ایک کامیاب کاروباری فرد کے طور پر میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے، مگر کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو آدمی کے اندر کہیں ہمیشہ کے لیے چبھ جاتے ہیں۔ ایک سفید ریش بزرگ، ہاتھ میں فائلوں کا بوجھ، آنکھوں میں آنسو، آواز میں کپکپاہٹ،وہ کسی دفتر کے باہر کھڑا بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ کہہ رہا تھا: بیٹا! ساری عمر کی کمائی تھی، ایک پلاٹ لیا تھا، اب نہ پلاٹ ہے نہ پیسے۔‘‘ یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں، یہ اس ملک میں ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا کے ہاتھوں لٹنے والوں کی روزمرہ داستان ہے۔ہمارے ارد گرد ایسے لٹنے والے موجود ہیں۔
ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا کیسے لوگوں کو لوٹتا ہے؟ ان کاطریقہ سادہ مگر سفاک ہے۔ سب سے پہلے خواب بیچے جاتے ہیں۔ خوبصورت نقشے، سرسبز لان، شاندار گیٹس، مسجد، سکول، اسپتال،منصوبہ بہت شاندار ہوتا ہے۔محرومیوں کے مارے، چھوٹے چھوٹے کرائے کے گھٹن زدہ مکانوں میں رہنے والے اپنی جان تک بیچ کر ایڈوانس جمع کراتے ہیں۔ سوشل میڈیا، بینرز، اشتہارات اور پراپرٹی ڈیلروں کی میٹھی زبان۔ ’’آج بکنگ کریں، کل ریٹ دگنا‘‘، ’’یہ آخری موقع ہے‘‘، ’’فائل نہیں، سرمایہ کاری ہے‘‘،یہ جملے نہیں، جال ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں مکان صرف اینٹ پتھر نہیں، عزت، تحفظ اور مستقبل کی علامت ہے۔ متوسط طبقہ اپنی پوری زندگی کی بچت اسی ایک خواب پر لگا دیتا ہے۔ ۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ سوسائٹی قانونی ہے یا نہیں، وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ’’یہ میرا اپنا گھر ہوگا۔‘‘مافیا ان محروم لوگوں کی یہی نفسیات استعمال کرتا ہے۔ کبھی فائل دی جاتی ہے، کبھی الاٹمنٹ لیٹر، کبھی قبضے کی تاریخ۔ چند لوگوں کو جزوی قبضہ دے کر اعتماد پیدا کیا جاتا ہے، باقیوں کو مستقبل کے وعدوں پر لٹکایا جاتا ہے۔ پھر اچانک خاموشی چھا جاتی ہے۔ دفتر بند، فون بند، ویب سائٹ غائب۔ جو لوگ سوال کریں، انہیں دھمکیاں۔ جو عدالت جائیں، ان کے سال ضائع۔
سوسائٹی والوں کے پاس پانچ سو کنال یا ایک ہزار کنال اراضی ہوتی ہے، بیچ وہ پانچ ہزار کنال دیتے ہیں۔میں ایسی سوسائٹی کو جانتا ہوں جو بہت مشہور ہے، کئی شہروں میں ان کے منصوبے ہیں ، ایک جگہ انہوں نے ایک لاکھ پلاٹ بیچا۔ اتنی فائلوں کی بکنگ کی۔پھر یہ پیسہ دبئی منتقل ہو جاتا ہے۔ کئی سال تک ترقیاتی کام نہیں ہوتے۔لوگ مایوس ہو کر قسط نہیں دیتے۔ سوسائٹی والے خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں تو پیسہ چاہئے تھا۔اربوں روپے جمع ہوگئے۔ اس ایک لاکھ پلاٹ کی رقم جمع کر کے دیکھیں۔پانچ لاکھ فی پلاٹ بکنگ ہو تو ایک لاکھ پلاٹ کی رقم کیا ہو گی، پچاس لاکھ ، صرف بکنگ کے۔ان پلاٹوں کی انہوں نے پانچ فیصد کمیشن دی ہوتی ہے۔یوں اگر ہر پلاٹ بیس لاکھ کا ہو تو ایک لاکھ کمیشن فی پلاٹ بنتی ہے۔ بڑے بڑے ڈیلر پچیس کروڑ ،کوئی پچاس کروڑ لے کر ان کے پاس جاتے ہیں کہ ڈیل ہمیں ملے۔اس پچیس کروڑ کے ساتھ انہوں نے دس کروڑ منافع دینا ہوتا ہے۔پچاس کروڑ کی فائلیں دی جاتی ہیں۔پچاس کروڑ کی فائلوں سے اربوں نہیں کھربوں بنائے جاتے ہیں۔ایک لاکھ روپے کی خاطر ہر طرف ڈیلر رشتے داروں ، بھائیوں کو فائلیں بیچتا ہے۔ایک بندہ ہزار ہزار فائل بیچتا ہے، یعنی دس کروڑ کی دیہاڑی وہ لگا لیتا ہے۔ چالیس کروڑ ڈویلپر کما لیتا ہے۔ یہ کما کر وہ آرام سے ترقیاتی کام کراتے ہیں، دس بارہ سال بعد کہیں پلاٹ ملتا ہے، ذلیل کر کے۔مجموعی حساب لگائیں توسوسائٹی والے پچاس ارب روپے پہلے ہلے میں ہی اکٹھا کر لیتے ہیں۔یہ لوگ ہزار لوگوں کو پلاٹ دیں گے، پھر نیا ریٹ نکالیں گے، نئی ڈیل ہوں گی۔ جو بیس لاکھ کا پلاٹ بیچا تھا اس کا ریٹ ستر لاکھ نکالا جاتا ہے، یوں بدمعاشی کی جاتی ہے۔ اوپر سے وکلا کے پورے پورے چیمبر ہائر کر رکھے ہوتے ہیں۔ جو پریشان حال پلاٹ مالک ہوتا ہے وہ بے چارہ عدالتوں میں تھک جاتا ہے۔
