کراچی :کراچی کے معروف تجارتی مرکز 'گل پلازہ' میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے پر قائم جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔ جواب میں کے ایم سی نے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے تمام تر ذمہ داری دیگر اداروں اور نئے قوانین پر ڈال دی ہے۔
میونسپل کمشنر کے مطابق کے ایم سی صرف مرکزی شارع کی ذمہ دار ہے، گل پلازہ کے اطراف کی سڑکوں سے تجاوزات ہٹانا ٹی ایم سی صدر کا کام تھا۔موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فائر آڈٹ سول ڈیفنس کی ذمہ داری ہے، جبکہ سیفٹی آڈٹ 2023 کے ایکٹ کے تحت ریسکیو 1122 کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
جواب میں کہا گیا کہ 2023 کے ایکٹ کے تحت فائر فائٹنگ کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کو منتقل ہو چکی ہے، جس کی حتمی منظوری دسمبر 2025 میں کونسل نے دی۔ کے ایم سی نے الزام لگایا کہ انہوں نے 2024 میں 200 عمارتوں کا آڈٹ کر کے رپورٹ دی تھی، لیکن ڈپٹی کمشنر کی زیرِ صدارت کمیٹیوں نے کوئی قابلِ ذکر کارروائی نہیں کی۔
میونسپل کمشنر نے واضح کیا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہیوی مشینری، کرینیں اور جیک ہیمر موقع پر پہنچا دیے گئے تھے۔ ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک جام کا سبب گریج لائن تعمیراتی منصوبہ تھا جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواری آئی۔
کے ایم سی نے جوڈیشل کمیشن کو باور کرایا ہے کہ گل پلازہ کی تباہی میں ادارے کی کوئی انتظامی غفلت ثابت نہیں ہوتی اور تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
سانحہ گل پلازہ: کے ایم سی کا جوڈیشل کمیشن کو جواب، ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار
04:40 PM, 5 Mar, 2026