صہیونی طاقتیں ایک تیر سے دوشکار کرنے پر گامزن

09:03 AM, 5 Mar, 2026

اس سے قبل کے پاکستان کے پڑوس دوست ایران پر صہیونی طاقتو ںکے حملے پر کچھ بات کی جائے ، پڑوس کے ایک اور ملک افغانستان جسے پاکستان کا احسان مندہونا چاہئے جسے پاکستان نے ہر وقت اپنا قریب ترین تصور کیا ہے ، افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی میں جسکی پشت پر ازلی دشمن ہندوستا ن ہوتا ہے پاکستان کی ہزاروں معصوم جانوںنے جام شہادت نوش کیا ہے ، افغانستان حکومت جس نے 2020ء میںدوحہ میںایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے جسکا عنوان تھا معاہدہ انسداد دہشت گردی ، اس معاہدہ میں دنیاکے خوامخواہ بنے سردار امریکہ کی ایما پر شقیں شامل کی گئی تھیںکہ افغان حکومت اس بات کو ممکن بنائے گی اسکی سرزمین سے کہیں دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کو حکومت سے دور رکھا جائے گاجو کسی ملک میں یا امریکہ کے کسی اتحادی ملک میں دہشت گردی کرے ، اشارہ داعش ، (دولت اسلامیہ خراسان کی شاخ ) ، طالبان چاہے وہ تحریک طالبان پاکستان ہوں یا کوئی دہشت گردتنظم ہو ، مگر ایسا نہ ہوا ان تنظیموںکی افغان حکومت نے پرورش کی، اوراب انکی دہشت گرد کارروائیوںکی وجہ سے پڑوسی ملک پاکستان سے تعلقاقت کشیدہ ہوچکے ہیں۔ 
 اب فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف وشگاف الفاظ میںکہہ چکے ہیں کہ افغان حکومت طے کرلے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا دہشت گردوںکے ساتھ، علاقے کے ہر معاملے میں پاکستان کے اقدامات اور پالیسی اہم ہوتی ہے ۔ اندرونی طور پر ’’میںنہ مانوں اور صرف میںہی ہوںوالے ‘‘ پاکستان کے اہم معاملات سے بے خبر صرف اپنی تباہ شدہ سیاست پر قائم ہیں جب مشترکہ اجلاس سے صدر آصف علی ذرداری خطاب کررہے تھے حالیہ گمبھیر واقعات پر پاکستان کا پالیسی بیان دے رہے تھے اسے دنیا دیکھ اور سن رہی تھی مگر حزب اختلاف کو پاکستان کی عزت کا کچھ خیال نہ تھا وہ تقریر سننے کے بجائے حلق پھاڑ پھاڑ کر ’’گوذرداری گو ‘‘کے نعرے لگا رہے تھے اور اڈیالہ کے قیدی کے رہائی کے نعرے لگارہے تھے۔ وزیرا عظم شہباز شریف نے انہیں اہم امور پر بریفنگ کیلئے دعوت دی ہے وہاںبھی بریفنگ کا بائیکاٹ کر دیا۔  اسوقت پاکستان کی وزارت خارجہ کا ہر قدم ، ہر پالیسی پاکستان کا مستقبل طے کر رہا ہے حکومت اور وزارت خارجہ کا آج کا دور ایک مشکل ترین دور ہے چونکہ صہیونی طاقتیں ایران سے جنگ کے بہانے ایک تیر سے دو شکار کررہی ہیں ۔ایسے وقت میں پاکستان کو ایک مضبوط اور نہایت عقل مندآنہ پالیسی کی ضرورت ہے ، صہیونی طاقتیں یہ پروپیگنڈہ کرتی ہیںکہ ایران کے بعد پاکستان ہمارا ہدف ہے (خداناخواستہ) ایران ہو یا پاکستان دونوںممالک اہم نظریاتی ملک ہیںاور نظریاتی ملکوںکو شکست دینا آسان کام نہیں۔ غزہ کے بعد امریکہ اور اسرائیل مخالف جذبات شیعہ اور سنی دونوں میں گہرے ہیں اگر جنگ میں شدت آتی ہے تو غصہ اور ناراضگی زیادہ منظم تحریک میں ضم ہو سکتی ہے۔ جسے پاکستان کوکنٹرول کرنا ایک اور مشکل کام ہوگا ،اسرائیل ایران کی جنگ شروع ہوتے ہی اور خاص طور ایرانی مذہبی اور حکومتی قیادت کے غیر قانونی قتل کے بعد شور پاکستان کے شہروںمیں مچاہے وہ ایک مثال ہے، کراچی میں جو افراد شہید ہوئے ان پر امریکی قونصلیٹ کے گارڈز نے فائرنگ کی، ان کی گرفتاری بنتی ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ،تو لوگوںکو ریمنڈ ڈیوس یاد آ گیا۔ پاکستان اب ایک غیر مستحکم افغانستان اور ایک غیر مستحکم ایران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک غیر یقینی مثلث جس میں کوئی بھی کشیدگی اس کی دونوں مغربی سرحدوں کو بیک وقت متاثر کر سکتی ہے۔پناہ گزینوں کی آمد اور بدامنی کے ممکنہ پھیلاؤ اضافی خطرات ہیں حالیہ ایران اسرائیل جنگ جسے ایران امریکہ جنگ کہنا چاہئے امریکہ اسوقت پرسکون ممالک کی روشنیاں چھین کر انہیں تاریکیوں میں دھکیلنے کے درپے ہے عالمی سیاست کو دیکھ کر اگر اندازہ لگایا جائے تو یہ جنگ بھی دیگر جنگوں کی طرح مفادات کی جنگ ہے ، ایران نے جنگ کی شروعات نہیں کی اسوقت جب امریکی صدر سے سوال کیا جاتاہے کہ انہون نے جنگ کیوںشروی کی تو انکے پاس جواب بھی نہیںاسکے علاوہ کہ ہم ایٹمی پھیلائو نہیں کرنے دینگے ، مگر اب لگتا ہے کہ جنگ کو ختم کردیا جائے گا ’’face saviing"" کیلئے اتنا کافی ہے کہ ہم نے انکی قیادت کو ماردیا ، ایران میں بم مارکر تباہی پھیلا دی ، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ایران کے ساتھ 1979ء سے تعلقات کشید ہ تھے یہ تعلقات چین کی کوششوںسے 2023 ء میںبحال ہوئے تھے جو امریکہ اور اسرائیل کو ناگوار تھے ان تعلقات کو دوبارہ نقصان پہنچانے کیلئے یہ سب کچھ ضروری تھا جو آجکل ہورہا ہے ، امریکی اڈوں پر ڈرون حملوںکے نام سے آپریشن ہوا مگر کسی ملک پر حملے کرنا ہر گز جائز نہیں، سعودی عرب ، پاکستان اور دیگر خلیجی ممالک نے ابتدا میں اسرائیل کی ایران پر حملوںکی مذمت کی ہے مگر جب ڈرون ، یا بمباری انکی املاک کو نقصان پہنچانے لگی تو انکی مخالفت کرنا بھی ضروری ہے ، یہ ہی صہیونی طاقتوکا مقصد سمجھ میں آتا ہے، سالوں کے بعد بنے تعلقات کو نقصان پہنچانا ، ایران کو علاقے میں ایک دہشت ملک کہہ کر خلیجی ممالک کو اسلح کی ایک مرتبہ پھر فروخت ہی ہدف نظر آتا ہے اس جنگ میں امریکہ رجیم چینج 
چاہتا تھا وہ رجیم چینج وہ نہ کر پائے گا جو اسکے اشارے پر چلے۔ یہ بھی ممکن ہے امریکہ کے خلاف پاکستان میں بھی نفرت بڑھے اور ٹرمپ کے بورڈ آف پیس سے علیحدہ ہونے کا دبائو اندرونی طور پر پاکستانی حکومت پر بڑھے مئی کے پاک بھارت واقع کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے نیز پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی نے پاکستان کے عالمی پروفائل میں اضافہ کیا ہے۔ ایک طرف امریکہ ایک سپر پاور ،، خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ جن کے ساتھ پاکستان کے گہرے اقتصادی تعلقات ہیں۔ ۔دوسری طرف ہمسایہ ملک ایران ہے جو پاکستان سے جغرافیہ، تاریخ اور ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر تنازعہ بڑھتا ہے تو پاکستان کے اندر موجود امریکہ اور اسرائیل مخالف جذبات تہران کے ساتھ مزید کھل کر اتحاد کر سکتے ہیں۔ اس مسابقتی دباؤ کو متوازن کرنے کے لیئے مستند سفارت کاری کی ضرورت ہے اور ہورہی ہے ۔اب تک پاکستان کی قیادت نے محتاط لہجہ اپنایا ہے۔ سعودی عرب ہمارا اولین اور محترم دوست ہے اسکی املاک کے نقصانا ت پر پاکستان کا احتجاج لازم اگر دفاعی معاہدہ نہ ہو تب بھی ہے ملک کے اندر ایران کو پیروی کرنے والوںکو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ جب صہیونی طاقتیں یہ کہتی ہیںکہ پاکستان ہمارا دوسرا ہدف ہے تو اس پر کام کررہے ہیں سب دوستوںکو آپس میں لڑا کر یہ ہی ان صہیونی طاقتوںکا مقصد اول ہے ۔

مزیدخبریں