عرفان صدیقی صاحب ۔۔۔ یادیں اورباتیں !(3)

09:02 AM, 6 Dec, 2025


برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور 10 اور 11 نومبر کی رات کو انتقال سے قبل سینیٹ آف پاکستان میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے قائد اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین کے عہدوں پر فائز تھے۔ اس سے قبل وہ سینیٹ کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے تھے۔ اس سے پیچھے جائیں تو 2013 سے 2018ءتک مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں پہلے وہ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے معاونِ خصوصی اور بعد میں اُن کے اور اُن کے بعد بننے والے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے مشیر بالحاظ عہدہ وفاقی وزیر بھی تعینات رہے۔ دیکھا جائے تو عرفان صاحب مرحوم کے یہ عہدے اقتدار و اختیار کے لحاظ سے بہت اُونچے اور دُنیا وی لحاظ سے قابلِ رشک تھے تاہم اُن کو ایک اور مقام اور حیثیت بھی حاصل تھی جو شاید معدودے چند ایک لوگوں کو حاصل ہو کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اُن کو اپنا انتہائی جانثار، وفادار ساتھی ہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اُنہیں قریبی دوست اور مخلص بھائی کا درجہ دیتے ہوئے اُن پر بے پناہ اعتماد بھی کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عرفان صاحب کا انتقال ہوا تو میاں نواز شریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا آج وہ اپنے وفادار ساتھی اور مخلص بھائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اگلے دن وہ تعزیت کے لیے عرفان صاحب مرحوم و مغفور کے گھر G-10/3 اسلام آباد میں تشریف لے گئے تو برادرِ مکرم و محترم عرفان صاحب مرحوم و مغفور کے بیٹوں عزیزی عمران خاور اور نعمان راشد اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ انہی الفاظ میں اپنے غم اور دُکھ کا اظہار کیا اور عرفان صاحب کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔
عرفان صاحب کو میاں نواز شریف اپنا بااعتماد ساتھی اور مخلص اور وفادار دوست سمجھتے تھے بلکہ بھائی کا درجہ دیتے تھے تو بلا شبہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ اس ضمن میں، میں اپنی ذاتی معلومات اور مشاہدے کا حوالہ دے کر کچھ واقعات بیان کر سکتا ہوں۔ 25 فروری 2022ءکی بات ہے، میں عرفان صاحب کے ساتھ اُن کی گاڑی میں لاہور جا رہا تھا ۔ محبی مکرم ڈاکٹر جمال ناصر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہمیں اُس رات کو عزیزِ مکرم و محترم فواد حسن فواد (سابق پرنسپل سیکرٹری وزرائے اعظم میاں نواز شریف و شاہد خاقان عباسی) کے صاحبزادے عزیزی صلال حسن کی دعوت ِ ولیمہ میں شرکت کرنا تھی۔ دن کوئی 11 بجے کے لگ بھگ ہم بھیرہ انٹر چینج پر چائے وغیرہ پینے کے لئے رُکے تو اس دوران عرفان صاحب کو میاں نواز شریف جو اُن دنوں اپنے علاج کے لیے 
لندن میں مقیم تھے کا وائس میسج موصول ہوا۔ عرفان صاحب نے میسج سُنا اور بتایا کہ میاں صاحب ہر روز بلا ناغہ یہاں کے دن تقریباً گیارہ بجے کے لگ بھگ وقت جب لندن میں صبح ہوتی ہے مجھے وائس میسج بھیج کر خیر خیریت اور حال احوال پوچھتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عرفان صاحب نے ہمارے سامنے میاں صاحب کو جوابی میسج کیا اور انہیں بتایا کہ وہ لاہور جا رہے ہیں اور محترم عطا الرحمن صاحب (معروف سینئر صحافی اور گروپ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات) جو شدید علیل ہیں کی عیادت کے لیے بھی جائیں گے۔ میاں صاحب کا فی الفور جوابی وائس میسج آ گیا جس میں انہوں نے عرفان صاحب سے کہا کہ وہ عطا الرحمن صاحب کی میری طرف سے بھی عیادت کریں اور اُن کے لیے پھولوں کا گلدستہ بھی لے جائیں۔ ہم موٹر وے پر کچھ آگے گئے تو اسی دوران لاہور سے پیغام آ گیا کہ عطا الرحمن صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ عرفان صاحب نے فی الفور وائس میسج پر میاں نواز شریف کو لند ن میں اطلاع دے دی۔ کچھ ہی دیر بعد میاں صاحب محترم کا جوابی وائس میسج آ گیا جس میں انہوں نے محترم عطا الرحمن مرحوم کے انتقال پر دُکھ اور تعزیت کا اظہار کرنے کے ساتھ اُن کی بخشش کے لیے دعائیہ کلمات بھی ادا کیے۔
برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کا میاں نواز شریف سے قریبی تعلق کا یہ سلسلہ کیسے قائم ہوا اور اس میں بتدریج کیسے اضافہ ہوا اس ضمن میں میں اپنے ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں کو ٹٹولوں تو کوئی مراحل سامنے آتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ عرفان صاحب کے گھرانے کے افراد بنیادی طور پر جماعتِ اسلامی کے حلقہ احباب میں شامل تھے اور جماعت کے بانی امیر، مفکر ِ اسلام سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ سے گہری عقیدت اور وابستگی رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ممتاز سکالر، معروف مصنف اور قلمکار مولانا نعیم صدیقی مرحوم جن کا شمار مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے قریبی ساتھیوں اور جماعتِ اسلامی کے تاسیسی ارکان میں ہوتا تھا، وہ عرفان صاحب مرحوم کی والدہ ماجدہ کے ماموں ہونے کے ساتھ اُن کے دو بھائیوں (عرفان صاحب کے ماموﺅں) بریگیڈئیر عنایت الرحمن صدیقی مرحوم اور پروفیسر ڈاکٹر مشتاق الرحمن صدیقی کے سُسر بھی تھے۔ اس طرح جماعت ِ اسلامی سے عرفان صاحب کے گھرانے کی وابستگی کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ پھر اتنا کچھ ہی نہیں تھا بلکہ میری طرح کے لوگ جن کی عرفان صاحب اور اُن کے گھرانے سے قربت اور دوستی ہوئی وہ بھی کچھ کم یا زیادہ جماعتِ اسلامی کے حلقہ احباب میں جہاں شامل ہوئے وہاں ہر پلیٹ فارم پر جماعت ِ اسلامی کی حمایت میں سر توڑ بھاگ دوڑ میں مصروف بھی رہے۔ اس طرح جماعتِ اسلامی سے برادرِ مکرم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور اور اُن کے گھرانے سمیت ہم جیسے لوگوں کا یہ تعلق اس طرح آگے چلا کہ گزشتہ صدی کی ستر، اَسی بلکہ نوے کی دہائیوں کے دوران پیپلز پارٹی کی مخالفت اور اینٹی بھٹو بننے والے اتحادوں کی حمایت جہاں عرفان صاحب اور اُن کے گھرانے کا مرکز و محور رہی وہاں میری طرح کے لوگ بھی اپنے پورے کنبے اور گھرانے کے ساتھ اس حمایت میں پیش پیش رہے۔
طوالت سے بچنے کے لیے اگست 1990ءمحترمہ بینظیر بھٹو شہید کی حکومت کی صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرفی کے بعد اکتوبر 1990ءکے عام انتخابات کی طرف آتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتخابات ایک ایسا سنگِ میل ثابت ہوئے جہاں سے آگے عرفان صاحب کی میاں نواز شریف سے قربت کی راہ تیزی سے ہموار ہونا شروع ہوئی۔ ان انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بڑی کامیابی ملی۔ میاں نواز شریف وزیرِ اعظم بنے اور جناب اعجاز الحق وفاقی کابینہ میں اوورسیز پاکستانیوں کے وزیر مقرر ہوئے۔ عرفان صاحب جن کی اس سے قبل جناب اعجاز الحق سے گہری قربت ہو چکی تھی وہ OPF میں ڈائریکٹر ایجوکیشن متعین ہوئے لیکن وہ محترم اعجاز الحق کے قریب ترین ساتھی اور انتہائی بااعتماد مشیرِ خاص بھی تھے۔ اپریل 1993ءمیں صدر غلام اسحاق خان مرحوم نے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کیا تو اس بات کا امکان موجود تھا کہ جناب اعجاز الحق کہیں صدر غلام اسحاق خان کے جھانسے میں آ کر میاں نواز شریف سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے عبوری حکومت میں کوئی بڑا عہدہ قبول کر لیں۔ ان حالات کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر کہہ سکتا ہوںکہ عرفان صاحب مرحوم و مغفور اور مرحومہ بیگم شفیقہ ضیا الحق دو ایسی شخصیات تھیں جنہوں نے جناب اعجاز الحق کو میاں نواز شریف کے مخالف کیمپ میں جانے سے روکے رکھا۔ 1993ءمیں عام انتخابات ہوئے تو اس سے قبل اسلامی جمہوری اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا تھا۔ اب میاں نواز شریف کی مسلم لیگ کو پیپلز پارٹی کے ساتھ جماعتِ اسلامی کے قاضی حسین احمد مرحوم جن کی جماعت اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت میں شامل رہی تھی کہ اسلامک فرنٹ کے مقابلے کا بھی سامنا تھا۔ اس موقع پر محترم عرفان صدیقی صاحب مرحوم و مغفور نے اپنی تحریروں اور تجزیوں میں جو اندازِ فکر و نظر اپنایا وہ بلا شبہ اُن کی مسلم لیگ اور میاں نواز شریف سے بتدریج قربت کا باعث بنا۔ اس کی تفصیل ان شاءاللہ آئندہ کالم میں۔

مزیدخبریں