گلگت بلتستان الیکشن اورمجھے کیوں نکالا ؟

09:08 AM, 5 Jun, 2026

الیکشن کمشن گلگت بلتستان کے مطابق 10 سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں جن میں پی پی پی، پی ایم ایل )این)، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار، آئی پی پی، جے یوآئی (ایف)، ایم ڈبلیو ایم، آئی ٹی پی، بی این ایف، جی بی ڈی پی اورآزاد امید وار شامل ہیں جن کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، آئی پی پی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتگان کے درمیان ہو گا جبکہ جے یو آئی (ایف) اور ایم ڈبلیو ایم مخصوص علاقوں میں اثر رسوخ تو رکھتی رہیں لیکن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان حقیقی مقابلہ سمجھا جا رہا ہے لیکن آئی پی پی کو چھپا رستم یعنی ڈارک ہارس اور پی ٹی آئی کو بھی اس دوڑ میں شامل تصورکیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے گلگت کا دور کیا تو ایک عرصہ بعد انہیں سننے کا موقع میسر آیا لیکن با ت وہیں سے شروع ہوئی جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا یعنی مجھے کیوں نکالا لیکن اس بار انہوں نے اس کا ذکر ووٹروںکی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے کیا نہ کہ اُس جذباتی انداز یا غصے میں جیسا وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔ ایسا کہنے کا واحد مقصد شاید یہی تھا کہ اگر مجھے نہ ہٹایا جاتا تو گلگت بلتستان جس طرح ترقی کر رہا تھا شاید وہ بہت آگے جا چکا ہوتا۔ وزارت ِ عظمیٰ کی ہیٹرک مکمل کرنے والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے نہ ملے لیکن گلگت بلتستان میں سہولیات ضرور فراہم کروں گا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا کہ ”میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں۔“ انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی جلسے میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا اور گلگت بلتستان سے دلی محبت اور کئی بار گلگت اور سکردو آنے کا ذکر کرتے ہوئے، سڑکوں کی زبوں حالی کا ذکر بھی کیا۔ میاں نواز شریف نے کسی سیاسی جماعت پر تنقید کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے پر سوال اٹھایا جبکہ عمران نیاز ی کے ساڑھے تین سال نکال دیئے جائیں تو اُس سے پہلے پانچ سال اور بعد کے ساڑھے تین سال سے پاکستان پر مسلم لیگ نون اور اُس کے اتحادیوں کی ہی حکومت رہی ہے۔ 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک کی تعمیر یاد کرائی گئی اور ہائیڈل پاور منصوبے جو شروع کیے تھے اُن کے مکمل نہ ہونے کی وجہ بھی دریافت کرتے رہے۔ گلگت ایئرپورٹ کو جدید خطوط پراستوار نہ کرنے اورگزشتہ 70 برس سے التوا کا شکار ٹنل بارے بھی اپنے تحفظات کا اظہارکیا۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے موجودہ وزیراعظم اور مریم نواز کو بھی گلگت بلتستان کا دورہ کرنے کی ہدایت دی۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں عوامی مسائل، جمہوری عمل اور سیاسی حقوق کو زیادہ نمایاں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت ملی تو وہ گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل حل کرے گی۔ ان کی تقریر میں نوجوانوں، روزگار، آئینی حقوق اور عوامی نمائندگی کا عنصر زیادہ نمایاں دکھائی دیا۔ بلاول کا بیانیہ روایتی پیپلز پارٹی سیاست کے مطابق عوامی حقوق اور وفاقی اکائیوں کے درمیان مساوات پر مبنی تھا۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سیاسی اور آئینی اختیارات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گلگت بلتستان کی اس انتخابی مہم میں نواز شریف نے ”ترقیاتی سیاست“ جبکہ بلاول بھٹو نے ”عوامی حقوق اور سیاسی شمولیت“ کے بیانیے کو آگے بڑھایا۔ نواز شریف کی تقریر تجربے اور ماضی کی کارکردگی پر مبنی تھی، جبکہ بلاول بھٹو نے مستقبل کے امکانات اور عوامی مسائل کو زیادہ اجاگر کیا۔ انتخابی نتائج بڑی حد تک اس بات کا تعین کریں گے کہ گلگت بلتستان کے ووٹر ترقیاتی بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں یا حقوق اور سیاسی نمائندگی کے بیانیے کو۔
استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اوروفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان کے دورہ گلگت کے دوران اُنہوں نے بڑی ریلیاں نکالیاں جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ عبدالعلیم خان کی گلگت بلتستان میں تقاریر کا بنیادی نقطہ ترقی، سیاحت، سڑکوں کے نیٹ ورک، توانائی اور روزگار پر رہا۔ انہوں نے خود کو روایتی سیاسی نعروں کے بجائے ”ترقیاتی ایجنڈے“ کی قیادت کے طور پر پیش کیا۔ عبد العلیم خان کا بیانیہ زیادہ تر ترقی، سرمایہ کاری، سیاحت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے گرد گھومتا رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آئی پی پی کی اصل طاقت اِس وقت اُس کے امیدواروں کی ذاتی سیاسی حیثیت ہے۔ عبد العلیم خان نے گلگت بلتستان کو ”پاکستان کا سوئٹزر لینڈ“ بنا کر سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا جو وہ بطور وزیر مواصلات عرصہ دراز سے کہتے چلے آ رہے ہیں۔ چونکہ عبدالعلیم خان کے پاس ہے سو سڑکوں اور رابطہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنا کر مقامی آبادی اور سیاحت کا وعدہ پورا کیا جا سکتا ہے۔ پن بجلی اور توانائی کے منصوبوں کو ترجیح یقینا مقامی آبادی کو بجلی کی کمی کے پیش نظریہ وعدہ اگر پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو بہتری کی شکل نکل سکتی ہے۔ عبد العلیم خان نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی قیادت کو آگے لا کر گلگت بلتستان کے وسائل سے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے کے جس وعدے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اس نے نوجوانوں کو اپنی طرف یقینا راغب کیا ہے جس کی وجہ سے آئی پی پی اپنے پہلے ہی الیکشن میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی مقبول جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
آئی پی پی پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں منظم انداز سے حصہ لے رہی ہے۔ عبد العلیم خان نے 14 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے، کچھ سابق پی ٹی آئی رہنما بھی اس میں شامل ہوئے ہیں، جن میں سابق اپوزیشن لیڈر شاہ بیگ قابلِ ذکر ہیں۔ کچھ سوال نہایت اہم ہیں کہ کیا گلگت بلتستان میں بھی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی رقیبی اتحاد بنائے گی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو آئی پی پی مرکز اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی اتحادی جماعت ہے اُسے کس طرح باہر رکھا جا سکتا ہے؟ اگر پیپلز پارٹی زیادہ سیٹیں لیتی ہے تو کیا وہ پی ٹی آئی سے اتحاد بنائے گی؟ جس کے امیدوار ہی حمایت یافتہ ہیں نہ کہ ٹکٹ ہولڈرز، مسلم لیگ زیادہ سیٹیں جیتی تو آئی پی پی سے اتحاد کر کے وہ پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر حکومت بنا سکتی ہے اور شاید یہی بہترین فیصلہ ہو گا۔ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کچھ بھی آئیں لیکن ابھی تک بظاہر آئی پی پی عبد العلیم خان کی قیادت میں ”کنگ میکر“ کا کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبد العلیم خان کے معیار پر پورا اترنے والے امیدواران میں ابھی تک شاہ بیگ، فتح اللہ خان، حاجی گلبر خان، شمس الحق لون اور راج جلال حسین مقپون اپنے حلقوں میں جیتنے کی مکمل پوزیشن میں ہیں اور پھر مقپون تو اس خطے کے صدیوں پہلے حکمران بھی رہ چکے ہیں۔ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کے امیدواروں پر ایک بار پھر عمران سسٹرز کی جانب سے غداری کے الزامات لگیں گے۔

مزیدخبریں