فغانستان خواتین کے لیے 'جہنم' بن گیا:عالمی ادارے  کی  رپورٹ میں ہولناک انکشافات

03:16 PM, 5 Mar, 2026

نیویارک/کابل: عالمی ادارے جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ نے افغان طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین پر ہونے والے مظالم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان خواتین کے تحفظ، امن اور شمولیت کے حوالے سے دنیا کے 181 ممالک میں سب سے آخری درجے پر پہنچ گیا ہے۔
افغانستان میں ہر پانچ میں سے ایک خاتون براہِ راست بدترین تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔ طالبان کے نئے فوجداری قوانین نے گھریلو تشدد کو روکنے کے بجائے اسے سماجی تحفظ فراہم کر دیا ہے، جس سے خواتین اپنے گھروں کے اندر بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور قانونی مدد حاصل کرنے کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے "غاصبانہ دور" نے افغان خواتین کو قرونِ وسطیٰ کی تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔ تعلیم اور روزگار پر پابندی کے بعد اب گھریلو سطح پر ان پر ہونے والے مظالم کو "قانون" کی پشت پناہی حاصل ہو رہی ہے، جس کے باعث خواتین میں خودکشی کے رحجان اور ذہنی امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس رپورٹ کو طالبان حکومت کے خلاف ایک 'چارج شیٹ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  "جب ریاست خود خواتین کے خلاف تشدد کی حوصلہ افزائی کرے، تو وہ معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ عالمی برادری کو اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

مزیدخبریں