اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں عالمی اور علاقائی سلامتی، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ان مشکل حالات میں اپنے برادر خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں ہے۔ تمام فریقین کو تعمیری بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ خطے کو بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
وزیراعظم نے صدر انڈونیشیا کو بتایا کہ پاکستان بحران کے حل کے لیے خلیجی ریاستوں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے اور امن کی کوششوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ، دونوں سربراہانِ مملکت نے افغانستان کی حالیہ صورتحال پر بھی بات کی۔ وزیراعظم نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف اور علاقائی استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا عالمی فورمز پر امن و امان کی بحالی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا صدر انڈونیشیا کو فون: مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار
06:51 PM, 5 Mar, 2026