بیجنگ کا مشرقِ وسطیٰ میں "پیس مشن": وانگ ای کا فریقین میں مذاکرات کیلئے بڑا قدم

03:06 PM, 5 Mar, 2026

بیجنگ: عالمی منظرنامے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے گرد منڈلاتے جنگ کے بادلوں کے درمیان چین نے امن کی شمع روشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران عالمی برادری کو خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
 چین نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ عسکری کارروائیاں فوری طور پر بند کر کے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اس گزرگاہ پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ عالمی معیشت کو تباہ کر سکتا ہے۔
خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا صرف علاقائی ممالک کا کام نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وزیر خارجہ وانگ ای کے مطابق، کشیدگی میں مزید اضافہ عالمی سطح پر تجارت اور سپلائی چین کو بری طرح متاثر کرے گا، جس کا بوجھ پوری دنیا کو اٹھانا پڑے گا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق     چین خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔ ہمارا مقصد خونریزی کو روکنا اور فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو مذاکرات کے ذریعے دور کرنا ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کے سخت فوجی بیانات کے مقابلے میں چین کا یہ سفارتی اقدام مشرقِ وسطیٰ میں اسے ایک "امن پسند عالمی طاقت" کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ چین اس سے قبل بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی مفاہمت کروا کر اپنی سفارتی مہارت ثابت کر چکا ہے۔

مزیدخبریں