خطے میں جاری دو بڑی جنگوں میں براہ راست شریک ممالک کا کس قدر نقصان ہو چکا ہے، اس کا درست اندازہ تو جنگ کے خاتمے کے بعد ہو گا لیکن وہ ممالک جن کا جنگوں سے دور کا بھی تعلق نہ تھا وہ بھی ایک مختلف انداز میں برباد ہوئے ہیں۔ اس بربادی سے وہ ممالک محفوظ رہے ہیں جو صد فی صد لاتعلق رہے۔ وہ کسی بھی معاملے میں کسی بھی طاقت کے مرہون منت نہ تھے۔ ان میں برونائی ، آسٹریلیا اور ایسے درجنوں ممالک شامل ہیں۔ جنگوں میں شریک ملک ایک دوسرے کے اہم دفاعی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں جن میں فوجی تنصیبات فوجی اڈے اسلحہ ساز فیکٹریاں فوجی ساز و سامان لانے لے جانے والے کانوائے پہلے مرحلے میں در پر آتے ہیں۔ جنگ پھیلنے کے بعد شہری آبادیاں ڈیم بجلی پیدا کرنے اور اس کی ترسیل کرنے والے پراجیکٹ بھی نشانہ بنتے ہیں لیکن امریکہ ، اسرائیل اور ایران جنگ میں ایک مختلف پہلو سامنے آیا ہے جو اس سے قبل کسی جنگ میں نہیں دیکھا گیا۔ خلیج اور عرب کے بعض ممالک پر حملے ہوئے لیکن ایران نے اس کی تردید کر دی کہ یہ حملے اس نے نہیں کئے۔ ایرانی موقف سامنے آنے کے بعد تحقیق کی گئی تو بات سچ نکلی۔ یہ حملے اسرائیل یا امریکہ کی طرف سے کئے جانے کے شواہد ملے لیکن دونوں طاقتوں نے اس سے انکار کیا اور کوشش کی کہ ابہام جاری رہے۔ ان حملوں کا مقصد ابتدا میں ہی واضح ہو چکا تھا کہ عرب یا خلیجی ممالک ان حملوں کا ردعمل دیں اور ایران کے خلاف جنگ میں کود پڑیں۔ اس سازش کو ناکام بنانے میں حکومت پاکستان اور افواج پاکستان نے اہم کردار ادا کیا جبکہ سعودی عرب اور قطر نے بالخصوص ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لیا اور جنگ کو دیگر اسلامی ملکوں کی سرحدوں تک پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج سے تین روز قبل ایک بہت بڑا حملہ کویت پر ہوا ہے جس میں ڈرون اور میزائل بڑی تعداد میں فائر ہوئے ہیں بعض اطلاعات کے مطابق سو اور کچھ کے مطابق اس سے قدرے کم افراد ان حملوں کی زد میں آئے ہیں جبکہ کویت ائیرپورٹ کی تباہی کے منظر بھی سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی روز خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا لیکن پاسداران انقلاب نے کویت پر اس بڑے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس واقعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی اور اسرائیلی کوششیں نمائشی ہیں، ان کے اہداف کچھ اور ہیں۔ امریکی صدر اپنے دوست اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو آج پاگل قرار دیں یا انہیں گالیاں دیں، یہ سب کچھ دنیا کو دکھانے کے لئے ہے۔ اسرائیل کو مکمل وقت دیا جا رہا ہے کہ وہ لبنان کے وسیع و عریض علاقے پر قبضہ کر لے تاکہ اسرائیل کی سرحد اور رقبے کو وسعت دی جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل کی یہ کوششیں اور حملے ماہ ستمبر تک جاری رہیں گے تاکہ دو مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ لبنان کے زیادہ علاقوں پر قبضے اور حالت جنگ کو جاری رکھتے ہوئے اسرائیل میں انتخابات میں ”وار کارڈ“ کے ذریعے فائدہ اٹھانا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی مڈٹرم انتخابات میں فائدہ پہنچانا ہے۔ امریکہ میں انتخابات نومبر کے مہینے میں ہوں گے۔ امریکی صدر اس جنگ کو ماہ ستمبر سے ذرا پہلے ختم کر کے اپنی قریباً دو ماہ کی الیکشن مہم میں اترنا چاہتے ہیں تاکہ ایک اور جنگ بند کرانے کے نعرے کے ساتھ امریکیوں کو بے وقوف بنا سکیں لیکن ان سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ امریکہ اس جنگ میں کیوں کودا جس کے بارے میں اہم امریکی فوجی ادارے اور شخصیات کہہ چکے کہ امریکہ کو ایران اس کے میزائلوں یا اس کے جوہری پروگرام سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ ٹرمپ ٹیم کے سینیٹرز اور ممبران کانگریس جب اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی رابطہ مہم کیلئے جاتے ہیں ان سے اس جنگ میں جانے کے حوالے سے سخت سوالات کئے جاتے ہیں، جس کا وہ کوئی معقول جواب پیش نہیں کر سکتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ”گڈکاپ“ ڈرامہ شروع کیا ہے جس کے مطابق وہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کیلئے ایران جانے کا عندیہ دیتے نظر آتے ہیں کیونکہ ایرانی سپریم لیڈر کسی غیر ملک کے دورے پر نہیں جاتے اور وہ اس سے قبل مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں سے ملاقات اور ہاتھ ملانے سے انکار کر چکے ہیں۔ امریکی صدر اپنی درجنوں ناکامیوں کے بعد گھٹنوں کے بل چل کر ایران آنے کو تیار صرف اس لئے ہوئے کہ وہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانا تو دور کی بات ہے وہ ایران کو کسی بھی محاذ پر شکست نہیں دے سکے۔ آج امریکہ اور اسرائیل کی حیثیت شکست خوردہ ملکوں کی ہے جو اپنے ایٹم بم اور ایٹمی اسلحے سے دنیا بھر کو ڈرایا کرتے تھے لیکن وہ ایران کو نہ ڈرا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ ایران یا ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کی خواہش نیک نیتی پر مبنی نہیں۔ ایران کو مختلف پہلوﺅں پر غور کرنا ہو گا۔ جنگ کے دوران یا اس کے آخری ایام میں اپنی صف اول کی لیڈرشپ کو عوام کے درمیان یا منظرعام پر نہیں لانا چاہئے۔ لیڈرشپ کو بھی عوام میں گھل مل جانے کے شوق پر قابو پانا چاہئے۔ ان کی زندگیاں اہم اور خطرات میں گھری ہوتی ہیں۔ ایرانی لیڈر جناب علی لاریجانی کو بلاضرورت ایک عوامی ریلی میں لے جایا گیا، انہیں دباﺅ کے تحت قائل کیا گیا کہ عوام اپنے لیڈر کو اپنے درمیان پا کر بہت خوش ہوں گے اور ان کے حوصلوں کو تقویت ملے گی۔ جناب علی لاریجانی مان گئے عوامی ریلی میں آنے سے ان کی لوکیشن دشمن تک پہنچ گئی، انہیں شہید کر دیا گیا۔ چشم تصور سے دیکھئے جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر کے ایران آنے کا پروگرام طے پا چکا ہے۔ امریکی یورپی بھارتی خلیجی پاکستانی میڈیا اس کی خوب تشہیر کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے اس فیصلے کو ان کی دانشمندی، امن پسندی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ہر طرف ٹرمپ تیرے جانثار بے شمار جیسی فضا بنائی جا رہی ہے۔ ایران میں خیرمقدمی جوش و خروش تو نہیں نظر آتا لیکن ٹرمپ اور اس کے ساتھ ایک بڑے وفد کی میزبانی کی تیاریاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا تین طیاروں پر مشتمل ہراول دستہ ایران پہنچ چکا، اس کی سکیورٹی ٹیم اس کی گاڑیاں اس کا کھانا اس کا پینا اس کے نہانے دھونے سونے جاگنے کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ انہیں چیک کر کے ان پر امریکی پہرہ بٹھا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن یا فلوریڈا سے روانگی کا وقت اناﺅنس کر دیا جاتا ہے۔ مقررہ وقت پر امریکی میڈیا امریکی صدر کو اپنے جہاز میں سوار ہو کر ان کا آغاز سفر دنیا کو دکھاتا ہے لیکن جس وقت امریکی صدر کے طیارے کو تہران ائیرپورٹ پر لینڈ کرنا ہے اس سے ٹھیک آدھ گھنٹہ پہلے تمام امریکی ٹیمیں تہران سے نکل جاتی ہیں اور تہران پر امریکی اور اسرائیلی طیارے کئی کئی ہزار پونڈ وزنی تباہ کن بمبوں کی برسات کر دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا یہ حملہ ایران کے دیگر پانچ اہم شہروں پر بھی ہوتا ہے۔ ہر طرف ایک تباہی مچ جاتی ہے اور ایران کی صف اول کی تمام اہم شخصیات شہید کر دی جاتی ہیں۔ کیا ایران یہ سب کچھ ہونے دے گا، امید تو نہیں لیکن کوششیں تو کی جائیں گی کہ سپریم لیڈر کی لوکیشن ملے اور انہیں ان کی ٹیم کے ساتھ نشانہ بنایا جائے۔ ایرانیو اپنے سپریم لیڈر کو بچاﺅ۔
سپریم لیڈر کو بچاﺅ
09:08 AM, 5 Jun, 2026