نیویارک : مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے امریکی پیٹرول پمپوں پر قیمتوں کا نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3.25 ڈالر فی گیلن کی سطح عبور کر گئی ہے، جو گزشتہ 11 ماہ کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔
صرف ایک ہفتے کے دوران قیمتوں میں 27 سینٹ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، حالیہ دنوں میں ایک ہی دن کے اندر قیمت میں 11 سینٹ کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ چار سالوں میں کسی بھی ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش کا خوف ہے۔ عالمی خام تیل کی کل ترسیل کا تقریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے، اور یہاں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی توانائی کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتی ہے۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن (AAA) اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل نہ چھٹے، تو پیٹرول کی قیمتیں اگلے چند ہفتوں میں 3.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہیں۔تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے پیشِ نظر امریکی حکام نے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ افواہوں اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو مصنوعی قلت سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، قیمتوں کے تعین کے لیے ایک ہفتہ وار نظرثانی کا نیا فارمولا بھی زیرِ غور ہے تاکہ مارکیٹ کی بے یقینی کو کم کیا جا سکے۔
عالمی توانائی کا بحران: امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں چار سال کا سب سے بڑا یومیہ اضافہ
09:40 PM, 5 Mar, 2026