پاک بھارت میں امن کے لیے دہشت گردی پربات چیت کےلیے مشترکہ فورم ضروری ہے، بلاول بھٹو زرداری

09:47 AM, 5 Jun, 2025

واشنگٹن: سابق وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر مل بیٹھ کر بات کریں، اور ایک ایسا مشترکہ فورم بنائیں جہاں دونوں ممالک تمام دہشت گردی کے واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کر سکیں۔

امریکہ میں موجود بلاول بھٹو نے ایک انٹرویو میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے علاقوں میں یکطرفہ حملوں کو غیر قانونی اور خطرناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں سے خطے کا امن بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

بلاول نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی غیر جانب دار تحقیقات کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت نے اس سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے کئی حملوں میں بھارت کے کردار کے شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو اس حساس معاملے پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ معاہدہ صرف باہمی بات چیت سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنے دورۂ امریکہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے امریکی کانگریس کے پاکستانی کاکس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں انہوں نے بھارتی رویے، سرحدی کشیدگی اور پانی کے معاہدے پر بات کی۔ کانگریس کی اہم شخصیات بشمول ٹام سوازی، جیک برگمین اور الہان عمر بھی اس ملاقات میں شریک تھیں۔

بلاول نے امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس اور دیگر تقریبات میں بھی شرکت کی اور کہا کہ اگر خطے میں امن قائم ہو جائے تو نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ امریکہ جیسے ممالک کے اربوں ڈالر بھی بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، ہمیں مذاکرات اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

مزیدخبریں