بچوں میں موٹاپے کا بحران سنگین ہو رہا ہے ، ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی رپورٹ

02:35 PM, 5 Mar, 2026

لاہور : ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں بچوں میں بڑھتے موٹاپے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر ابھی مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک دنیا بھر میں 5 سے 19 سال کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 2040 تک تقریباً 12 کروڑ بچے ایسے ہوں گے جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی علامات نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔ 2025 میں دنیا بھر میں 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

چین سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکا میں 2.7 کروڑ ہے۔ یورپ میں سب سے زیادہ بحران برطانیہ میں ہے جہاں 38 لاکھ بچوں کا BMI خطرناک حد تک بلند ہو چکا ہے۔

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا کہ ’’ہمیں پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کی طرف نہیں دھکیلنا چاہیے۔‘‘ عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے نے بھی اس بات پر زور دیا کہ بیشتر حکومتیں بچوں کو نشانہ بنانے والی فوڈ انڈسٹری کو روکنے میں ناکام ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل صرف سیاسی عزم اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں شدید صحت کے بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔

مزیدخبریں