”ہر نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے“ نجومی خاصے عقل مند ہیں، حالات کے مطابق ستاروں کو اِدھر اُدھر کرتے رہتے ہیں، نہ کریں تو پکڑے جائیں۔ نیا سال، نئے سرپرائز، حکومت نے اس سال کے دوران کم و بیش 20 ترقیاتی اہداف متعین کر لیے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یکم جنوری کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیروں مشیروں کو خبردار کردیا جو کام کرے گا وہ رہے گا ورنہ گھر جائے گا۔ با خبر ذرائع کے مطابق ان اہداف میں شاہراہ ریشم کی تکمیل، چین سے تجارت میں اضافہ، شرح سود 5 فیصد تک لانا، انڈسٹریز اور برآمدات بڑھانے کیلئے کمرشل بجلی کی قیمت کم کر کے 15 روپے یونٹ تک لانا، ڈالر کی قیمت میں کمی، غربت کی شرح میں کمی، زر مبادلہ میں 40 ارب تک اضافہ، مہمند ڈیم کی تعمیر جس سے عوام کو سستی بجلی ملے گی مہنگائی میں کمی ہوگی، امریکا، چین اور سعودی عرب کے سربراہ پاکستان آئیں گے۔ سعودی ولی عہد مبینہ طور پر 10 لاکھ نوکریوں کا اعلان کریں گے۔ 60 سے 70 ارب کی سرمایہ کاری لائی جائے گی۔ 10 سیٹلائٹ فضا میں بھیجے جائیں گے۔ گوادر پورٹ کو مکمل طور پر آپریشنل کیا جائے گا۔ ریکوڈک منصوبہ کا آغاز اور تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے دہشتگردی کے خاتمہ میں پاک فوج سے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ سیاسی استحکام ملکی ترقی کے لیے لازمی جز، لیکن اپوزیشن دھڑوں میں بٹنے کے باعث امن و امان پر یکسو نہیں۔ جیل سے باہر سنجیدہ مزاج قیادت کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے حکومت سے مذاکرات کی بھیک مانگ لی۔ جبکہ علیمہ باجی نے 6 جنوری کو احتجاج اور اچکزئی نے 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ حکومت تین بار مذاکرات کی دعوت دے چکی لیکن بانی کی ہر بار مخالفت اور انتہا پسند گروپ کی شرائط کی وجہ سے بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر اور تحریک تحفظ آئین کے محمود اچکزئی نے اپنے چار ساتھیوں راجہ ناصر عباس نقوی، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور محمد زبیر سمیت میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے رابطہ قائم کیا تاکہ وہ بات آگے بڑھائیں۔ میاں صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا تاہم سینیٹر رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے کوئی شرط عائد نہ کی جائے جو بانی کو منظور نہیں وہ آزادی یا موت کے نعرے پر ابھی تک قائم ہیں۔ انہوں نے اپنے عاشق صادق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو سٹریٹ موومنٹ کے لیے گھر گھر رابطہ کرنے کا حکم دیا۔ عاشق صادق خاک بسر کسی جنگل میں نکلنے کی بجائے عازم پنجاب ہوئے۔ مسلح گارڈز اور نامعلوم افراد کی پلٹن لے کر گاڑیوں کے قافلے میں لاہور پہنچ گئے۔ پنجاب اسمبلی میں پڑاﺅ ڈالا اور بات کا بتنگڑ بنا کر اپنے دورے کو فلاپ اور صورتحال کو خراب کردیا۔ پنجاب اسمبلی کے رولز ریگولیشن کے تحت گیلریز میں مہمانوں کی جو فہرست اپوزیشن لیڈر نے سپیکر کو دی تھی گیلریز میں دھکم پیل سے گھسنے والوں کے نام فہرست میں شامل نہیں تھے۔ بلکہ ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان میں مبینہ طور پر 9 مئی کے ملزمان اور خوارج کے جاسوس شامل تھے۔ اسی سے حالات خراب ہوئے اس پر جلتی کا کام مینا خان آفریدی کی صوبائی تعصبات اور لغو بیانی نے کیا۔ وزیر اعلیٰ کے ترجمان کی ہرزہ سرائی گویا چنگاری دکھانے کے مترادف تھی۔ سیانوں نے کہا کہ کے پی کے عوام پر ترس آتا ہے صوبہ کھلنڈروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ جنہوں نے پی ٹی آئی کی لٹیا ڈبو دی ہے۔ لاہوریوں کا پہلا تاثر یہ تھا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سکندر اعظم کا روپ دھار کر اپنے پیشرو گنڈا پور کی طرح دنگا فساد اور گالم گلوچ کرنے والے مسلح لشکر کے ساتھ پنجاب فتح کرنے نکلے تھے۔ مگر جس طرح سکندر اعظم زہر بھرے تیروں سے زخمی ہو کر گجرات سے واپس چلا گیا تھا اسی طرح سہیل آفریدی صحافیوں کے زہریلے سوالوں سے پسپا ہو کر پشاور لوٹ گئے۔ عوام کو سڑکوں پر لانے کا خواب بکھر گیا۔ لبرٹی چوک میں اپنے ہی لشکر سے خطاب کیا۔ ایک دو گھروں میں گئے اور بس، البتہ پنجاب میں ہلڑ بازی سے ملکی میڈیا اور یوتھیا سوشل میڈیا پر خبروں کی زینت بن گئے۔ اب 9جنوری کو سندھ جانے کا اعلان کردیا ہے خدا خیر کرے، پشاور پہنچ کر ان کے
معاون اور ترجمان شفیع جان نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خلاف جس بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا وہ کسی سیاستدان تو کیا کسی مہذب اور پڑھے لکھے شخص کو زیب نہیں دیتا۔ بلا شبہ پختونوں میں ماﺅں بہنوں بیٹیوں کا انتہائی احترام کیا جاتا ہے۔ یہ کیسے پختون ہیں جو خواتین کیخلاف اس قسم کی بد زبانی کو طرہ¿ امتیاز سمجھتے ہیں، زبان کا گھاﺅ تیر تلوار کے گھاﺅ سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ ایسی بات نہ کی جائے جس پر بعد میں معذرت کرنا پڑے اور اس سے صوبائی تعصب کو ہوا ملنے کا اندیشہ ہو، یہی حالات رہے تو بس چند دن انتظار سب کا بوریا بستر گول ہوگا۔ دلوں میں نفرتیں بڑھتی رہیں گی، اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے۔ فرضی کہانیوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ 7 سال قبل سونا ڈھونڈا گیا تھا ملاوٹ شدہ نکلا اب کسی ہیرے کی تلاش کا کہا جا رہا ہے۔ پی ایچ ڈی ہیرا کہاں سے ملے گا۔ جنرل ضیاءالحق کی حکومت میں ”فرشتوں“ اور جنرل مشرف دور کے گریجویٹس نے کیا گل کھلائے۔ سینئر صحافی اور با خبر تجزیہ کار محترم سہیل وڑائچ نے گزشتہ منگل کو ”ڈھونڈو گے اگر نایاب ہیں ہم“ کے عنوان سے یونانی دیو مالائی کہانیوں کے بطن سے ایک زیر غور (ان کے مطابق) نئے منصوبہ کا انکشاف کیا، بات پرانی تھی وہ پہلے بھی مختلف پیرائے میں قومی یا ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی وارننگ دیتے رہے ہیں، مقصد حکومت کو جگانا اور خطرات سے آگاہ رکھنا تھا لیکن نئے سال کے آغاز پر ان کے مضمون کے بعد اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سراسمیگی پھیل گئی۔ ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کرنے والوں اور ویلاگرز نے وہ شور مچایا کہ کوئی اور خبر موضوع بحث نہ رہی۔ دیو مالائی کہانی کے بعد کتنی افواہیں پھیلیں بات ”کمپنی یہی رہے گی سی ای او بدلے گا“ اور سیاستدان شیروانیاں سلوانے لگے تک جا پہنچی۔ رضی دادا نے کہا کچھ نہیں ہورہا، خان کے بہت سے لوگ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بیٹھے ہیں۔ ان کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ خان رہائی تک بھولی ہوئی داستان نہ بن جائیں چنانچہ کئی چوہدری، رانے اور بھٹی دن رات ایک ہی راگ الاپتے رہتے ہیں، لگتا ہے ”اس قوم کی تقدیر میں استحکام نہیںہے“ لیکن قوم کو عدم استحکام سے بچانے اور 2026ءکے دوران ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کےلئے چار بڑے لیڈروں میں نواز شریف، شہباز شریف، صدر آصف زرداری، اور بلاول بھٹو نے ایک طویل اجلاس میں اپنے اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کرلیا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہی کمپنی چلے گی۔
فرضی کہانیاں، مذاکرات کی بھیک، فلاپ دورہ
09:02 AM, 5 Jan, 2026