گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی الزامات حقائق کے منافی ہیں: دفتر خارجہ

10:43 PM, 5 Jun, 2026

اسلام آباد: پاکستان نے گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے بارے میں بھارت کے حالیہ بیانات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے برعکس اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارت کے الزامات اور دعوے دراصل بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت طویل عرصے سے من گھڑت بیانیوں اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور گلگت بلتستان کے حوالے سے حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان نے بھارتی مؤقف کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اسے سختی سے رد کر دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے، جس کی جڑیں 1947 میں ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے سے جا ملتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن میں کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں نافذ سخت قوانین کے تحت بھارتی فورسز کو حاصل وسیع اختیارات اور استثنیٰ کشمیری عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر کی واضح مثال ہیں۔

پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں اپنی غیر قانونی پالیسیوں کا خاتمہ کرے، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے تمام یکطرفہ اقدامات واپس لے، متنازع قوانین منسوخ کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر جانبدار مبصرین اور عالمی میڈیا کو آزادانہ رسائی فراہم کرے۔

بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے۔
 

مزیدخبریں