عنوان میںمسئلہ کشمیر کے ساتھ اتحاد ملت اس لئے رکھا کہ جس دن اتحاد ملت ہو گیا تو اس دن مسئلہ کشمیر مظلوم کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہو جائے گا ۔ انگریز کی سازش سے تقسیم ہندوستان کے وقت جن اصولوں کی بنیاد پر تقسیم کی گئی تھی ان کی صریحاََ خلاف ورزی کرتے ہوئے اس جنت نظیروادی کشمیر کو ہندوستان میں شامل کر دیا گیا لیکن اتحاد ملت تھا تو ہم نے کشمیر کا ایک حصہ حاصل کر لیا اور جو حصہ حاصل کیا ہندوستان گذشتہ 78برسوں میں اس حصہ کی ایک انچ زمیں پر قبضہ نہیں کر سکا ۔ یہ بات جہاں اتحاد ملت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے وہیں وطن کی حفاظت کے حوالے سے افواج پاکستان کے اعلیٰ کردار پر بھی مہر تصدیق ثبت کرتی ہے ۔کشمیر پر ہندوستان اصولی موقف سے کس قدر کوسوں دور ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوامی متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں پر خود ہندوستان بھی متفق تھا لیکن اس کے باوجود اسے مقبوضہ کشمیر میں آج تک وہاں کے عوام کی رائے لینے کی جرات نہیں ہوئی اس لئے کہ اسے اس بات کا بخوبی علم ہے مقبوضہ کشمیر کے عوام رہتے تو ہندوستان کے ظلم و جبر کے سائے تلے ہیں لیکن ان کے دل ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور جس دن بھی وہاں کے عوام کی رائے لی گئی تو انھوں نے الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دینا ہے ۔ اقوام متحدہ نے 1948 اور1949میں متعدد قرار دادیدیں پاس کیں ۔ ان تمام قرار دادوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے ۔ پاکستان اور ہندوستان نے ابتدائی طور پر ان قراردادوں کو قبول کیا لیکن بعد میں ہندوستان نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ۔اقوام متحدہ کی ناکامی کی بڑی وجہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور بڑی طاقتوں کے مفادات تھے ۔ مودی نے سمجھا تھا کہ قانون سازی کے ذریعے آئین میں تبدیلی کے بعد اس کی قانونی حیثیت ختم کرکے اسے ہندوستان میں ضم کر کے کشمیریوں کے حوصلوں کوتوڑ دے گا لیکن اسے علم نہیں تھا کہ اس کا یہ اقدام تحریک آزادی کشمیر کو مزید تیز کر دے گا ۔ اب بھی حالت یہ ہے کہ کشمیر کے عوام پر سات لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج ان پر مسلط کر دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ کشمیری عوام کے جذبات کو کنٹرول کرنے میں اب تک مکمل ناکام نظر آتے ہیں ۔
ویسے تو پاکستان کے ہر حکمران نے کشمیر کاز کے لئے آواز بلند کی ہے لیکن اس میں ذوالفقار علی بھٹو کا نام سر فہرست ہے ۔ انھوں نے دنیا میں ہر فورم پر کشمیر کے لئے آواز بلند کی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ۔ انھوں نے 22ستمبر1965کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے سلامتی کونسل میں اس قدر مدلل جامع اور بے مثل فی البدیہہ تقریر کی کہ جس نے انھیں پاکستان ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام کا بھی ہیرو بنا دیا ۔ اپنی اس تاریخی تقریر میں انھوں کہا تھا کہ ’’ جموں اور کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی رہا ہے ۔ جموں اور کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے ۔ یہ اپنی تمام تر فصاحت و بلاغت اور الفاظ کے تمام تر اسراف (مبالغہ آرائی ) کے ساتھ پاکستان کا کہیں زیادہ حصہ ہے جتنا کہ ہندوستان کا ہو سکتا ہے ۔ جموں اور کشمیر کے لوگ ، خون ، گوشت ( نسلی اور لسانی ) طرز زندگی ، ثقافت ، ، جغرافیہ ، تاریخ ، بلکہ ہر لحاظ سے اور ہر شکل میں پاکستان کے عوام کا حصہ ہیں ۔ ہم اپنے دفاع کی جنگ ایک ہزار سال تک لڑیں گے ۔ ‘‘ اس یادگار تقریر میں جہاں بھٹو صاحب نے پاکستان اور کشمیر کے اٹوٹ تاریخی ، تہذیبی ، لسانی ، مذہبی اور علاقائی رشتوں کا ذکر کیا ہے وہیں کشمیر کی آزادی کے لئے ہزار سال لڑنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس مسئلہ پر اب تک کئی جنگیں ہو چکی ہیں لیکن ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور بے اصولی کی وجہ سے یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا اور اب تو حالت یہ ہے کہ کشمیر کا ایشو صرف پاکستان اور ہندوستان کے لئے ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اب اس خطہ کی امن اور سلامتی کے لئے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے ۔ اس خطرہ کی سنگینی اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے کہ جب زمینی حقائق پر نظر پڑتی ہے کہ دنیا میں اعلانیہ 9نیوکلیئر طاقتوں میں سے چار طاقتیں اس خطے میں ایک دوسری کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں جن میں پاکستان ، ہندوستان ، چین اور روس ہیں اور خدا نخواستہ اگر کشمیر کے حوالے سے کشیدگی دونوں ملکوں کی حدود سے باہر نکل کر اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تو وہ دن دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ اس خطے اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لئے بھی ایک بھیانک دن ہو گا ۔ کشمیر کے عوام آزادی کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں لیکن ہر قربانی کے بعد کشمیری عوام کے حوصلے پست ہونے کی بجائے مزید بلند ہوتے ہیں اور یہی بات ہندوستان کی فوج کے حوصلوں کو پست کرنے کا سبب بنتی ہے اور یہ بات تو اب بین الاقوامی میڈیا میں بھی آ چکی ہے کہ کشمیر میں تعینات ہندوستان کے فوجی اہلکاروں میں ہر گذرتے دن کے ساتھ ذہنی امراض میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کر لیں ۔ کشمیر کی قربانیوں کی داستان دیکھ لیں یہ سب ایک ہی بات کی گواہی دیں گی کہ ہندوستان جتنا چاہے ظلم کر لے لیکن کشمیر کی آزادی کا سورج ایک دن ضرور طلوع ہو گا۔
مسئلہ کشمیر اور اتحاد ملت
09:05 AM, 5 Feb, 2026