سیاسی شعبدہ بازی

09:03 AM, 6 Dec, 2025

چوپال سجی ہوئی تھی۔ سب چپ سائیں کا انتظار کر رہے تھے۔ چپ سائیں کی آمد ہوئی اور سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔ چپ سائیں نے اپنی نشست کا رخ کیا اور سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ آج چاچا رفیق اور چاچا رشید بھی موجود تھے۔ دونوں نے چپ سائیں سے کہا سائیں جی آج ہم نے ایک شعبدہ باز دیکھا، وہ دائیں کو بائیں اور بائیں کو دائیں کر رہا تھا۔ سب اس کے کرتب اس قدر انہماک سے دیکھ رہے تھے کہ کوئی اس کی ہاتھ کی صفائی کو پکڑ ہی نہیں سکا۔ سائیں جی آپ پہلے شعبدہ بازی کے بارے میں بتائیں پھر سیاسی شعبدے بازوں کا تذکرہ کریں۔ اس پر چپ سائیںزیر لب مسکرائے۔
چپ سائیں تھوڑی دیر بعد گویا ہوئے کہ لفظ ”شعبدہ“ ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے جادو، نظر بندی، کرتب، ہاتھ کی صفائی یا فریب، جب ”باز“ بطور لاحقہ استعمال ہوا، تو اس کا مطلب ہوا ”جو باز (کاریگر) ہے“ یعنی شعبدہ باز وہ شخص جو شعبدہ کرتا ہے/ کرتب دکھاتا ہے۔ اصل معنوں میں شعبدہ باز وہ جادوگر یا کرتب باز ہوتا ہے جو لوگوں کو کارڈز، ہاتھ کی چال یا دیگر فنون شعبدہ کے ذریعے حیران کرتا ہے۔ روزمرہ بول چال، ادب، شاعری یا سیاسی مباحثے میں شعبدہ باز ایسے شخص کے لیے بھی کہا جاتا ہے جو دھوکہ، فریب، چالاکی یا شکوک و شبہات کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنا رہا ہو مثلاً سیاستدان، فریبی پیشہ ور یا کوئی چالباز۔
دوستو! اب میں اصل مدعا بیان کرتا ہوں یعنی کہ سیاسی شعبدہ کون ہوتا ہے؟ صاحبو! سیاست، انسانی تاریخ میں ایک ایسا میدان ہے جہاں طاقت، مقبولیت اور عوامی رائے کی جنگ روزانہ لڑی جاتی ہے لیکن یہ میدان ہمیشہ شفاف اور صاف نہیں رہا۔ اکثر یہ ایک ایسا کھیل بن جاتا ہے جس میں سچائی اور فریب کے درمیان باریک لکیر ہوتی ہے، اور عوامی شعور ہی اس لکیر کو پہچاننے کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ سیاسی شعبدہ بازی اور جھوٹ ایسے حربے ہیں جو سیاستدان استعمال کرتے ہیں تاکہ عوام کا دھیان اصل مسائل سے ہٹا کر اپنے مقصد کی طرف موڑ سکیں۔ سیاست میں بھی یہی صورتحال ہے۔ سیاستدان اپنی پالیسیوں، وعدوں اور مقاصد کو عوام کے لیے پُرکشش بنانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں، تاکہ عوام اصل حقائق سے بے خبر رہیں۔
صاحبو! سیاستدان اکثر اپنی کامیابیوں یا اقدامات کے صرف وہ پہلو پیش کرتے ہیں جو عوام کو متاثر کریں۔ عوام کو صرف کامیابی نظر آتی ہے، نقصان یا کمی چھپ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر کسی جذباتی موضوع یا سکینڈل کی طرف موڑ دی جاتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مخالف کو کمزور دکھایا جاتا ہے اور سیاسی حریف کی کمزوری یا غلطی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے عوام کے ذہن میں مخالف کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے، چاہے حقیقت میں صورتحال اس کے برعکس ہو۔ سیاستدان اپنے الفاظ اور نعرے ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ عوام کے ذہن میں مخصوص تاثر قائم ہو جائے۔ یہ وعدے اکثر اتنے نفیس ہوتے ہیں کہ عوام کے لیے ان کی حقیقت جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، انتخابی مہم میں ایسے وعدے کیے جاتے ہیں جو حقیقت میں پورے نہ ہو سکیں، لیکن عوام پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
