بسنت کی اجازت

09:02 AM, 6 Dec, 2025


بسنت اور پتنگ بازی لازم و ملزوم ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے بسنت کی مشروط اجازت سے مراد دراصل پتنگ بازی کے کھیل کی احتیاط کے ساتھ اجازت ہے جس پر خونیں شکل اختیار کرنے کے باعث گزشتہ کم و بیش پچیس سال سے پابندی عائد تھی۔ دوسرے لفظوں میں اگر پتنگ بازی کے بغیر بسنت منانے کی اجازت دی جائے تو وہ بے معنی ہو گی۔ اسی لیے بسنت کی اجازت ملنے پر جو طبقہ خوشی کا اظہار کر رہا ہے وہ دراصل پتنگ بازی کی چھوٹ ملنے ہی کے خیال سے خوش ہے۔ بسنت پر پابندی لگنے کی اصل وجہ پتنگ بازی کا کھیل نہیں بلکہ اس کھیل میں استعمال ہونے والی وہ ڈور تھی جو دھاگے سے دھاتی تار میں تبدیل ہوئی اور کئی لوگوں کے گلے کاٹنے کا باعث بنی۔ قاتل ڈور کا استعمال روکنے کے لیے پتنگ بازی اور بسنت پر پابندی لگانا پڑی۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ انسانی جانیں محفوظ رہیں اور سڑک پر چلتا کوئی موٹر سائیکل سوار ڈور کی زد میں آ کر زندگی سے محروم نہ ہو۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ قاتل ڈور، پتنگ بازی اور بسنت پر پابندی کے باوجود گلے کٹنے سے لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ موجودہ پنجاب حکومت کے دور میں بھی ڈور سے گلا کٹنے کے متعدد واقعات سامنے آئے جن میں سب سے دلخراش واقعہ گزشتہ سال فیصل آباد میں رونما ہوا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز متاثرہ خاندان کی دلجوئی کے لیے نہ صرف بہ نفس نفیس ان کے گھر فیصل آباد گئے بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے پولیس اور انتظامیہ کو قاتل ڈور کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے بعد قاتل ڈور پر قابو پانے کے متعدد اقدامات بھی کیے گئے، اس کے باوجود بھی گلے پر ڈور پھرنے کے مزید واقعات رونما ہوئے۔ یعنی قاتل ڈور پر قابو پانے کے تمام تر اقدامات اور پولیس کی سختی کے باوجود اس پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ قاتل ڈور کے خلاف کیے جانے والے اب تک کے اقدامات مسئلے کا حل نہیں۔
شاید اسی لیے پنجاب حکومت نے بسنت کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے یقینا بہت سے لوگ خوش ہوئے ہیں لیکن ایک طبقہ اس فیصلے پر کچھ ناراض ناراض اور خفا خفا ہے۔ جو طبقہ اس فیصلے سے خوش ہے یہ وہی طبقہ ہے جو بسنت کی بندش پر دبی دبی آواز میں احتجاج کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ بسنت ہمارا ایک خوبصورت روایتی تہوار تھا، اس پر پابندی لگانے کی بجائے حکومت کو پتنگ بازی سے ہونے والی اموات روکنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو بسنت کی اجازت کے فیصلے پر ناراض ہے اس میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بسنت کو اس کے خونیں پہلو کے باعث ناپسند یدگی کی نظر سے دیکھنے لگا تھا۔ اس طبقے کا یہ کہنا ہے کہ لوگوں کو تفریح کی اجازت ضرور ملنی چاہیے لیکن انسانی جانوں کی قیمت پر نہیں۔
دیکھا جائے تو دونوں طبقوں کا نقطہ نظر بالکل درست ہے اور اگر دونوں نقطہ ہائے نظر کو ملا کر پڑھا جائے تو بات کچھ یوں بنتی ہے کہ بسنت ہمارا روایتی تہوار ہے اور اس پر پابندی نہیں لگنی چاہیے لیکن کوئی بھی تہوار یا تفریح انسانی جان کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کو سامنے رکھ کر تہوار کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا اور 25 سال تک لوگ قاتل ڈور کی ہلاکت خیزیوں کے باعث بسنت جیسے تہوار سے محروم رہے۔ انہی سطور پر میں پہلے بھی بارہا عرض کیا گیا تھا کہ بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی مسئلے کا حل نہیں تھا بلکہ اصل حل لوگوں کو ڈور کی زد میں آنے سے بچانا تھا۔ ماضی کی حکومتوں پر اس پر غورو خوض اور کام کرنا چاہیے تھا لیکن ان کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت اس بات پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ اس نے ”دیر آید درست آید“ کے مصداق بسنت کے تہوار کو منانے اور اسے خونیں ہونے سے بچانے کے لیے ایک درمیانی راستہ نکالا ہے کہ کچھ سخت شرائط کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے۔ یقینا اس سے بسنت جیسے تہوار کا احیا بھی ہو گا اور لوگ قاتل ڈور سے محفوظ بھی رہیں گے۔ حکومت کی طرف سے بسنت منانے کے لیے جو اہم شرائط سامنے آئی ہیں، ان میں سے ایک تو پتنگ فروشوں کی رجسٹریشن ہے تاکہ ان کے سوا کوئی اور پتنگ بازی کا سامان نہ فروخت کر سکے اور دوسری اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے پتنگ اڑانے پر پابندی ہے۔
قاتل ڈور سے بچا کے سلسلے میں اس تجویز پر بھی غور ہونا چاہیے کہ چونکہ ڈور سے گلاکٹنے کے حادثات سڑکوں پر پیش آتے ہیں، کبھی کوئی گھر یا کام کی جگہ پر بیٹھا شخص ڈور پھرنے سے زخمی نہیں ہوا لہٰذا ڈور پر پابندی لگانے یا موٹرسائیکل سواروں کو موٹرسائیکل پر حفاظتی تار لگانے کا پابند بنانے کی بجائے سڑکوں کو محفوظ بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے سڑکوں کے اطراف اونچے پول نصب کر کے ان پر تار لگا دی جائے تاکہ ڈور ٹوٹنے کے بعد سڑک پر نہ گرے اور کسی کے گلے پر پھرنے کی بجائے پولز پر لگی تار کے اوپر ہی سے گزر جائے۔ گزشتہ ایک دو سال کے دوران دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ سڑکوں پر اس قسم کے انتظامات کیے بھی گئے ہیں۔
حکومت پنجاب کی طرف سے بسنت کا تہوار منانے کی مشروط اجازت خوش آئند ہے۔ اس سے نہ صرف لوگوں کو تفریح کا بھر پور موقع بھی میسر آئے گا اور بہت سے لوگوں کا روزگار بھی چلے گا۔ بس اتنا خیال رہے کہ کوئی انسانی جان اس تفریح کی بھینٹ نہ چڑھے کیونکہ انسانی زندگی بہرحال ہر چیز پر مقدم ہے۔

مزیدخبریں