آئی ایم ایف کا آڈٹ پیراز میں پھنسی رقوم کی ریکوری کا مطالبہ، فوری تفصیلات طلب

03:20 PM, 5 Mar, 2025

اسلام آباد :پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا پہلا سیشن مکمل ہو گیا، جبکہ دوسرا سیشن جاری ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے ریونیو شارٹ فال کے حوالے سے کوئی نرمی نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت سے اخراجات میں کمی کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ اقدامات پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے آڈٹ پیراز میں پھنسی رقوم کی فوری ریکوری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے حکومت سے آئندہ سہ ماہی میں 300 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ایک جامع پلان طلب کیا ہے اور ایف بی آر کو اس ضمن میں فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

آئی ایم ایف نے آڈٹ پیراز میں پھنسی رقوم کی تفصیل بھی طلب کی ہے اور اس پر فالو اپ نہ ہونے کی وجہ بھی بتانے کو کہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ آڈٹ میں رکی ہوئی رقوم کی ریکوری کے لیے ایک موثر طریقہ کار تیار کیا جائے اور اس میں تاخیر کی صورت میں جوابدہی کا نظام لاگو کیا جائے۔

آئی ایم ایف نے وزارت توانائی اور پیٹرولیم کے حکام سے ملاقات میں پاور اور پیٹرولیم سیکٹر کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ مذاکرات میں اس بات پر بھی بات ہوئی کہ اسلامک بینکنگ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں، اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ ری فنانس اسکیم ٹرانزیشن پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فروری تک ٹیکس خسارہ 450 ارب روپے رہا، اور جون تک اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ عدالتوں میں 4 ہزار ارب روپے کے ٹیکس کیسز زیر التوا ہیں، جن میں سے 300 ارب روپے کی ریکوری متوقع ہے۔

مزیدخبریں