جھوٹ سیاست کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اور یہ اکثر نہایت نفیس اور مشکل پہچان والا ہوتا ہے۔ اپنی کامیابیوں یا اقدامات کو حقیقت سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، عوام کے لیے اہم معلومات چھپائی جاتی ہے تاکہ ان کا فیصلہ محدود معلومات پر ہو۔ انتخابی مہم کے دوران ایسے وعدے کیے جاتے ہیں جو حقیقت میں پورے نہ کیے جا سکیں۔ یہ سب حربے عوام کے ذہن میں ایک مثالی یا پُرکشش تاثر قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، چاہے حقیقت اس کے بالکل برعکس ہو۔
سیاسی شعبدی بازی اور جھوٹ کی مثالیں تاریخ سے لے کر موجودہ دور تک ملتی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں انتخابی مہمات اور سیاسی مہمات میں عوام کی توجہ ہٹانے، مخالفین کو بدنام کرنے اور مبالغہ آرائی کرنے کے حربے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بعض ممالک میں انتخابی اشتہارات میں حقیقت کے جزوی پہلو دکھائے جاتے ہیں تاکہ عوام کسی مخصوص تاثر میں قائل ہو جائیں۔ دوستو! پاکستانی سیاست میں بھی اس کا شواہد دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سیاسی جلسوں، میڈیا بیانات اور سوشل میڈیا مہمات میں اکثر مبالغہ آرائی، وعدوں کا توڑ اور مخالفین کی کمزوری کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا عام حربے ہیں۔ یہ سب عوام کی رائے سازی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، خواہ حقیقت مختلف ہو۔
سیاسی شعبدی بازی اور جھوٹ کا سب سے بڑا نقصان عوام کے اعتماد پر پڑتا ہے۔ جب لوگ حقائق سے محروم رہتے ہیں، تو وہ فیصلے جذبات یا فریب پر مبنی معلومات کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ منطق اور حقائق کی بنیاد پر۔ اس سے جمہوریت کے اصول کمزور ہوتے ہیں، اور عوامی شعور متاثر ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ صورتحال ایک خطرناک سلسلہ پیدا کرتی ہے۔ عوام کی بے خبری یا محدود معلومات کی وجہ سے سیاسی طاقتور گروہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر سکتے ہیں۔ جب عوام اپنے حقوق اور سچائی سے محروم رہتے ہیں، تو یہ نہ صرف موجودہ جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ مستقبل کی نسلوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
دوستو! عوام مکمل طور پر بے بس نہیں۔ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور جین زی ایک ایسی نوجوان نسل ہے جو سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک ہے، گویا پوری دنیا ان کے ہاتھ میں ہے، اس کے فوائد اور نقصانات سے قطع نظر مسائل اور حقیقت اب سب کے ہاتھ میں ہے لیکن قباحت صرف فیک نیوز ہے جو لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے۔
شعور، تحقیق کے لیے اب لوگوں کو خاصی محنت کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ عوام حقائق کی مکمل تحقیق کریں، صرف میڈیا یا سوشل میڈیا کی سطحی معلومات پر اعتماد نہ کریں۔ سیاسی بیانات اور وعدوں کا تجزیہ کریں اور ان کی حقیقت کو جانچیں۔ اپنے ووٹ اور رائے کا استعمال شعوری انداز میں کریں تاکہ شعبدی بازوں اور جھوٹ کے اثرات کم ہوں۔ سیاسی شعبدی بازی اور جھوٹ محض سیاستدانوں کا ہنر نہیں، بلکہ ایک چیلنج ہے جس کا سامنا ہر شہری کو کرنا پڑتا ہے۔ عوام کی بیداری اور معلومات تک رسائی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے سچائی سیاست کی دنیا میں دوبارہ اپنا مقام بنا سکتی ہے۔۔۔ آنکھیں کھلی رکھیں، شعبدے بازوں سے بچیں۔۔ رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں