ہمارا معاشرہ تہذیب اور خطرے کے درمیان مسلسل توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اکثر یہ توازن بگڑ جاتا ہے۔ بسنت، شبِ برا¿ت کی آتش بازی، شادی بیاہ میں فائرنگ اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری یہ چار مختلف موضوعات بظاہر الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر اصل میں یہ ہمارے رویوں، شعور اور سماجی ذمہ داری کی ایک ہی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان میں تہذیبی ورثہ، مذہبی تقدس اور معاشرتی ضرورت موجود ہے، لیکن سب کے ساتھ جڑا سب سے بڑا مسئلہ ہماری بے احتیاطی اور لاپروائی ہے، جو خوشیوں کو جان لیوا سانحات میں بدل دیتی ہے۔ بسنت برصغیر کی ایک صدیوں پرانی روایت ہے جس کی جڑیں کم از کم ایک ہزار سال پیچھے جاتی ہیں۔ یہ تہوار فصلوں کی کٹائی، سردیوں کے اختتام اور بہار کی آمد کی خوشیوں سے جڑا ہوا تھا۔ پنجاب کے کھیت، دہلی کے محلات اور مختلف علاقوں میں لوگ اس دن پیلے لباس، کھلے میدان، موسیقی اور صوفیانہ محفلوں کے ذریعے بہار کا جشن مناتے تھے۔ مغلیہ دور میں بسنت کو نئی جہت ملی اور پتنگ بازی اس تہوار کا لازمی حصہ بن گئی۔ لاہور کی چھتیں، گلیاں اور کھیت رنگین پتنگوں سے آباد ہو جاتے، اور تہوار نے عالمی شہرت حاصل کی۔ تاہم وقت کے ساتھ بسنت کی روح پر دھات اور کیمیکل سے بنی ڈور نے سایہ ڈالنا شروع کر دیا۔ چھتوں سے گرنے، بجلی کے تاروں میں الجھنے اور دھاتی ڈور سے موٹر سائیکل سواروں کی ہلاکت نے بسنت کو خطرناک بنا دیا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسے گھرانے ہیں جن کے چراغ لمحوں میں بجھ گئے، بچے یتیم اور خاندان کے کفیل لقمہ اجل بن گئے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بسنت منائی جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کیسے محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ منایا جائے۔ اگر حکومت مقامی مقامات کو محفوظ بنائے، خطرناک ڈور کی فروخت کو روک دے، اور عوام حفاظتی اصولوں پر عمل کریں تو بسنت دوبارہ اپنی اصل تہذیبی خوشبو کے ساتھ لوٹ سکتی ہے۔ یہ تہوار صرف رنگوں، پتنگوں اور بہار کا مظاہرہ نہیں بلکہ سماجی میل جول، ثقافتی اظہار اور مشترکہ خوشیوں کی علامت بھی ہے۔ شبِ برا¿ت اسلامی روایات میں ایک مقدس رات ہے، جس میں اللہ سے مغفرت طلب کی جاتی ہے اور عبادت کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ رات اکثر آتش بازی، دھماکوں اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کی وجہ سے خطرناک ہو جاتی ہے۔ ہر سال ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز زخمی بچوں اور نوجوانوں سے بھر جاتی ہیں۔ دھماکے، آنکھوں اور چہرے کے شدید زخم، جلنے اور بعض اوقات آگ لگنے کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ شبِ برا¿ت کی اصل روح، جو عاجزی اور قربتِ الٰہی کی تعلیم دیتی ہے، بدل کر غیر محفوظ سرگرمیوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات بھی خوشیوں کا موقع ہوتی ہیں، لیکن اس خوشی کے اظہار کے غیر ذمہ دارانہ طریقے بم پٹاخے اور ہوائی فائرنگ نے کئی گھروں کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا ہے۔ اوپر چلائی گئی گولی ہمیشہ نیچے لوٹتی ہے اور اکثر بے قصور افراد کی جان لے لیتی ہے۔ یہ سانحات نہ صرف قیمتی جانوں کا نقصان ہیں بلکہ پورے خاندانوں پر گہرا صدمہ چھوڑ جاتے ہیں، جس کا مداوا ممکن نہیں۔ شادی کی اصل خوشی اس میں ہے کہ لوگ ملیں، خوشیاں بانٹیں اور تہذیب کے ساتھ جشن منائیں، نہ کہ کسی کی جان کی قیمت پر۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری بھی ہمارے معاشرتی مسائل میں شامل ہے۔ دنیا بھر میں یہ ایک محفوظ اور کم خرچ سواری کے طور پر استعمال ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں اکثر اس پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ صرف ٹریفک قوانین نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے جرائم، ڈکیتی، ہتھیاروں کی نقل و حمل اور دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں، جن میں ڈبل سواری زیادہ مو¿ثر
ثابت ہوتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں لاکھوں افراد اس پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے مسئلہ پابندی نہیں بلکہ جرائم اور غیر قانونی اسلحے کی دستیابی ہے۔ جب تک بنیادی اسباب کا حل نہیں ہو گا، صرف پابندی عوام کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کرے گی۔ ان تمام معاملات کا مشترکہ عنصر ہماری اجتماعی بے احتیاطی اور قانون سے بے نیازی ہے۔ ہم تہوار مناتے ہیں مگر حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ہم مذہبی راتوں کو اپنی من پسند سرگرمیوں کے تابع کر دیتے ہیں۔ ہم خوشی کے اظہار کو خطرناک نمائش سے جوڑ دیتے ہیں۔ قانون اور نگرانی تبھی مو¿ثر ہو سکتے ہیں جب عوام اس کی روح کو سمجھیں اور ایمانداری سے عمل کریں۔ حل ممکن ہے اور یہ عملی اقدامات سے شروع ہوتا ہے۔ بسنت کے لیے محفوظ اور نگرانی شدہ مقامات مختص کیے جائیں، خطرناک ڈور پر پابندی سخت کی جائے، اور عوامی شعور اجاگر کیا جائے۔ شبِ برا¿ت میں آتش بازی پر مکمل پابندی اور مذہبی رہنماو¿ں کی طرف سے اس کی تعلیم ضروری ہے۔ شادی بیاہ میں فائرنگ اور پٹاخوں کے استعمال پر قانون کی مکمل عملداری اور انتظامیہ کی نگرانی ہونی چاہیے۔ ڈبل سواری کے مسائل کے حل کے لیے پولیسنگ نظام بہتر، اسلحے کی غیر قانونی فروخت پر قابو اور جرائم کی روک تھام ضروری ہے۔ تعلیمی ادارے، میڈیا اور سماجی رہنما عوام میں شعور اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تہوار روکنے سے ثقافت محفوظ نہیں رہتی۔ اصل حل یہ ہے کہ ہم اپنے رویے، شعور اور ذمہ داری کو بہتر بنائیں۔ بسنت، شبِ برا¿ت، شادی بیاہ اور عوامی سواری یہ سب ہمارے معاشرتی رویوں کا آئینہ ہیں۔ اگر ہم شعور اور احتیاط کو اپنا لیں تو یہ تہوار معاشرے کی خوبصورتی بن سکتے ہیں، ورنہ ہر خوشی سانحہ بن جاتی ہے۔ زندگی رب کی سب سے قیمتی نعمت ہے، اور تہوار اس کے لیے ہیں، نہ کہ اس کی قیمت پر۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، قانون کی پاسداری کریں اور دوسروں کی جان کی قدر کریں، تو بسنت، شبِ برا¿ت اور شادی بیاہ واقعی خوشیوں اور تہذیب کے علمبردار بن سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات کو محفوظ اور زندگیوں کو بچانے کی سمت قدم بڑھائیں، کیونکہ تہوار صرف تبھی خوبصورت ہیں جب انسان کی جان اور عزت محفوظ ہو۔
بسنت، بیاہ، برات، عوامی سواری! خونیں؟
09:04 AM, 6 Dec, 2025