برطانوی پالیسی میں بڑی تبدیلی: امریکہ کو ایرانی میزائل ٹھکانوں کے خلاف فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت

08:06 PM, 5 Mar, 2026

لندن : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہی برطانیہ نے اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک ڈرامائی یوٹرن لیتے ہوئے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنا اور اتحادیوں کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
 برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے واضح کیا ہے کہ یہ اجازت صرف "مخصوص اور محدود" دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ امریکی فورسز ان اڈوں کو صرف ان ایرانی میزائل لانچرز اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر سکیں گی جو برطانوی اہلکاروں اور اتحادیوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق، اس تعاون کا اصل مقصد میزائلوں کو فضا میں بلند ہونے سے پہلے ہی زمین پر تباہ کرنا ہے ، تاکہ برطانوی اور اتحادی مفادات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
 برطانیہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ خود کسی بھی جارحانہ فوجی مہم کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اس کی فوج براہِ راست ان حملوں میں شامل ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کیئر سٹارمر نے امریکی فورسز کو اپنے اڈے فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ تاہم، خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور انٹیلی جنس رپورٹس نے لندن کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے اس فیصلے سے ایران اور برطانیہ کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں شدید اضافے کا خدشہ ہے۔ تہران کی جانب سے اس اقدام کو براہِ راست مداخلت قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی مجموعی سکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔

مزیدخبریں