یہ گھڑی محشر کی ہے

09:03 AM, 5 Mar, 2026

سب سے پہلے ان کے لئے کہ جنھیں اس بات کا بھی ادراک نہیں کہ عین حالت جنگ میں اگر کسی کو اپنا کہا جائے تو اس پر تنقید کے بے رحم نشتر نہیں چلائے جاتے اور نہ ہی یہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ آپ غلطیاں گنوانے بیٹھ جائیں ۔ یہ سب کچھ در حقیقت دشمن کو فائدہ پہنچانے کے مترادف تو ہوتا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے بغل بچہ اسرائیل کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ ان کے دل میں چور ہے اور حالت ایسی ہے کہ 
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر 
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے 
 ایک جانب اکیلا ایران ہے اور دوسری جانب دور حاضر کی اکلوتی سپر پاور اپنے پورے جاہ جلال کے ساتھ جنگ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے ساتھ اسرائیل بھی موجود ہے لیکن کچھ تو ایسا ہوا کہ امریکہ کو برطانیہ سے باقاعدہ درخواست کر کے مدد لینی پڑی ۔ کچھ تو ایسا ہوا کہ امریکہ جس کو اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ ہے اسے یورپی ممالک سے بھی مدد لینا پڑ گئی ہے ۔ کوئی اس بات پر غور کیوں نہیں کرتا کہ پورا مغرب بلکہ کل عالم کفر عالم اسلام پر تو اسلام فوبیا کا الزام لگاتا ہے اور اس الزام کی وجہ جو لوگ بنے ہیں وہی آج امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں لیکن جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ اسلام دشمن تمام قوتیں اس وقت ایک ملک ایران کے خلاف متحد ہو کر لڑ رہی ہیں حتیٰ کہ بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانے کے مصداق جنگ شروع ہونے سے پہلے نریندر مودی نے بھی اسرائیل جا کر اسلام دشمنی میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا لیکن افسوس صد افسوس کہ عالم اسلام میں چند کے سوا کوئی بھی ایسا نہیںجو اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا ہو ۔ پاکستان ، ترکیہ ، سعودی عرب ، چین اور روس کی جانب سے حمایت پر ایران نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ جو لوگ آج ایران پر تنقید کر رہے ہیں خاکم بدہن اگر ایران کو اس جنگ میں شکست ہو جاتی ہے تو ان کو ہماری جانب سے پیشگی مبارک ہو کہ اس کے بعد اس خطہ کے مسلم ممالک کے لئے ایران کی صورت میںجو سیفٹی والو تھا وہ ختم ہو جائے گا اور یہ مسلم خطہ مکمل طور پر اسرائیل کے رحم و کرم پر آ جائے گا اور اس اسرائیل کے رحم و کرم پر کہ جس کے گریٹر اسرائیل کے نقشہ میں سعودی عرب اور مصر کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں ۔
جس طرح مذاکرات کے دوران کہ جب عمان جو ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اس کے وزیر خارجہ بڑے پر امید تھے اور انھوں نے بیان بھی دیا تھا کہ مذاکرات میں بڑی مثبت پیش رفت ہوئی ہے لیکن پھر بے اصولی کی انتہا کرتے ہوئے ایران پر حملہ کر دیا گیا ۔ جون 2025میں اسرائیل کی ایران کے ہاتھوں بے پناہ تباہی کے بعد اب اکیلے اسرائیل کو میدان میں آنے کی نہ خود ہمت ہوئی اور نہ ہی اس کے سر پرست امریکہ کو حوصلہ پڑا کہ اسے اکیلا میدان جنگ میں جھونک دے لہٰذا امریکہ کو ساتھ ہونا پڑا ۔ کسی کو امید نہیں تھی کہ ایران چند دن بھی دنیا کی سپر پاور کے خلاف لڑ پائے گا اور پھر اس صورت میں کہ جب اس کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت سیاسی عسکری اور مذہبی قیادت کو مار دیا گیا ہو لیکن اس نے تو اپنے سپریم کمانڈر کی شہادت کے صرف ڈیڑھ گھنٹہ بعد ہی دوبارہ میزائل فائر کرنے شروع کر دیئے تھے ۔ ایران پر حملے کا جو جواز تراشا گیا تو اس پر روس نے صحیح کہا کہ کیا اس حوالے سے آئی اے ای اے نے کوئی رپورٹ دی ہے اور سب سے اہم بات کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یہی الزام لگا کر عراق پر حملہ کیا گیا لیکن جب وہاں سے کچھ نہیں ملا تو بعد میں معافی مانگی گئی اور لیبیا نے تو اپنے نیو کلیئر پروگرام کے تمام آلات و سازو سامان بحری جہازوں پر لوڈ کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا تھا لیکن چونکہ خرابی نیت میں تھی تو اس کے باوجود بھی لیبیا پر حملہ کیا گیا اور پھر جس طرح انتہائی تذلیل اور المناک انداز میں کرنل قذافی کو شہید کیا گیا اسے بھی دنیا نے دیکھا اور پھر جون 2025میں خود امریکہ نے کہا تھا کہ ایران اب ایٹم بم بنانے کے قابل نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عراق نے بھی غلطیاں کی تھی ۔ کیا لیبیا نے بھی غلطیاں کی تھی تو ان سب کا جواب ہے کہ نہیں بلکہ ان سب کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ سب مسلم ممالک تھے ۔ 
عرب ممالک میں جو ایک عرصہ سے امریکن اتحادی تھے اب ان میں بھی یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ انھوں نے اپنے ملکوں میں امریکہ کو فوجی اڈے دے رکھے تھے انہی اڈوں پر ایران اب حملے کر رہا ہے لیکن امریکہ نے ان کا رتی بھر ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی ان کی حفاظت کے لئے کوئی موثر اقدام کیا ہے ۔ پاکستان میں تو ہر محب وطن پاکستانی کو صدق دل سے ایران کی کامیابی کی دعا کرنی چاہئے اس لئے کہ امریکہ ، اسرائیل اور دیگر کا مقصد ایرانی نیو کلیئر پروگرام نہیں بلکہ وہاں رجیم تبدیلی ہے اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے اور امریکی اور اسرائیلی نواز حکومت ایران میں آ جاتی ہے تو پھر اسرائیل پاکستان کی دہلیز تک آ جائے گا اور صورت حال یہ ہو گی کہ ایک جانب ہندوستان ۔ دوسری جانب فتنہ التخوارج اور تیسری جانب امریکہ اور اسرائیل نواز ایرانی حکومت ہو گی ۔ 
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے 
پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفتر میں ہے

مزیدخبریں