پانچ فروری — یومِ یکجہتی کشمیر اور عالمی ضمیر کا امتحان

09:09 AM, 5 Feb, 2026

پانچ فروری ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی، سیاسی اور انسانی یکجہتی کے اظہار کا دن ہے۔ یہ عالمی برادری کو یاد دہانی کراتا ہے کہ مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے، اور اس پر خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کی تائید کے مترادف ہے۔
جنت نظیر وادی کشمیر اس وقت ایک عسکری چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے، جہاں لاکھوں بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ یہ افواج حکومتی ایماء پر مسلمان شہریوں کے خلاف ظلم و ستم، جبری گرفتاریوں، ماورائے عدالت اقدامات اور نسل کشی جیسے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔ کشمیری خواتین کے لیے گھروں سے باہر نکلنا مشکل بنا دیا گیا ہے، جبکہ طلبہ و طالبات تعلیمی اداروں میں جاتے ہوئے سکیورٹی کے نام پر ناکوں، تلاشیوں اور شناخت کی بنیاد پر بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ جان بچانے والی ابتدائی ادویات دستیاب نہیں، اور نہ ہی مریضوں کے علاج کے لیے مطلوبہ طبی عملہ موجود ہے۔ بنیادی انسانی حقوق، جن میں صحت اور تعلیم شامل ہیں، کشمیری عوام سے عملاً چھین لیے گئے ہیں۔
بھارت کے عزائم اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔ اس کی پالیسی واضح طور پر کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔ مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے اور ہندو آبادی میں اضافہ کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ اگر کبھی حقِ خودارادیت کا موقع ملے تو نتائج کو اپنے حق میں موڑا جا سکے۔ اسی سوچ کے تحت کشمیر کو غزہ جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں جبر کے ذریعے مسلمانوں کو ختم یا بے دخل کرنے کا ایجنڈا نمایاں نظر آتا ہے۔
ناکوں پر شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کو روکا جاتا ہے، دیواروں کے ساتھ کھڑا کیا جاتا ہے، اور تذلیل آمیز سلوک معمول بن چکا ہے۔ اس کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ قابلِ تحسین ہے۔ تمام تر جبر کے باوجود وہ لاکھوں کی تعداد میں تعینات بھارتی فوج کے لیے مسلسل مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اپنی شناخت اور آزادی کی جدوجہد پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال دنیا سے چھپانے کے لیے میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں اور آزاد میڈیا کو وہاں جانے سے روکا جاتا ہے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی منظرنامے پر نہ آ سکیں۔ گودی میڈیا اور فلموں کے ذریعے جھوٹ پر مبنی بیانیہ تشکیل دے کر حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔
اب صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام مسلمان ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر عالمی فورم پر بھارتی جارحیت کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں۔ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظرثانی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اس کی پالیسیوں کو چیلنج کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارتی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، عالمی سطح پر اقتصادی اقدامات اس پر مزید اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ برس پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی کے ذریعے اپنی دفاعی برتری ثابت کی، جبکہ مشکل حالات میں سفارتی سطح پر بروقت فیصلوں نے ایک بڑے بحران کو ٹال دیا۔ آج بھارت کی معیشت مختلف محاذوں پر مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے فضائی راستوں کی بندش اور تجارت کی معطلی، اور دوسری جانب امریکہ کی جانب سے امپورٹ ایکسپورٹ ٹیرف میں سختی، بھارتی معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
اس کے باوجود بھارت خوش فہمی کا شکار ہے اور فلموں، گودی میڈیا اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت اپنی فلموں کے ذریعے بری طرح ہاری ہوئی جنگ کو جیت میں بدلنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ بھارتی حکومت آئے روز ایسی فلمیں پیش کر رہی ہے جن میں پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ جنگ کے میدان میں رافیل طیاروں کے نقصان کے بعد مودی سرکار کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شدید دھچکا لگا اور اب اپنی ناکامی کو فلموں اور کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر مودی حکومت نے خطے میں دوبارہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج پورے بھارت کے لیے انتہائی سنگین ہوں گے۔ پاکستان کی بہادر افواج اپنی دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ پہلے بھی کر چکی ہیں اور اعلیٰ عسکری قیادت ملکی دفاع کے لیے ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح ثابت قدم ہے۔
افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ بھارت کھیلوں، بالخصوص کرکٹ جیسے مقبول میدان میں بھی گندی سیاست کو فروغ دے رہا ہے، حالانکہ کھیلوں کو نفرت کے بجائے امن اور آشتی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
پانچ فروری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ عالمی انصاف، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کی ساکھ کا بھی امتحان ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ عالمی برادری محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق—حقِ خودارادیت—دلایا جائے۔

مزیدخبریں