افغان سرزمین سے دہشت گردی کی پشت پناہی برداشت نہیں کی جائے گی، 'آپریشن غضبُ للحق' دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہے گا: سکیورٹی ذرائع

08:30 PM, 5 Mar, 2026

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) میں خیبر پختونخوا کے صحافیوں کو دی گئی ایک اہم بریفنگ کے دوران سکیورٹی ذرائع نے افغان رجیم کے دوہرے معیار اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کا جواب پوری قوت سے دیا جائے گا۔
 سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا کا یہ واحد بارڈر ہے جہاں افغان فورسز دہشت گردوں کی مدد کے لیے میدان میں آتی ہیں۔ بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ دہشت گردوں کی قیادت کو افغان شہری علاقوں میں چھپایا گیا ہے اور افغان فورسز براہِ راست ٹی ٹی پی کی سپورٹ کر رہی ہیں۔
 بریفنگ میں اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا گیا کہ پاک فوج شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں، صرف ان مخصوص ٹھکانوں اور دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے والی پوسٹوں کو ہی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اب تک پاکستانی فورسز سرحدی علاقوں میں 36 اہم پوسٹوں پر اپنا کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے جب بھی ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان سائیڈ سے 55 مختلف مقامات پر اشتعال انگیزی کی گئی، جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ملک کے اندر روزانہ 200 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ  کے پی پولیس میں پیشہ ورانہ مہارت کی کمی نہیں، اگر اسے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے تو وہ دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
 مدارس کی رجسٹریشن، ادویہ اصلاحات اور غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بنوں میں بچی پر تشدد کے واقعے کو بدترین انتہا پسندی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی سوچ کے خلاف جہاد ہی قوم کا اصل امتحان ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ افغانستان میں کس کی حکومت ہوگی، یہ افغان عوام کا فیصلہ ہے، لیکن اسلام کے نام پر دہشت گردی کو پاکستان میں پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جو شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے ملک میں کریں، پاکستان کی سالمیت کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

مزیدخبریں