ملک کا قرضہ ہم اتارتے ہیں!

09:39 AM, 5 Jun, 2025

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کچھ عرصہ پہلے جس ایس آئی ایف سی (Special Investment Facilitation Council) کی بنیاد رکھی تھی،اسے ترقی کی موسلادھار بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا جائے تو میرے خیال میں بے جا یا غلط نہ ہو گا۔3 ستمبر 2023ء کو پاکستان کی کاروباری شخصیات کی آرمی چیف کے ساتھ جو طویل ملاقات ہوئی تھی، اس کی نظیر پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ ملاقات چار گھنٹے پر محیط تھی اور اس میں کاروباری شخصیات نے آرمی چیف کا ذہن پوری طرح پڑھا، اور آرمی چیف نے بھی جان لیا کہ کاروباری اور تاجر طبقے کی ضروریات کیا ہیں۔ وہ جان گئے تھے کہ کاروباری طبقہ ملک اور عوام کی ترقی کا خواہاں ہے اور اس طبقے کی یہ خواہش ہے کہ معاشی حوالوں سے جو پالیسیاں بھی مرتب کی جائیں ان میں اس طبقے کی سوچ اور تجربے کو شامل کیا جائے۔ آرمی چیف ملک کے دفاع کے ذمہ دار ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے بارے میں بھی سوچتے ہیں۔
اس ملاقات میں آرمی چیف اور بزنس کمیونٹی آپس میں اس طرح گھل مل گئے تھے کہ نہ تو آرمی چیف کا حاضرین سے الگ ہونے کو دل چاہ رہا تھا اور نہ ہی بزنس کمیونٹی کا دل چاہ رہا تھا کہ آرمی چیف سے الگ ہو۔ جب خاصا وقت گزر گیا اور میٹنگ ختم نہ ہوئی، بات چیت جاری رہی، تو محسن نقوی وہاں آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ آرمی چیف بزنس مینوں میں گھرے ہوئے ہیں تو وہ آگے بڑھے اور آرمی چیف کا ہاتھ تھام کر انہیں وہاں سے نکال لے گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں آرمی چیف کی باتوں کا لطف آ رہا تھا اور آرمی چیف کو ہماری باتوں کا۔
 آرمی چیف نے اس موقع پر جو بات کہی تھی اس نے ساری بزنس کمیونٹی کی آنکھوں کو پُر نم کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: آپ خود سوچیں کہ آپ کسی کے پاس پیسے ادھار مانگنے جائیں تو کیا حال ہوتا ہو گا، میرا بھی وہی حال ہو رہا تھا جب میں سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس بیٹھا ان سے اپنے ملک کے لیے پیسے مانگ رہا تھا۔ ان کی یہ بات سن کر پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔ وہ جو کہتے ہیں Pin-drop silence، تو وہی حال تھا۔ ایک لمحے کے لیے سب مبہوت ہو چکے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب آبدیدہ ہو چکے تھے اور سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے سو فیصد درست بات کی تھی۔ آپ سب بھی اپنے طور پر سوچ سکتے ہیں اور تصور کر سکتے ہیں کہ آپ کسی کے پاس ادھار پیسے مانگنے جائیں تو کیا حال ہوتا ہو گا، لیکن آرمی چیف نے اپنے وطن، اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی خاطر یہ کام کیا۔ پیغام ان کا یہ تھا کہ چلو ضرورت کے وقت تو یہ کام کر لیا لیکن اس کو وتیرہ نہیں بنانا چاہیے، ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صرف اپنا کرب بیان نہیں کیا بلکہ وہاں موجود لوگوں کو حوصلہ بھی دیا تھا کہ اگر سب مل کر کوشش کریں تو ملک کو اب بھی اتنا بہتر کیا جا سکتااور اتنی ترقی دی جا سکتی ہے کہ ہمیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔ انہوں نے ایک مشہور شعر پڑھا، جو میر ابھی پسندیدہ شعر ہے:
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
آرمی چیف کا اندازِ گفتگو بڑا دل پذیر تھا۔ وہ پہلے ایک آیت پڑھتے تھے۔ پھر اس کا ترجمہ کرتے تھے، پھر اس کی وضاحت کرتے ۔ اور آخر میں علامہ اقبال کا کوئی شعر اپنے اس موضوع کے ساتھ جوڑتے تھے۔ کیا شاندار انداز تھا گفتگو کا۔ میری کمپنی کا نام بھی Eagle ہے جسے علامہ اقبال نے شاہین کہا ہے، اس لیے علامہ اقبال میرے بھی فیورٹ ہیں اور میری اپنی بھی عادت ہے کہ اپنی باتوں میں علامہ صاحب کے اشعار پڑھتا رہتا ہوں۔
اب بزنس کمیونٹی کا جو سفر جاری ہے اور معاشی استحکا م کے سلسلے میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، جیسا چین نے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر ترقی کی منزلیںطے کی تھیں اور پاکستان کو بھی طے کرائی تھیں، تو یہ سلسلہ اگر جاری رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مختصر اور محدود وقت میں پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک نہ بن جائے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم چین والے ماڈل کو اپنانے کی بھی کوشش کریں۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ چین کا صدر 70، 80 اور 90 کی دہائیوں میں مہینے میں ایک پورا دن بزنس کمیونٹی کو دیتا تھا۔ یہ ملاقات صبح ناشتے سے شروع ہوتی تھی اور رات کے کھانے یعنی ڈنر تک جاری رہتی تھی۔ اس کانفرنس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ اگر صدر کو کسی بزنس مین کا پیش کردہ آئیڈیا پسند آتا تھا تو وہیں اسی وقت اس پر عمل درآمد کے آرڈر جاری ہو جاتے تھے۔ وہ بزنس مین صدر کا دستخط شدہ آرڈر لے کر جاتا تھا اور اپنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیتا تھا۔ ایسی ہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں والا غریب ترین چین آج امریکی ٹکر کی معیشت بن چکا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بزنس کمیونٹی کی پرپوزلز وہ بناتے ہیں جنہوں نے کبھی بزنس کیا ہی نہیںہوتا، چنانچہ ایسے ایسے منصوبے بنتے ہیں جو قابل عمل نہیں ہوتے۔ یوں قومی سرمایہ ضائع جاتا ہے۔ ملک کا قرضہ اتارنا مسئلہ نہیں ہے، بزنس کمیونٹی سے کہیں، وہ قرضہ اتار دے گی۔ اس کالم کے ذریعے میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کا ایک وعدہ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ آپ نے 3 ستمبر 2023ء والی ملاقات میں بزنس کمیونٹی سے الگ ہوتے وقت وعدہ کیا تھا کہ ہر مہینے ان کے ساتھ میٹنگ ہوا کرے گی۔ اب جبکہ بھارت کے ساتھ کامیاب معرکے کے بعد ملک میں کچھ امن ہو چلا ہے تو میں چاہوں گا کہ اس وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں بھی سوچیں۔ 
یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیوروکریسی کہتی ہے کہ سارا کام وہ کرے گی۔ ہم بیوروکریسی کے خلاف نہیں ہیں لیکن اس کا کام ایڈمنسٹریشن ہے، منصوبہ بندی کا کام ان کے پاس ہونا چاہیے جو اس فیلڈ میں تجربہ کار ہوں۔ بل گیٹس کا مقولہ ہے: Right man for the Right job، یہ اصول یہاں پاکستان میں بھی نافذ ہونا چاہیے، تبھی حقیقی ترقی کی جانب سفر شروع ہو سکے گا۔

مزیدخبریں