لاہور :پنجاب حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں قانون سازی، مہمات، ٹیکنالوجی، اور نوجوانوں کی شمولیت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کے مطابق، حکومت نے "کلائمیٹ ریزیلینٹ پنجاب وژن اینڈ ایکشن پلان" کے تحت 100 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مختص کی ہے۔
انسداد پلاسٹک مہم کی بڑی کامیابیاں:
1 لاکھ 35 ہزار سے زائد چھاپے
3 لاکھ کلوگرام پلاسٹک بیگز کی ضبطگی
15 سنگل یوز اشیاء پر پابندی
8.35 ملین روپے جرمانے
2,200 ماحولیاتی کلبز کا قیام
ماحول دوست اقدامات
لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے لیے ایمیشنز ٹیسٹنگ سسٹم
گرین کریڈٹ پروگرام: درخت لگانے اور ریسائکلنگ پر انعامات
11 اسکواڈز پر مشتمل انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس
پاکستان کی پہلی ISO-سرٹیفائیڈ ای پی اے ایجنسی
30 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز
تمام بھٹوں کی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی
دھول کم کرنے کے لیے مِسٹ سپرنکلنگ سسٹمز
سموگ کے لیے خصوصی "وار روم" اور ڈیجیٹل انڈسٹری میپنگ
نوجوانوں کے لیے رہنمائی اور روزگار
"کلائمیٹ چینج اینڈ لیڈرشپ انٹرن شپ پروگرام" کے تحت نوجوان گریجوایٹس کو 60,000 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے، تاکہ وہ ماحولیات کے شعبے میں تربیت حاصل کر سکیں اور کردار ادا کریں۔
تخلیقی رسائی:
ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے تھیٹر ڈرامہ "دھرتی ماں" پیش کیا جا رہا ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر بھی بھرپور آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔
ٹیکنالوجی و نگرانی:
GIS اور AI پر مبنی سکواڈز فعال
فیول ٹیسٹنگ لیبز اور واٹر کوالٹی اسٹیشنز
عالمی معیار کی گرین بلڈنگ منصوبے کے آخری مراحل میں
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے "ماحولیاتی تحفظ ہمارا فرض ہے، اور ہم صرف وعدے نہیں کر رہے بلکہ عملی اقدامات سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، سرسبز اور صاف پنجاب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