یہ سمجھ لینا سہل ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش چند کنٹینروں کا جھگڑا ہے، مگر اس سارے قضیے میں کنٹینر تو محض لاشے ہیں، اصل قتل تو کہیں اور ہوا ہے۔ اصل قصہ اُن آئینوں کا ہے جن میں خرانٹ ہمسایوں کو اپنے چہرے کے ساتھ ساتھ اپنے سیاہ اعمال بھی نظر آنے لگے ہیں۔ اس آئینے میں انہیں اپنے خوشنما خدوخال نہیں، بدہیئت جھریاں نظر آتی ہیں۔ یہ تنازع سرحدی چوکیوں پر نہیں، ریاستی ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا ہے، جہاں سوال صرف نفع و نقصان کا نہیں، زندگی اور موت کا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کسی کاغذی معاہدے کی پیداوار نہیں۔ یہ ایک طویل سفر ہے جس میں قافلے بھی ہیں، گرد بھی اور وہ تھکن بھی جو صرف تاریخ کے قدموں میں سمٹتی ہے۔ برسوں تک افغان معیشت کی نبض پاکستانی بندرگاہوں سے بندھی رہی۔ کراچی اس کی سانس تھی اور گوادر اس کی دعاﺅں کا محور۔ پشاور اور کوئٹہ کی گلیاں افغان تاجروں کے قدموں کی چاپ پہچانتی تھیں اور کراچی کی فضا نے دہائیوں تک اُن خوابوں کو سمیٹے رکھا جو جنگ کی دھوپ سے جھلس کر یہاں آن ٹھہرے تھے۔
لاکھوں مہاجرین اس سرزمین پر اتر کر یوں نہال ہوئے جیسے لٹے پھٹے قافلے کو لق و دق صحرا میں اچانک کوئی نخلستان مل گیا ہو۔ انہیں یہاں چھت ملی، علاج ملا، تعلیم کا چراغ ملا۔ یہ سب کسی عالمی فرمان کا نتیجہ نہ تھا، یہ ہمسائیگی کی اُس تہذیب کا اظہار تھا جو مشکل وقت میں اپنے کواڑ بند نہیں کیا کرتی۔
طالبان کے اقتدار کے بعد بھی یہ دروازے پوری طرح بند نہ ہوئے۔ تجارت کی سانس مدھم ضرور ہوئی، مگر ٹوٹی نہیں۔ امداد کے قافلے چلتے رہے، زخمیوں کے لیے راستے کھلے رہے۔ اس وقت بھی جب پاکستان خود معاشی اندھیروں میں ہاتھ پا¶ں مار رہا تھا۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ احسان اگر یادداشت سے نکل جائے، تو بدگمانی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
آج اعتماد ایک ایسا شیشہ ہے جس پر بار بار ضرب پڑی ہے۔ اب اس میں عکس کم اور دراڑیں زیادہ نظر آتی ہیں۔ اصل مسئلہ تجارت نہیں بلکہ وہ سایہ ہے جو سرحد کے اُس پار سے بلا روک ٹوک اِدھر چلا آتا ہے۔ 2021ءکے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے قدموں کی چاپ پھر سنائی دینے لگی۔ خودکش حملے، مسلح یلغار اور سہولت کاروں کی سرگرمیاں۔۔۔۔ یہ سب ایسے کردار ہیں جو ایک ہی سکرپٹ بار بار دہراتے دکھائی دیتے ہیں۔ گرفتار عناصر کے بیانات گویا وہ پرچی تھے جن پر سرحد پار کے پتے واضح درج تھے۔
پاکستان نے یہ پرچیاں بارہا کابل کی میز پر رکھیں۔ شواہد کے نقشے بچھائے گئے، انٹیلی جنس کی زبان بولی گئی اور سفارت کے آنگن میں دستک دی گئی۔ مگر جواب میں انکار کی ایسی دبیز چادر تان لی گئی جو حقیقت کے خدوخال ہی چھپا دے، مگر یہ چادر اُس وقت خود ہی سرکنا شروع ہوگئی جب حملہ آور سرحد پار سے دراندازی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے لگے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کے لیے نرمی عیاشی اور سختی مجبوری بن جاتی ہے، بے شک سامنے کوئی اپنا ہو یا پرایا ہو۔ جب سرحدیں محافظ کے بجائے دہشت کی راہداریاں بن جائیں اور تجارت دہشت گردوں کو آڑ فراہم کرنے لگے تو سرحدوں کی بندش شوق نہیں رہتی بلکہ بقا کی سرخ لکیر بن جاتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کسی انتقام کا اظہار نہیں، یہ اسی خطرے کے پھیلا¶ پر کھینچی گئی سرخ لکیر ہے۔
پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانوں کا مسئلہ بھی اسی تمثیل کا ایک باب ہے۔ پینتالیس برس تک پاکستان نے مہاجرین کا بوجھ ایسے اٹھایا کہ تھکن سے چور ہونے کے باوجود پاکستان نے اس بوجھ کو کبھی کاندھوں سے نہیں اتارا۔ چار ملین سے زائد افغان شہری، جن میں عام انسان بھی تھے اور وہ ہیولے بھی تھے، جن میں شدت پسندی نے خود کو چھپانے کی کوشش کی۔ ریاست نے اب قانونی اور غیر قانونی کے درمیان لکیر کھینچی ہے، کیونکہ بے نام ہجوم سکیورٹی کے لیے زہر بن جاتا ہے۔ یہ فیصلہ خوشی سے نہیں کیا گیا، فرض کا تلخ گھونٹ پینا پاکستان کی مجبوری تھی۔
کابل کی سمت سے یہاں بھی تعاون کی کوئی شمع روشن نہ ہو سکی۔ نہ مشترکہ تصدیق کانظام بنا نہ انفرادی ذمہ داری کا بوجھ اٹھایا گیا۔ اس کے برعکس تجارت کا رخ دانستہ طور پر موڑنے کی کوشش کی گئی۔ تاجروں کو اشارے، منڈیوں سے نکلنے کے حکم اور اثاثے سمیٹنے کی زیرلب ہدایات۔ یہ وہ فیصلے تھے جنہیں خود افغان تاجر حقیقت کے منافی کہتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افغان عوام انسانی بحران کی دہلیز پر آن کھڑے ہوئے۔ سرحدوں پر رُکے کنٹینر کسی ہمسائے کی غلط نیت کا ثبوت نہیں بلکہ خود کابل کے حکمرانوں کے اپنے غلط فیصلوں کے تابوت ہیں۔
اسی پس منظر میں پاکستان کی جانب سے داعش خراسان کے ایک اہم چہرے کی گرفتاری محض ایک معمول کی کارروائی نہیں بلکہ ایک اہم علامت ہے۔ یہ پیغام ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نعروں کی شرلیاں نہیں چھوڑتا بلکہ عمل کے الا¶ بھڑکاتا ہے۔ یہ گرفتاری اُس زنجیر کی ایک کڑی ہے جس کا دوسرا سرا اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں نظر آتا ہے۔ وہ رپورٹس جو بتاتی ہیں کہ شدت پسند گروہ افغانستان کی کمزور نگرانی میں اپنی جڑیں گہری کرچکے ہیں۔
دہشت گردی کی آکاس بیل کے مسلسل بڑھتے اسی جنگل کے پس منظر میں جب کابل پر دبا¶ بڑھتا ہے تو شور بلند ہوتا ہے اور ان کے لیے الزام تراشی آسان پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ مگر اس شور میں اصل سوال دب جاتا ہے کہ آخر یہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں اور کیا انہیں روکنے والا کوئی نہیں؟ پاکستان کا موقف صاف ہے۔ وہ افغانستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہتا، وہ تجارت چاہتا ہے، رابطہ چاہتا ہے اور استحکام چاہتا ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون کی قیمت پر نہیں۔
حل کسی معمّے کی طرح مشکل یا پوشیدہ نہیں۔ جب تک شدت پسندی کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق قدم نہیں اٹھایا جاتا، تب تک اعتماد کی زمین بنجر رہے گی۔ تب تک منڈیاں آباد ہوں گی نہ سرحدیں نرم ہوں گی۔
یہ وقت الزام کے پتھر اچھالنے کا نہیں، فیصلوں کی بنیاد رکھنے کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غلط فیصلے سرحدیں نہیں، نسلوں کے راستے بند کر دیتے ہیں۔
نسلوں کے راستے بند ہونے کا خدشہ!
09:03 AM, 5 Jan, 2026