بلوچستان کی ترقی دشمن فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں

09:04 AM, 5 Jan, 2026

بلوچستان ہمیشہ بھارتی سازشوں اور اندرونی فتنوں کا شکار رہا ہے، مگر اس کے باوجود ریاست نے ہر دور میں یہاں کے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور خوشحالی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا۔ آج جب بلوچستان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، تو فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں ان منصوبوں کو نشانہ بنا کر کھلے عام بلوچ عوام سے دشمنی کا ثبوت دے رہی ہیں۔ محرومی، حقوق اور آزادی کے من گھڑت نعروں کے پیچھے بلوچ عوام کو پسماندگی، خوف اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں ترقیاتی عمل محض نعروں یا دعو¶ں تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں مسلسل جاری ہے۔ گذشتہ سال 2025 کے دوران تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، مواصلات اور عوامی سہولت کے درجنوں منصوبے شروع کیے گئے اور پایہ تکمیل کو پہنچے۔ ان منصوبوں کا مقصد عام بلوچ شہری کی زندگی کو آسان بنانا، ریاستی سہولیات کو اس کی دہلیز تک پہنچانا اور احساسِ محرومی کا ازالہ کرنا ہے۔ مگر افسوس کہ یہی وہ ترقیاتی عمل ہے جو کالعدم تنظیموں کو سب سے زیادہ کھٹکتا ہے۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ یہ تنظیمیں بلوچ عوام کی خیر خواہ نہیں بلکہ ان کی بدترین دشمن ہیں۔ صرف سال 2025 میں فتنہ الہندوستان کی سرپرستی میں کام کرنے والی کالعدم تنظیموں نے بلوچستان میں 37 ترقیاتی منصوبوں کو براہ راست نشانہ بنایا۔ کہیں سڑکیں بنانے والی مشینری کو جلایا گیا، کہیں سکولوں اور صحت مراکز پر حملے کیے گئے، تو کہیں مواصلاتی نظام، موبائل ٹاورز اور اس کی مشینری، سولر سسٹم کو نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ نادرا آفس تک نذرآتش کر دئیے گئے۔ یہ وہ نادرا آفس تھے جہاں عام بلوچ شہری اپنی شناخت، رجسٹریشن اور ریاستی سہولیات کےلئے آتا ہے۔ واضح رہے کہ شناختی کارڈ ہر فرد کی شناخت اور اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس کے بغیر نہ ملازمت ممکن ہے، نہ علاج، نہ تعلیم اور نہ ہی بیرون ملک کا سفر۔ (گذشتہ سال فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ہوشاب اور تمپ میں نادرا آفس کو جلادیا تھا)۔ سوال یہ ہے کہ جو تنظیمیں شناخت جلا دیں، وہ حقوق کی بات کس بنیاد پر کرتی ہیں؟ واضح رہے کہ ان حملوں کی ذمہ داریاں خود انہی فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں نے قبول کیں۔ پریس ریلیزوں، سوشل میڈیا بیانات، ویڈیوز اور پیغامات میں فخر کے ساتھ بتایا گیا کہ فلاں منصوبہ تباہ کر دیا گیا، فلاں تعمیراتی مشینری کو جلا دیا گیا۔ سوچیے اگر یہ تنظیمیں واقعی بلوچ عوام کی نمائندہ ہوتیں تو کیا وہ انہی عوام کی سہولتوں کو تباہ کرتیں؟ اگر ان کا مقصد محرومیوں کا خاتمہ ہوتا تو کیا وہ ترقی کے ہر قدم کو بارود سے اڑانے کی کوشش کرتیں؟ ان کالعدم تنظیموں کا اصل مسئلہ بلوچ عوام کی پسماندگی نہیں، بلکہ ان کا خوف یہ ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبے کامیاب ہو گئے، اگر نوجوان تعلیم یافتہ ہو گئے، اگر روزگار کے مواقع بڑھ گئے، اگر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہو گیا تو پھر ان کے جھوٹے، من گھڑت بیانیے، مسلح دہشت گردی اور بیرونی آقا¶ں کی آشیر باد اور فنڈنگ کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیمیں ہر اس منصوبے کو دشمن سمجھتی ہیں جو بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ کالعدم تنظیمیں بیرونی ایجنڈے کے تحت یہاں شورش برپا کیے ہوئے ہیں، تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جا سکے اور بلوچ عوام کو ایک مستقل بحران میں مبتلا رکھ کر محرومیوں اور پسماندگی کا چورن بیچا جا سکے، اس حوالے سے بھارت کی مداخلت کوئی الزام نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کے شواہد بارہا سامنے آ چکے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت، اسلحہ، تربیت اور پراپیگنڈا سب کچھ سرحد پار سے فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ ایندھن یہاں کے معصوم نوجوانوں کی زندگیاں بنتی ہیں جنہیں جھوٹے خواب دکھا کر گمراہ کر کے تشدد کی راہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بلوچ عوام اب اس حقیقت کو تیزی سے سمجھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کالعدم تنظیموں کے من گھڑت بیانیے زمین بوس ہو چکے ہیں۔ لوگ جان چکے ہیں کہ بندوق روزگار دیتی ہے نہ تعلیم، علاج اور نہ ہی عزت و وقار۔ اصل عزت اور تحفظ ریاست کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے، ترقیاتی عمل کا حصہ بننے میں ہے اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے مسائل کے حل میں ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلئے بلوچ عوام اپنی ریاست اور ریاستی اداروں کا ساتھ دے، کالعدم تنظیموں کے فریب میں آ کر اپنی ہی ریاست کے خلاف ہتھیار مت اٹھائے اور سوچے کہ بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟۔ جب ایک ہسپتال پر حملہ ہوتا ہے، جب ایک موبائل ٹاور جلتا ہے، جب سٹرکوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ان سب کا نقصان کس کو ہوتا ہے؟ جب ایک سکول جلتا ہے تو صرف ایک عمارت نہیں جلتی، ایک نسل کا مستقبل جلتا ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست کا پیغام واضح ہے کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا سفر کسی صورت نہیں رکے گا۔ چاہے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ ہوں، بلوچستان کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوامی منصوبوں پر حملہ کرنے والے مجرم ہیں جو کسی معافی یا رعایت کے مستحق نہیں۔ اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کو بطور حفاظتی ڈھال استعمال کرنے والے، ان کی نازیبا ویڈیو بنا کر انہیں خود کش حملوں پر مجبور کرنے والے کسی صورت بلوچ عوام کے خیر خواہ اور سرمچار نہیں ہو سکتے بلکہ وحشی، حیوان اور درندے ہیں۔ جو تنظیمیں ڈالروں کےلئے معصوم بچوں کو بموں سے اڑا دیں، علما کرام کو شہید کریں،”ڈیتھ سکواڈ“ کے نام پر نہتے اور بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیں وہ بلوچستان اور بلوچ عوام کی محافظ نہیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں آزادی کی علامت ہیں نہ حقوق کی ترجمان۔ یہ محض اپنے مفادات، بیرونی آقا¶ں کی خوشنودی اور ڈالروں کیلئے بلوچستان کودہشت گردی کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں۔ ریاست بلوچ عوام کے فلاح و بہبود کےلئے عملی اقدامات کر رہی ہے جس کی وجہ سے آج بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور عوام کالعدم تنظیموں کو مسترد کر کے امن اور خوشحالی کے سفر کا انتخاب کر رہے ہیں۔ میرا بلوچستان پڑھالکھا، ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان۔

مزیدخبریں