جانے والے اقدامات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ پورے خطے میں رام راج قائم کرنے کے اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔
امریکہ کے ایما پر جنوبی ایشیا کا سیاسی منظر نامہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تبدیل کرنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں جو سب سے بڑی رکاوٹ سامنے آئی ہے وہ روس کا پاکستان کی جانب غیر معمولی جھکاؤ ہے جب کہ بھارت کا پاکستان کے ساتھ تمام تر متحارب رویہ امریکہ بہادر کی شہہ پر ہے۔ جنوبی ایشیا میں اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کے لیے اس وقت امریکیوں کے پاس دو مہرے ہیں، ایک بھارت اور دوسرا افغانستان۔ اگر صورتحال کا گہرائی سے مشاہدہ کیا جائے تو معلوم یہی ہوتا ہے کہ واشنگٹن سے پاک چین دوستی اور سی پیک ہضم نہیں ہو رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے اور بھارت کو میدان میں اتار کر خود تماشائی بنا ہوا ہے۔ بھارت کے مقاصد میں صرف اور صرف امریکہ کو خوش کرنا ہے۔ پاکستان کے خلاف جنگ کرنا نہیں۔ امریکہ نے ایک طرف افغانستان سے نکل کر اپنا جدید اسلحہ وہاں چھوڑ کر پاکستان کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی کی ہوئی ہے دوسری طرف وہ بھارت کو بھی کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھی جائے۔ امریکی گماشتہ ہونے کے ناتے بھارت اس وقت بڑھکیں مارتا رہے گا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے منہ کی کھانا پڑے گی اور یہ کہ اگر بھارتی حکمرانوں کی بیوقوفی کی وجہ سے میزائلوں کی جنگ چھڑ گئی تو سب سے زیادہ نقصان اسی کا ہو گا۔ اس وقت پاکستان کی سفارتی مہم بھی بہت کامیاب جا رہی ہے۔ یہی نہیں پاکستان کے 25 کروڑ عوام بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں۔ کوئی ایک پاکستانی بھی اپنے قومی و ملی فرض سے غافل نہیں۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے فوراً ہی سخت ترین الفاظ میں پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں جو کہ صرف دھمکیاں ہی ہیں کیونکہ اس سے قبل بھارت 2019ء میں دیکھ چکا ہے کہ کس طرح ابھینندن کو یہاں سے چائے پلا کر رخصت کیا گیا۔ اس وقت طیارے گرائے جانے کے بعد اگر بھارت کوئی کارروائی کرتا تو بنئے کو مندر کے سوا اور کہیں پناہ نہ ملتی۔ بھارتی پاکستان کے خلاف آگ اگل رہے ہیں تو ہماری حکومت دھیمے انداز میں اس کا جواب دے رہی ہے۔ بھارت چونکہ خود بھی ایک ایٹمی طاقت ہے خوب جانتا ہے کہ اس شعبے میں اس سے برتر پاکستان اس کا کیا حال کرے گا۔ بھارت اس سے قبل 2019ء میں سرجیکل سٹرائیک کی باتیں کر رہا تھا جب کہ پاکستانی حکومت نے جواب دیا کہ آپ نے سرجیکل سٹرائیک کی تو اس کا بہت سخت ردِ عمل آئے گا اور پاکستان جس جگہ نشتر زنی کرے گا بھارت اس شدت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
بھارت کی جنگ سے بچ رہنے میں ہی عافیت ہے اور یہ تو دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے پاس اس کی فوجی طاقت کی وجہ سے کئی آپشن موجود ہیں اور وہ اپنے روایتی اسلحہ کے وسیع ذخائر اور فوج کی اکثریت کی وجہ سے پاکستان کے خلاف ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ لڑ سکتا ہے۔ معاشی اعتبار سے کمزور پاکستان کسی طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے اسے جان بچانے کے لیے اپنا آخری آپشن استعمال کرنا ہو گا اور یہ آپشن ہے ایٹمی اسلحہ کا استعمال جس کا دوسرا نام مکمل تباہی ہے۔ ایٹمی طاقت والے دو ملکوں کے درمیان جنگ نہ پہلے ہوئی ہے اور نہ اس کی ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ تصور تباہی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ روس اور امریکہ سے زیادہ دشمنی کس کی ہو گی لیکن یہ ایٹمی طاقت امن ضمانت بن گئی۔
پاکستان بہترین انداز میں کوشش کر رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فضا گرم نہ ہونے پائے لیکن بھارت معاملے کی سنجیدگی کو نظر انداز کر کے کھوکھلے بیانات پر زور دے رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت میں کوئی واقعہ ہو جاتا تو وہ پاکستان میں موجود تنظیموں لشکرِ طیبہ، جیش محمد، لشکرِ اسلام اور تحریکِ طالبان پاکستان پر الزام عائد کر دیتا تھا کہ وہ کارروائی ان تنظیموں میں سے کسی نے کی ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان تو بھارت کی مدد سے ہمارے ہاں کارروائیاں کر رہی ہے جہاں تک دوسری تنظیموں کا تعلق ہے تو ان ناموں کا کوئی گروہ اس وقت پاکستان میں نہیں ہے اور اگر کسی زمانے میں یہ گروہ پاکستان میں موجود تھے بھی تو اب انہیں پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔
بھارت استعماری گماشتہ
09:40 AM, 5 May, 2025