آئین عوام کے لیے ہوتا ہے 

09:01 AM, 6 Dec, 2025


آج سے ساڑھے چار ہزار برس پہلے کا زمانہ تھا جب موجودہ عراق کے علاقے میں لاگاش کے سمیری بادشاہ یروکجےنا نے اپنی حکومت کےلیے ایک قانونی دستاویز تیر کی۔ اسے دنیا کا پہلا آئین کہا جاسکتا ہے۔ اس آئین کی سب سے بڑی خصوصےت ےہ تھی کہ بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاست کو سونپی گئی تھی۔ نیز غریب لوگوں کو مالدار سودخوروں سے تحفظ بھی فراہم کےا گےا تھا۔ اُس وقت سے لے کر اب تک دنیا بھر میں ہر طرح کے آئین بنتے، بگڑتے اور چلتے آرہے ہیں۔ اِن مےں امریکہ کا آئین دنیا کا سب سے پرانا مکمل تحریری آئین ہے۔ دنیا کا سب سے ضخیم آئین ہندوستان اور سب سے مختصر آئین فرانس کے ہمسائے مناکو کا ہے جبکہ برطانیہ کا آئین غیرتحریر شدہ ہے۔ پاکستان کے قیام سے تین روز قبل ہی بانی پاکستان قائداعظمؒ محمد علی جناح نے 11اگست 1947ءکو قائدین کے ذمے جو کام لگایا وہ نئے ملک پاکستان کے لیے آئین سازی ہی تھی۔ ےہ بدقسمتی تھی کہ وہ آئین ساز اسمبلی بانی پاکستان کی زندگی میں کوئی آئینی خاکہ اُن سے منظور نہ کراسکی۔ آئین کی تیاری کی بدقسمتی کا ےہ سلسلہ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد بھی عرصہ دراز تک جاری رہا۔ آئین ریاست کو چلانے کے لےے ملک کے حالات، ثقافت اور زمینی حقائق کے پس منظر میں تیار کےے جانے والے قوانین کا نام ہوتا ہے۔ پاکستان میں آئین سازی کے حوالے سے جو تجربات کےے گئے اُنہےں اس سادہ سی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر ایک نوزائیدہ بچے کی مستقبل کی صحت کے لےے دائیاں، ڈسپنسر، حکیم، سنیاسی بابے، نقلی پیر اور ڈاکٹر وغیرہ سب کے سب اپنے پیشے اور علم ودانش کے مطابق ہدایات دے رہے ہوں اور ان سب کا دعویٰ بھی ہوکہ صرف اُنہی کی دوائی ےا ٹوٹکہ بچے کی مستقبل کی صحت کا ضامن ہوگا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف قسم کی دوائیوں اور ٹوٹکوں کے سائڈ ایفکٹ سے معصوم بچے کو وہ جسمانی اور نفسیاتی جان لیوا بیماریاں بھی لگ سکتی ہیں جو اِن دوائیوں کے نہ کھانے سے ہرگز نہ لگتیں۔ پاکستان کے ابتدائی 26 برس میں آئین سازی کی جوبھی کوشش ہوئی اُسے ذاتی پسند کے نظریات کی چھاپ یا مارشل لاءڈکٹیٹر کی خواہشات کی تکمیل سمجھا گیا۔ اس دوران مغربی تعلیم یافتہ نوجوان ذوالفقار علی بھٹو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام کے سامنے طبقاتی کشمکش ختم کرنے والے سوشلسٹ لیڈر کے طور پر نمودار ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ابتدائی تقریروں میں بارہا کہا کہ وہ پاکستان میں سوشلزم کا انقلاب لائیں گے جس سے غریب اور امیر کا فرق ختم ہو جائے گا۔ اس نعرے سے وہ خود اور ان کی جماعت تو مقبول ہوئی لےکن طبقاتی فرق ختم نہ ہو سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ہی اپنی حکومت کے دور میں 1973ءکا آئین منظور کرایا جو اَب تک پاکستان میں نافذ ہے۔ اس آئین کے بارے میں زمینی حقائق سے مختلف کچھ باتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ سب سے پہلی بات ےہ کہ 1973ءکا آئین متفقہ آئین ہے جبکہ یہ بات ریکارڈ کے مطابق درست نہیں ہے۔ اب ےہ بات مکمل ریکارڈ یافتہ ہے کہ اُس وقت کی ریاست بہاولپور، بلوچستان، سندھ، سرحد اور پنجاب وغیرہ کے بعض اراکین اسمبلی نے اِس آئین پر دستخط نہیں کےے تھے اور ایک ممبر کا اختلافی نوٹ بھی موجود تھا۔ تاہم آئین کی منظوری کے ایشو کو گلیمرائز کرنے کے لیے 1973ءکے آئین کو متفقہ آئین کہا گیا۔ حالانکہ اگر اِس آئین کو کثرت رائے سے منظور ہونے 
والا اکثریتی آئین کہا جاتا تب بھی کےا حرج تھا کیونکہ اکثریتی ووٹوں کے باعث منظور ہوکر یہی آئین نافذ ہوتا۔ اس آئین کو مقدس بنانے کے لےے ےہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُس وقت کے تمام بڑے سیاسی لیڈروں نے اس آئین کی منظوری کی تحریک کے آگے سرتسلیم خم کر دیئے تھے۔ اگر یہ بات واقعی درست ہے تو اس کی دو ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی ےہ کہ وہ تمام سیاسی رہنما دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اُس وقت کے زخم خوردہ پاکستان کو خوداعتمادی دے کر آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ اسی لےے وہ سب سیاسی رہنما بہت کم اور ناکافی پر بھی راضی ہوگئے۔ دوسرا یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کے سامنے سب خاموش ہو گئے تھے۔ سوال ےہ ہے کہ وہ تمام بڑے سیاسی رہنما جنہوں نے 19اپرےل 1973ءکو آئےن کی توثےق مےں ذوالفقار علی بھٹو کا اگر دل سے ساتھ دےا تھا تو اُنہی رہنماﺅں پر ساڑھے تین سال بعد مارچ 1977ءمیں اُسی بھٹو کے خلاف سازش میں شریک ہونے کا الزام کیوں ہے؟ اگر وہ سیاسی لیڈر کسی خوف یا مفاد کے باعث بھٹو کے خلاف سازش میں شریک ہوسکتے تھے تو آئین کی منظوری کے وقت کسی خوف یا مصلحت کا شکار بھی کیا نہیں ہوسکتے تھے؟ جیسا کہ بتایا گیا کہ دنیا کا سب سے پہلا مبینہ آئین عوام کی فلاح وبہبو د کے حوالے سے تھا اور آئین کامقصد بھی ےہی ہونا چاہئے لےکن 1973ءکا آئین طرز حکمرانی پر ہی زیادہ مبنی ہے۔ کیا ےہی وجہ ہے کہ موجودہ آئین عوام کی فلاح و بہبود کی ضروریات پوری کرنے میں زیادہ معاون ثابت نہیں ہو پارہا؟ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا کہ جس میں ردوبدل یا ترمیم نہ کی جاسکے۔ 1973ءکے آئین سے مفادات حاصل کرنے والی سیاسی جماعتیں یہ کہہ کر ڈراتی ہیں کہ اگر اس آئین کی بعض شقوں میں ردوبدل کیا گیا تو ملک میں بڑے فساد کا خطرہ ہے۔ اگر پارلیمنٹ کے اراکین کئی اہم ترامیم متفقہ طور پر منظور کرسکتے ہیں تو وہ گڈگورننس کے لیے اہم ترامیم بھی منظور کرسکتے ہیں۔ عوام آئین کے لیے نہیں ہوتے بلکہ آئین عوام کے لیے ہوتا ہے۔ 

مزیدخبریں