اس مافیا کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جس علاقے میں انہوں نے سوسائٹی لانچ کرنا ہوتی ہے وہاں اعلیٰ پولیس افسران کا پتہ کیا جاتا ہے۔ان سے رابطہ کیا جاتا ہے، ایس ایچ او اور اس سے اوپر افسران کو پانچ پلاٹ آفر کئے جاتے ہیں۔جو مقامی ایم پی اے و ایم این اے ہوتے ہیں ،ان کو چئیر مین کی طرف سے پلاٹ کے کاغذات بطور تحفہ پہنچ جاتے ہیں۔پوری ضلعی انتظامیہ کو بھی خاموش کرا کر سوسائٹی مالکان اپنی من مرضی کرتے ہیں۔ایک دوست نے بتایا کہ وہ ایس ایچ او کو بیس لاکھ دیتا ہے، میں گوجرانوالہ کی ایک سوسائٹی کے خلاف پرچہ کرانا چاہتا ہوں ،نہیں کرا پا رہا،حال ہی میں قبضہ کے خلاف قانون کو معطل کرادیا گیا۔ مافیا نہیں تو یہ کیا ہے۔ملک ریاض نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ ہر بندے کی ایک قیمت ہوتی ہے،مافیا یہ قیمت ادا کرتا ہے اور پھر عام لوگوں کو لوٹتا ہے۔
خرابی صرف مافیا میں نہیں، نظام میں ہے۔ ہمارے ہاں احتساب واقعہ ہونے کے بعد ہوتا ہے، پہلے نہیں۔ جب تک لوگ لٹ نہ جائیں، ادارے حرکت میں نہیں آتے۔ زمین کا ریکارڈ پیچیدہ ہے، عام آدمی کے لیے ناقابلِ فہم۔ اسی پیچیدگی میں مافیا کھیلتا ہے اور افسران فائدہ اٹھاتے ہیں۔دوسری بڑی خرابی یہ ہے کہ متاثرہ افراد بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر شخص الگ فریاد لے کر گھومتا ہے، اجتماعی آواز نہیں بنتی۔ مافیا اسی تقسیم سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ طاقت ور وکیل، سیاسی اثر و رسوخ اور وقت،یہ تینوں اس کے پاس ہوتے ہیں، جبکہ متاثرہ شخص کے پاس صرف آنسو۔
یہ خرابی کیسے دور ہو سکتی ہے؟ سب سے پہلے پیشگی روک تھام ضروری ہے۔ ہر ضلع میں صرف منظور شدہ سوسائٹیوں کی فہرست عوامی سطح پر نمایاں کی جائے اور غیر قانونی اشتہارات پر فوری پابندی ہو۔ دوسرا، زمین کے ریکارڈ کو سادہ اور شفاف بنایا جائے۔ ڈیجیٹل ریکارڈ تبھی فائدہ مند ہے جب عام آدمی خود تصدیق کر سکے۔ ایک ون ونڈو نظام ہو جہاں کوئی بھی شہری چند منٹ میں جان سکے کہ سوسائٹی قانونی ہے یا نہیں۔
تیسرا، پولیس کو یہ کہہ کر جان نہیں چھڑانی چاہیے کہ یہ سول معاملہ ہے۔ دھوکہ دہی جرم ہے اور اجتماعی فراڈ قومی جرم ہے۔ خصوصی ٹاسک فورسز بنائی جائیں جو صرف ہاؤسنگ فراڈ دیکھیں اور ان کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔چوتھا، عدالتی نظام میں ایسے کیسز کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹس ہوں۔ انصاف اگر دس سال بعد ملے تو وہ انصاف نہیں، ایک اور سزا ہے۔ جج صاحبان اگر چاہیں تو مثالیں قائم ہو سکتی ہیں۔
حال ہی میں پنجاب حکومت نے قبضہ کے خاتمہ اور حقداروں کو ان کا حصہ دینے کے متعلق قانون سازی کی ہے۔ اسی طرح کی قانون سازی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے متعلق بھی ہونی چاہئے جس میں انہیں ادائیگی، قبضہ دینے، ڈویلپمنٹ کا کام مکمل کرنے اور سہولیات کی فراہمی کو ایک ٹائم لائن پر پورا کرنے کا پابند کیا جائے۔میں نے بچوں کی طرح روتے بزرگ دیکھے ہیں۔ میں نے وہ مائیں دیکھی ہیں جنہوں نے بیٹی کے نام پر لیا گیا پلاٹ بکوا دیا۔ میں نے وہ نوجوان دیکھے ہیں جنہوں نے بیرونِ ملک مزدوری کر کے ایک فائل خریدی، اور اب خالی ہاتھ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ آنسو ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟ یا ہم اگلے نسل کے رونے کا انتظار کریں گے؟۔
بچوں کی طرح روتے بزرگ دیکھے
09:04 AM, 5 Feb, 2026